نکاح نامے کی شرائط، طلاق پر جرمانہ اور مہر کی وضاحت
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نکاح فارم میں شرائط کے کالمز میں درج اشیاء بھی مہر میں شامل ہیں ؟ نیز طلاق کی شرط پر جرمانے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نکاح نامہ متعدد کالمز پر مشتمل ہوتا ہے۔ کیا ان تمام کالمز میں درج رُقوم، سونا، چاندی وغیرہ سب کو جمع کر کے مہر شمار کیا جائے گا ؟ نکاح نامے میں اگر خاص شرائط والے کالم میں طلاق دینے کی صورت میں رقم، سونا، چاندی کی ادائیگی بطور شرط لکھی گئی ہو، تو کیا وہ بھی مہر کا حصہ ہوگی اور کیا شرعی اعتبار سے طلاق کے بعد شوہر اُسے ادا کرنے کا پابند ہوگا یا نہیں؟ رہنمائی فرمادیں۔
جواب
شرعی اعتبار سے مہر وہ مال ہے، جو شوہر پر عقدِ نکاح کے ذریعے حقِ زوجیت سے فائدہ اٹھانے کے بدلے واجب ہوتا ہے۔ عقدِ نکاح کے وقت جب مہر کی کوئی مقدار طے کر لی جائے اور وہ کم از کم مقدارِ شرعی (دس درہم یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی (30 گرام 618 ملی گرام)، یا اس کی قیمت) کے برابر یا اس سے زائد ہو اور وہ معلوم و متعین بھی ہو، تو وہی مقدار بطورِ مہر لازم ہوتی ہے۔ اس کے بعد نہ تو مرد کو اس مقررہ مہر سے کم ادا کرنے کا اختیار ہوتا ہے، اور نہ ہی عورت اس سے زیادہ کی مستحق ہوتی ہے، سوائے اس کے کہ شوہر خود اس سے زائد ادا کرنے پر راضی ہو۔
اس مختصر تمہید کے بعد جواب یہ ہے کہ عقدِ نکاح میں فریقین باہمی رضامندی سے جتنا اور جس نوعیت کا مہر مقرر کرتے ہیں، عام طور پر وہی قانونی طور پر نکاح نامے میں درج کر دیا جاتا ہے۔ نکاح نامے میں مہر کے لیے ایک مستقل کالم مخصوص ہوتا ہے (عموماً یہ کالم نمبر 13 تا 16 تک ہوتا ہے)، جس میں مہر کی مقدار، اُس کا معجل یا مؤجل ہونا، ادا شدہ حصہ اور اگر حق مہر کے بدلے کوئی جائیداد وغیرہ ہو تو اُس کی مکمل تفصیل اور قیمت لکھی جاتی ہے۔ شرعی اعتبار سے مہر کی جو مقدار آپس میں طے ہو اور نکاح نامے میں موجود خاص مہر کے کالمز میں لکھ دی گئی ہو، وہی شرعاً مہر قرار پائے گی۔ نکاح نامے میں درج تمام اشیاء کو مہر قرار دینا شرعاً ہرگز درست نہیں۔ لہذا نکاح نامے کے دیگر کالمز میں اگر طلاق دینے پر بطورِ شرط کوئی رقم، سونا، چاندی یا جائیداد وغیرہ درج کی گئی ہو، تو وہ ہرگز مہر کا حصہ نہیں ہوگی، بلکہ اس کی شرعی حیثیت مالی جرمانے کی ہے جو کہ باطل طریقے سے دوسرے کا مال کھانا ہے اور شرعاً ناجائز و حرام اور گناہ ہے۔ نکاح نامے میں اس طرح کی لگائی جانے والی شرائط کی حیثیت محض شرطِ فاسد کی ہوتی ہےجس کا کوئی اعتبار نہیں، لہذا طلاق ہونے کی صورت میں شوہر پر اُس کی ادائیگی کسی صورت لازم نہیں ہوگی۔ اس طرح کی شرطِ فاسد سے نکاح پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا، نکاح درست ہوتا ہے اور شرط باطل ہوتی ہے، البتہ یہ ممکن ہے کہ مہر کی رقم کے دو حصے کرلئے جائیں، ایک حصہ فوری ادائیگی کا جسے مہر معجل کہتے ہیں اور دوسرا حصہ، طلاق کے وقت ادائیگی کا، جو مہر موجل کہلائے گا۔ پھر مہر موجل میں رقم کی مقدار کم یا زیادہ جتنی چاہیں رکھ سکتے ہیں اور وہ طلاق کی صورت میں شوہر پر لازم ہوگا کہ اپنی بیوی کو دے۔
مہر کی تعریف بیان کرتے ہوئے علامہ اكمل الدين محمد بن محمد بابرتی رحمۃ اللہ علیہ ’’العنایہ شرح الھدایہ‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’والمهر هو المال يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة منافع البضع، إما بالتسمية أو بالعقد. وله أسام: المهر، والصداق، والنحلة، والأجر، والفريضة‘‘ ترجمہ: اور مہر وہ مال ہے جو عقد نکاح میں شوہر پر عورت کے نفعِ زوجیت (ہم بستری کے حق) کے بدلے واجب ہوتا ہے، خواہ وہ مہر نامزد کر کے مقرر کیا گیا ہو، یا خود عقدِ نکاح کے ذریعے لازم ہو جائے۔ اس کے مختلف نام ہیں: مہر، صداق، نحلہ، اجر اور فریضہ۔ (العنایہ شرح الھدایۃ، جلد 3، صفحہ 316، دارالمعرفۃ، بیروت)
