والد کے ماموں زاد بھائی سے نکاح کرنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
والد کے ماموں زاد بھائی سے نکاح کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا میں اپنے سگے ماموں کے بیٹے سے اپنی بیٹی کی شادی کر سکتا ہوں؟
جواب
چچا، تایا اور ماموں وغیرہ کی اولاد کو عام بول چال میں بھائی بہن کہا جاتا ہے، لیکن اس سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی اور نسب کے لحاظ سے یہ بھائی، بہن نہیں بن جاتے، کہ ان سے بھی نکاح کی حرمت کے احکام لاگو ہوں، بلکہ یہ ایک دوسرے کے لیے شرعاً نامحرم ہی ہوتے ہیں، اور ان سےاور ان کی اولاد سے نکاح ہوسکتا ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ اپنی بیٹی کا نکاح اپنے ماموں زاد بھائی سے کرسکتے ہیں، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ مثلا: رضاعت (دودھ کا رشتہ)، اور مصاہرت (سسرالی رشتہ) وغیرہ نہ ہو۔
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: "اپنے حقیقی چچا کی بیٹی یا چچا زاد بھائی کی بیٹی یا غیر حقیقی دادا کی اگرچہ وہ حقیقی دادا کا حقیقی بھائی ہو، اور رشتے کی بہن جو ماں میں ایک نہ باپ میں شریک نہ باہم علاقہ رضاعت جیسے ماموں خالہ پھوپھی کی بیٹیاں، یہ سب عورتیں شرعاً حلال ہیں، جبکہ کوئی مانع نکاح مثل رضاعت و مصاہرت قائم نہ ہو۔" (فتاوی رضویہ، ج 11، ص 413، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک اور مقام پر آپ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: "دو بھائی حقیقی ہوں خواہ عم زادہ، ان میں ہر ایک کی اولاد دوسرے کی اولاد پر قطعاً یقینا باجماع امت جائز و حلال ہے، چچا ماموں خالہ پھوپھی کی اولاد کو بہن بھائی کہنا ایک مجازی بات ہے جسے ہر گز آیہ کریمہ محارم کے کلمات "اخوٰتکم" یا "بنت الاخ و بنت الاخت" (تمہاری بہنیں یا تمہاری بھتیجیاں اور بھانجیاں) کسی اسلامی مذہب میں شامل نہیں۔" (فتاوی رضویہ، ج 11، ص 430، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4969
تاریخ اجراء: 12 ذو القعدۃ الحرام1447ھ/30 اپریل 2026ء