logo logo
AI Search

چاند کی پہلی تین تاریخوں میں نکاح کرسکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

چاند کی پہلی تین تاریخوں میں نکاح کرنے کا شرعی حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا چاند کی پہلی تین تاریخوں میں نکاح کرسکتے ہیں؟

جواب

جی ہاں! چاند کی پہلی تین تاریخوں میں بھی نکاح کر سکتے ہیں، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ شریعتِ مطہرہ نے کسی مہینے، موسم یا دن میں نکاح کرنے سے منع نہیں فرمایا، نیز کسی مہینے، موسم یا تاریخ کو نکاح کے لیے اچھا نہ سمجھنا، باطل و بے اصل اور بدشگونی ہے اور کسی چیز سے بدشگونی لینا شرعاً منع ہے۔ لہذا دیگر تاریخوں کی طرح چاند کی پہلی تاریخوں میں بھی نکاح کرنا شرعاً جائز و درست ہے۔

اہلِ عرب شوال میں نکاح کرنے کو منحوس خیال کرتے تھے جس کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:

”تزوجنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی شوال، وبنٰی بی فی شوال، فای نساء رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کان احظیٰ عندہ منی؟“

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے نکاح بھی شوال میں کیا اور زفاف بھی شوال میں، تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیوی مجھ سے زیادہ محبوبہ تھی۔ (صحیح مسلم، صفحہ 529، حدیث: 1423، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: ”اہل عرب شوال کے مہینہ میں نکاح یا رخصتی منحوس جانتے تھے اور کہتے تھے کہ اس مہینہ کا نکاح کامیاب نہیں ہوتا میاں بیوی کے دل نہیں ملتے۔کہتے تھے کہ شوال بنا ہے شول سے جس کے معنی ہیں مٹانا دور کرنا، زمین پر کھینچنا آپ ان کے اس خیال کی تردید فرمارہی ہیں۔۔۔مقصد یہ ہے کہ میرا تو نکاح بھی ماہ شوال میں ہوا اور رخصتی بھی اور میں تمام ازواج مطہرات میں حضور کو زیادہ محبوبہ تھی، اگر یہ نکاح اور رخصت مبارک نہ ہوتی تو میں اتنی مقبول کیوں ہوتی۔“ (مراۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 32، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سُوال ہوا ”اکثر لوگ 3، 13،  23، یا 8، 18، 28 وغیرہ تواریخ اور پنجشنبہ ویکشنبہ وچہارشنبہ(یعنی جمعرات، اتوار اور بدھ) وغیرہ ایام کو شادی وغیرہ نہیں کرتے۔ اِعتقاد یہ ہے کہ سَخْت نقصان پہنچے گا ان کا کیا حکم ہے؟“ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ”یہ سب باطِل و بے اصل ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ  272، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

امام اہل سنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ”نکاح کسی مہینے میں منع نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 265، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ”نکاح ہر دن جائز ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 241، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے بد فالی لینے والوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ”لیس منا من تطیر “ یعنی: جس نے بد شگونی لی وہ ہم میں سے نہیں(یعنی ہمارے طریقے پر نہیں)۔ (المعجم الکبیر، جلد 18، صفحہ 162، حدیث: 355، مطبوعہ: القاھرۃ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4771
تاریخ اجراء: 06 رمضان المبارک1447ھ/24 فروری 2026ء