طے شدہ مہر اگر دس درہم یا اس کی مقدار کے برابریا زائد ہو تو عورت اُسی کی حقدار ہوگی، اس سے زیادہ کی نہیں، چنانچہ النتف فی الفتاوی میں ہے: ’’فاما المعلوم فهو ان يتزوجها على احد المقدرات وزنا وكيلا وعددا ودراعا اذا كان معينا او على شيء من العقار او الحيوان او العروض اذا كان معينا فانه جائز وليس لها غير المسمى‘‘ ترجمہ: بہرحال معلوم مہریہ ہے کہ مرد، عورت سے وزن، کیل، عدد، ذراع میں سے کسی مقدار پر نکاح کرے، بشرطیکہ وہ معین ہو، یا کسی جائیداد، جانور یا سامان میں سے کسی پر عقد نکاح کرے جبکہ وہ معین ہوں، تو یہ جائز ہے اور عورت کیلئے بیان کردہ مہر کی مقدار سے زیادہ کا حق نہیں۔ (النتف فی الفتاوی، جلد 1، صفحہ 297، مؤسسة الرسالة - بيروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے: ’’(ثم الأصل) في التسمية أنها إن صحت وتقررت يجب المسمى ثم ينظر إن كان المسمى عشرة فصاعدا؛ فليس لها إلا ذلك، وإن كان دون العشرة يكمل عشرة عند أصحابنا الثلاثة‘‘ ترجمہ: پھر مہر کے ذکر میں اصل یہ ہے کہ اگر صحیح طور پر ہو جائے اور مقرر ہو جائے تو وہی طے شدہ مہر واجب ہو جاتا ہے۔ پھر دیکھا جائے گا کہ اگر مقرر کیا ہوا مہر دس (درہم، یا اس کی مقدار کے برابر) یا اس سے زیادہ ہو تو عورت کو صرف وہی ملے گا، اور اگر مقرر شدہ مہر دس (درہم، یا اس کی مقدار) سے کم ہو تو ہمارے تینوں اصحاب(امام اعظم، امام ابو یوسف اور امام محمد علیہم الرحمۃ) کے نزدیک اسے پورا کر کے دس (درہم یا اس کی مقدار) تک مکمل کیا جائے گا۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 303، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
باطل طریقے سے دوسرے کا مال کھانے کی ممانعت سے متعلق قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہے: ’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ البتہ یہ (ہو) کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔ (پارہ 5، سورۃ النساء: 29)
اس آیت کے تحت تفسیر ابی السعود میں ہے’’والمراد بالباطل ما یخالف الشرع، کالغصب، والسرقۃ، والخیانۃ، والقمار، وعقود الربا، وغیر ذلک مما لم یبحہ الشرع، ای لایاکل بعضکم اموال بعض بغیر طریق شرعی‘‘ ترجمہ: (مذکورہ آیت میں باطل سے مراد) ہر وہ طریقہ ہے جو شریعت کے مخالف ہو جیسے، غصب، چوری، خیانت جوئے، سودی لین دین، اور اس کے علاوہ ہر اس طریقے سے مال حاصل کرنا جس کو شریعت نے حرام قراردیا ہو، (آیت کامعنی یہ ہےکہ) تم میں کوئی بھی کسی کا مال شرعی طریقے کے بغیر حاصل نہ کرے۔ (تفسیر ابی السعود، جلد 2، صفحہ 170، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
بغیر کسی شرعی سبب کے مسلمان کا مال لینا شرعاً جائز نہیں، یونہی مالی جرمانہ منسوخ ہے اور شرعاً جائز نہیں، چنانچہ بحرالرائق میں ہے: ’’لايجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي۔۔۔و في شرح الآثار التعزير بالمال كان في ابتداء الاسلام ثم نسخ . و الحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال‘‘ ترجمہ: کسی مسلمان کے لئے، کسی دوسرے مسلمان کا مال بغیر کسی شرعی سبب کے لینا جائز نہیں۔۔۔اور "شرح الآثار" میں ہے کہ مال کے ذریعے تعزیر (یعنی مالی سزا) اسلام کے ابتدائی دور میں تھی، پھر اُسے منسوخ کر دیا گیا۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ (فقہِ حنفی کے) مذہب کے مطابق مال لے کر تعزیر (سزا) جائز نہیں۔ (بحر الرائق، جلد 5، صفحہ 44، دار الكتاب الإسلامي، بیروت)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: ’’تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔ در مختار میں ہے: ’’لا باخذ مال فی المذھب‘‘ ترجمہ: مالی جرمانہ مذہب کی رو سے جائز نہیں ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 5، صفحہ 111، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
شرط فاسد سے نکاح باطل نہیں ہوتا، ہاں شرط باطل ہوجاتی ہے، چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ’’(لا يبطل) النكاح (بالشرط الفاسد و) إنما (يبطل الشرط دونه) يعني لو عقد مع شرط فاسد لم يبطل النكاح بل الشرط‘‘ ترجمہ: نکاح شرطِ فاسد سے باطل نہیں ہوتا، ہاں شرط ِفاسد باطل ہوتی ہے، نہ کہ نکاح، یعنی اگر کسی نے شرطِ فاسد کے ساتھ عقدِ نکاح کیا، تو نکاح باطل نہیں ہوگا، بلکہ شرط باطل قرار پائے گی۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 4، صفحہ 146، دار المعرفۃ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1170
تاریخ اجراء: 04 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 23 اپریل 2026ء