logo logo
AI Search

میاں بیوی آٹھ سال الگ رہیں تو کیا نکاح ختم ہو جاتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

میاں بیوی آٹھ سال ایک دوسرے سے الگ ہوں ، تو کیا طلاق ہوجائے گی؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا اگر میاں بیوی آٹھ سال سے الگ ہوں تو طلاق خود بخود واقع ہو جائے گی؟

جواب

جب تک شوہر بیوی کو خود زبانی یا تحریری طلاق نہ دے یا دونوں میاں بیوی آپس میں خلع نہ کرلیں تب تک میاں بیوی کا نکاح قائم رہتا ہے، یعنی میاں بیوی میں جدائی خواہ کتنی ہی لمبی اور کتنے ہی سالوں پر محیط کیوں نہ ہو اس کا نکاح پر کچھ اثر نہیں پڑتا، نہ اس سے خود بخود نکاح ختم ہوتا ہے ،بلکہ نکاح بدستور باقی رہتا ہے جب تک شوہر طلاق یا خلع نہ دے یا فسخ نکاح کی قابل قبول کوئی صورت نہ پائی جائے ۔بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ میاں بیوی اتنا عرصہ دور رہیں تو طلاق خود بخود ہو جاتی ہے ،یہ سراسر غلط ہے۔

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد خلیل خان بر کاتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ”فتاویٰ خلیلیہ“ میں فرماتے ہیں :’’کسی مجبوری وضروت کے ما تحت یا بلا ضرورت عورت سے دور رہا تو محض اس دوری سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔‘‘(مزید اسی میں ہے) ’’عورت کے گھر بیٹھ جانے سے نہ تو نکاح ختم ہوتا ہے اور نہ طلاق پڑتی ہے ،نکاح و مہر بدستور قائم رہتا ہے اور جب نکاح باقی ہے تو اس صورت میں عورت کہیں اور نکاح نہیں کر سکتی۔‘‘(فتاوی خلیلیہ،ج3،ص155،173،مطبوعہ: ضیاء القرآن ،لاہور)

واللہ اعلم و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم

مجیب:مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2379

تاریخ اجرا: 03صفرالمظفر1447ھ/29جولائی2025ء