logo logo
AI Search

مطلقہ اور اس کے سابقہ شوہر کی دوسری بیوی کی بیٹی کو نکاح میں جمع کرنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مطلقہ عورت اور اس کے سابقہ شوہر کی دوسری بیوی کی بیٹی کو نکاح میں جمع کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک عورت کا نام آمنہ ہے، اور دوسری کا نام عائشہ ہے۔ ان دونوں کا نکاح علی سے ہوا۔ علی نے عائشہ کو طلاق دے دی، اور آمنہ سے ایک بیٹی پیدا ہوئی، جس کا نام فاطمہ ہے۔ پھر عائشہ نے بکر سے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد بکر نے دوسری شادی فاطمہ سے کر لی، جبکہ عائشہ پہلے فاطمہ کے باپ (علی) کے نکاح میں رہ چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بکر ان دونوں (عائشہ اور فاطمہ) کو، ایک ہی وقت میں اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے؟ اور اگر عائشہ اور فاطمہ میں سے کسی ایک کو مرد فرض کیا جائے، تو کیا ان دونوں کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہے؟ براہِ کرم اس کا جواب ارشاد فرما دیں۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں بکر کا عائشہ اور فاطمہ دونوں کو بیک وقت نکاح میں رکھنا، جائز ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ:

"دو عورتوں میں اگر ایسا رشتہ پایا جائے کہ ایک کو مرد فرض کریں، تو دوسری اس کے ليے حرام ہو اور دوسری کومرد فرض کریں تو پہلی حرام نہ ہو تو ایسی دو عورتوں كونكاح میں جمع کرنا جائزہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے کہ اگر فاطمہ کو مرد فرض کریں تو عائشہ اس پر حرام ہوگی، کہ اس کی سوتیلی ماں ہوئی، اور اگر عائشہ کو مرد فرض کریں، تو فاطمہ سے اس کا کوئی رشتہ نہیں بنے گا۔ "

عورت اور اس کے شوہر کی بیٹی کو نکاح میں جمع کرنے کے جائز ہونے کے متعلق درمختارمیں ہے: ”فجاز الجمع بين امرأة وبنت زوجها۔۔۔ لأنه لو فرضت المرأة۔۔۔ذكرا لم يحرم بخلاف عكسه“ ترجمہ: پس عورت اور اس کے (سابقہ) شوہر کی بیٹی (سوتیلی بیٹی)کو نکاح میں جمع کرنا جائز ہے؛ کیونکہ اگر عورت کو مرد فرض کیا جائے تو اس کا نکاح (سوتیلی بیٹی سے) حرام نہیں ہوگا، برخلاف اس کے عکس کے۔

عبارت میں ذکرکردہ الفاظ " بخلاف عكسه"کے تحت رد المحتار میں علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”(وقوله: بخلاف عكسه) هو ما إذا فرضت بنت الزوج۔۔۔ ذكرا حيث تحرم الأخرى لأنه۔۔۔ يصير ابن الزوج فلا تحل له موطوءة أبيه“ ترجمہ: مصنف کے قول: برخلاف اس کے عکس کے، کا مطلب یہ ہے کہ جب شوہر کی بیٹی کو مرد فرض کیا جائے، تو اس کا نکاح دوسری عورت (اپنی سوتیلی ماں) سے حرام ہوگا؛ کیونکہ اس صورت میں یہ شوہر کا بیٹا بن جائے گا، تو اپنے باپ کی مدخولہ سے اس کا نکاح جائز نہیں ہوگا۔ (رد المحتارعلی الدر المختار، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، جلد4، صفحہ123، 124، ملتقطا، مطبوعہ: کوئٹہ)

مذکورہ بالا اصول کو بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں ارشاد فرماتے ہیں: "دو عورتوں میں اگر ایسا رشتہ پایا جائے کہ ایک کو مرد فرض کریں تو دوسری اس کے ليے حرام ہو اور دوسری کومرد فرض کریں تو پہلی حرام نہ ہو تو ایسی دو عورتوں کے جمع کرنے میں حرج نہیں، مثلاً عورت اور اس کے شوہر کی لڑکی کہ اس لڑکی کو مرد فرض کریں تو وہ عورت اس پر حرام ہوگی، کہ اس کی سوتیلی ماں ہوئی اور عورت کو مرد فرض کریں تولڑکی سے کوئی رشتہ پیدا نہ ہو گا۔" (بہارشریعت، جلد 2، حصہ 7، صفحہ 27، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4930
تاریخ اجراء:02 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/20 اپریل 2026ء