logo logo
AI Search

میں نے قبول کیا کی جگہ آمین کہنے سے نکاح کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نکاح میں ”قبول کیا“ کی بجائے ”آمین“ کہنے سے نکاح کا حکم؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں امام صاحب جب نکاح پڑھاتے ہیں، تو ایجاب و قبول کرواتے ہوئے، قبول کروانے کے موقع پر ”قبول کیا“ کے الفاظ کی بجائے ”آمین“ کہلواتے ہیں، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا قبول کرتے ہوئے فقط ”آمین “ کہنے سے نکاح ہو جاتا ہے ؟

نوٹ: سائل نے معلومات دی کہ اس امام صاحب کو یہاں 16 سال ہو گئے ہیں، و ہ یوں ہی نکاح پڑھاتے ہیں اور لوگ بھی نکاح کو قبول کرنے کے لیے ان کے کہنے پر ”آمین“ ہی کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے نکاح ہوتا ہے۔

جواب

بیان کردہ صورت میں نکاح قبول کرنے کے لیے لفظِ ”آمین“ کہنے سے نکاح ہو جائے گا، جبکہ نکاح کی دیگر شرائط پائی جائیں۔

مسئلہ کی تفصیل:

() شریعتِ مطہرہ نے انعقادِ نکاح کے لیے کسی مخصوص لفظ کو لازم قرار نہیں دیا، بلکہ ہر اس کلمے سے نکاح کو درست تسلیم کیا ہے جس میں صراحتاً یا دلالتاً نکاح کو قبول کرنے کا معنیٰ پایا جائے اور گواہان بھی اس لفظ کے ذریعے نکاح کو قبول کرنا ہی سمجھیں۔

() آمین کہنے کو بہت سے علاقوں میں بطورِ محاورہ ”قبول کرنا، ماننا ، ہاں میں ہاں ملانا“ کے معنیٰ میں استعمال کیا جاتا ہے، یوں کہ جب یہ کہنا ہوتا ہے کہ ”ہمیں قبول ہے“ تو کہا جاتا ہے کہ ”ہماری طرف سے آمین ہے“ وغیرہ۔

() مزید یہ کہ مذکورہ علاقے میں بھی لفظِ ”آمین“ کو قبولیتِ نکاح کے معنیٰ میں سمجھا جاتا ہے، جیسا کہ سائل کا بیان ہے کہ عرصہ دراز سے وہاں کے مذکورہ امام صاحب ان الفاظ سے نکاح قبول کرواتے آ رہے ہیں اور لوگ بھی ایجاب و قبول کے وقت اس لفظ کو رضامندی اور قبولِ نکاح کے معنیٰ میں بولتے آ رہے ہیں، بلکہ مجلسِ نکاح میں موجود گواہان ایجاب و قبول کے وقت اس لفظ سے قبولِ نکاح ہی مراد لے رہے ہوتے ہیں، لہٰذا بیان کردہ صورت میں ایجاب و قبول کے وقت قبول کے لیے اگر فقط ”آمین“ کہا تب بھی نکاح ہو جائے گا۔

مذکورہ مسئلہ کے فقہی نظائر:

(1) فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے عورت کو کہا: ”میں اپنے آپ کو تمہارے نکاح میں دیتا ہوں“، عورت نے جواباً کہا: ”بالسمع و الطاعۃ“، تو نکاح ہو جائے گا۔

(2) اسی طرح اگر عورت نے مرد کو کہا: ”میں نے اپنا نکاح تم سے کر دیا“، مرد نے جواباً کہا: ”شاباش“، تو اگر طنزاً نہیں کہا، بلکہ قبول کی نیت سے کہا، تو نکاح درست ہو جائے گا۔

تنبیہ: مذکورہ بالا حکمِ شرعی نفسِ مسئلہ کا جواب تھا کہ اس سے نکاح ہو جائے گا، لیکن نکاح وغیرہ معاملات میں مسلمانوں میں معروف اور رائج طریقہ کے خلاف اپنی طرف سے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے لوگوں میں تشویش پیدا ہوسکتی ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ ایجاب و قبول کے لیے صریح اور واضح الفاظ ہی استعمال کیے جائیں۔

