logo logo
AI Search

عدت وفات کے بعد بیوہ کا نکاح کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شوہر کے انتقال کے بعد عدت مکمل ہونے پرآگے نکاح کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا شوہر کا انتقال ہوتے ہی نکاح فورا ختم ہوجاتا ہے؟ عدت کے بعد عورت آگے شادی کرسکتی ہے؟ لوگ اسے معیوب سمجھتے ہیں، طعنے دیتے ہیں۔

جواب

شوہر کے انتقال سے نکاح فوراً ختم نہیں ہوجاتا، بلکہ بیوی پر عدتِ وفات لازم ہوتی ہے، اور جب تک وہ عدت میں رہتی ہے مِن وَجہٍ نکاح کا رشتہ باقی رہتا ہے، اسی وجہ سے وہ اس مدت میں کسی اور سے نکاح نہیں کر سکتی۔ البتہ! جب عورت اپنی عدتِ وفات مکمل کر لیتی ہے، تو اس کے بعد شرعی اعتبار سے نکاح کا رشتہ مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے، اور وہ اپنے مرحوم شوہر کے نکاح سے آزاد ہو جاتی ہے، اب بعد عدت جہاں چاہے شادی کر سکتی ہے، معاشرے میں اس کو معیوب سمجھنا بالکل غلط ہے، اور اس پر طعنے دینا بھی غلط ہے۔

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے

و النکاح بعد الموت باق الی أن تنقضی العدۃ بخلاف ما اذا ماتت

ترجمہ: اور نکاح شوہر کی موت کے بعد عدت پوری ہونے تک باقی رہتا ہے، بخلاف اس صورت کے کہ جب عورت فوت ہوجائے۔ (رد المحتار علی الدر المختار،ج 3، ص 106، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے جبکہ وفات شوہر کی عدت گزرگئی تو اب عورت کو نکاح جائز ہوگیا۔ (فتاوی رضویہ، ج 11، ص 429، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4868
تاریخ اجراء: 10 شوال المکرم 1447ھ / 30 مارچ 2026ء