نکاح ہر اس لفظ سے منعقد ہو جاتا ہے، جو ملکیت کا فائدہ دے، چنانچہ فتح القدیر اور رد المحتار میں ہے، واللفظ للفتح: ”لما علمنا أن الملاحظ من جهة الشرع في ثبوت الانعقاد ولزوم حكمه جانب الرضا ...عدينا ثبوت الانعقاد ولزوم حكم العقد إلى ‌كل ‌لفظ ‌يفيد ‌ذلك بلا احتمال“ ترجمہ: جب ہم نے یہ جان لیا کہ شرعی لحاظ سے عقد کے منعقد ہونے اور حکم کے لازم ہونے میں اصل اعتبار رضامندی کا ہے، تو ہم نے عقد کے انعقاد اور عقد کے لازم ہونے کو ہر ایسے لفظ سے شمار کر لیا، جو بغیر کسی احتمال کے رضامندی پر دلالت کرے۔ (فتح القدیر، جلد 3، صفحہ 191، مطبوعہ بیروت)

بہارِ شریعت میں ہے: ”الفاظِ نکاح دو قسم ہیں: ایک صریح، یہ صرف دو لفظ ہیں۔ نکاح و تزوّج، باقی کنایہ ہیں۔ الفاظ کنایہ میں اُن لفظوں سے نکاح ہوسکتا ہے، جن سے خود شے مِلک میں آجاتی ہے، مثلاً ہبہ، تملیک، صدقہ، عطیہ، بیع، شرا، مگر ان میں قرینہ کی ضرورت ہے کہ گواہ اُسے نکاح سمجھیں۔“ (بھارِ شریعت، حصہ 7، صفحہ 8، 9، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ، کراچی)

آمین کہنے کو محاورتاً قبول کے معنیٰ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، چنانچہ فیروز اللغات میں ہے: ”آمین کہنا: (محاورہ) دعا مانگنے کے بعد لفظ آمین زبان پر لانا، یعنی خدا تعالیٰ قبول کرے، خدا یوں ہی کرے، قبول کرنا، ماننا۔ آمین کہنے والے: ہاں میں ہاں ملانے والے۔ “ (فیروز اللغات، صفحہ 31، مطبوعہ فیروز سنز)

قبولِ نکاح میں ”بالسمع و الطاعۃ“ کہا، تو نکاح ہو جائے گا، جیساکہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ”سئل نجم الدين عمن قال لامرأة خويشتن رابهز اردرم كابين بمن بزني دادي فقالت بالسمع والطاعة قال ينعقد النكاح ولو قالت سياس دارم لا ينعقد، لأن الأول إجابة والثاني وعد، كذا في المحيط“ ترجمہ: علامہ نجم الدین علیہ الرحمۃ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے عورت سے کہا: میں اپنے آپ کو تیرے نکاح میں دیتا ہوں، کیا تو نے مجھے قبول کیا؟ تو عورت نے جواباً کہا: ”بالسمع والطاعة“ یعنی میں نے سنا اور اطاعت کی۔ تو انہوں نے فرمایا: نکاح منعقد ہو جائے گا۔ لیکن اگر عورت نے یہ کہا: ”سیاس دارم“ یعنی میں چاہتی ہوں، رغبت رکھتی ہوں، تو نکاح منعقد نہیں ہوگا، کیونکہ پہلا جواب قبول کرنا ہے، جبکہ دوسرا محض وعدہ ہے، اسی طرح محیط میں ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد 1، صفحہ 271، مطبوعہ کوئٹہ)

نکاح کو قبول کرنے کی نیت سے ”شاباش“  کہا، تو نکاح ہو جائے گا، چنانچہ اسی میں ہے: ”امرأة قالت لرجل: زوجت نفسي منك فقال الرجل بخداوند كاري بذيرفتم يصح النكاح ولو لم يقل الرجل ذلك لكنه قال لها شاباش إن لم يقل بطريق الطنز يصح النكاح، كذا في الخلاصة“ ترجمہ: عورت نے مرد سے کہا: میں نے اپنے آپ کو تمہارے نکاح میں دے دیا، تو مرد نے کہا: ”بخداوند کاری بذیرفتم“ یعنی میں نے قبول کیا، تو نکاح صحیح ہو جائے گا۔ اور اگر مرد یہ (فارسی جملہ) نہ بھی کہے، بلکہ اس کے جواب میں ”شاباش“          کہہ دے، تب بھی نکاح صحیح ہو جائے گا، بشرطیکہ یہ طنز کے طور پر نہ کہا ہو، یونہی خلاصہ میں ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد 1، صفحہ 272، مطبوعہ کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9948
تاریخ اجراء: 07 ذیقعدۃ الحرام 1447 ھ/ 25 اپریل 2026 ء