logo logo
AI Search

شادی کی رات دو نفل پڑھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شادی کی پہلی رات دو نفل پڑھنے کا شرعی حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگوں سے سنا ہے کہ شادی کی پہلی رات دو نفل پڑھنے چاہیے۔ اس سے رشتے میں خیر و برکت اور نئی زندگی کا اچھا آغاز ہوتا ہے کیا اِس کی کوئی اصل موجود ہے؟

جواب

نماز باعثِ برکت، سببِ نزولِ رحمت، ذریعہِ سکونِ قلب اور حصارِ عافیت ہے۔ اِس کی برکات و ثمرات سے قطعاً انکار ممکن نہیں۔ شادی کی پہلی رات یا زندگی میں کسی بھی وقت کہ جب شریعت اجازت دے، اُس وقت بارگاہِ الہی میں حاضر ہونا یقیناً بہت بڑی سعادت مندی اور خیر وفلاح کی بات ہے۔ اِن تمام برکات کو سامنے رکھتے ہوئے اگر کوئی شخص خیر و برکت اور نئی زندگی کے آغاز پر اچھا شگون لینے کے لیے دو رکعت نفل ادا کرے تو ان شاء اللہ اِس کی برکتیں ضرور ظاہر و حاصل ہوں گی۔

شادی کی پہلی رات پڑھی جانے والی نماز کی خیر القرون سے اصل بھی ثابت ہے، چنانچہ ایک تابعی حضرت ابو سعید رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی شادی کے موقع پر صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم کو مدعو کیا۔ جن میں حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت ابو ذر اور حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم شامل تھے۔ اِن صحابہ کرام نے اُن دولہا تابعی کی تربیت کرتے ہوئے فرمایا: إذاُ دخل ‌عليك ‌أهلُك فصل ركعتين ثم سل اللہ من خير ما دخل عليك، ثم تعوذ به من شره، ثم شأنك وشأن أهلك۔ ترجمہ: جب تمہاری بیوی تمہارے پاس لائی جائے تو دو رکعت نماز پڑھو، پھر اللہ تعالیٰ سے اُس گھر آئی دلہن کے متعلق بھلائی کا سوال کرو اور اس کے شر سے پناہ مانگو، پھر تمہارا اور تمہاری بیوی کا معاملہ ہے۔ (المصنف لابن أبي شيبة، جلد 16، صفحہ 324، مطبوعہ مکتبۃ الرشد)

یونہی ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آیا اور عرض کی: أني تزوجت جارية شابة وإني أخاف أن تفركني قال: فقال عبد اللہ: إن الألف من اللہ والفرك من الشيطان، يريد أن يكره إليكم ما أحل اللہ لكم، فإذا أتتك فأمرها أن تصلي وراءك ركعتين۔ ترجمہ: میں نے ایک جوان لڑکی سے شادی کی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھ سے نفرت نہ کرنے لگے۔ عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہما نے فرمایا: محبت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور نفرت شیطان کی طرف سے تاکہ وہ اس چیز کو ناپسندیدہ بنا دے جو اللہ نے حلال کی ہے۔ لہٰذا جب تمہاری بیوی تمہارے پاس آئے تو اسے کہنا کہ وہ تمہارے پیچھے دو رکعت نماز پڑھے۔ (المصنف لابن أبي شيبة، جلد 09، صفحہ 479، مطبوعہ مکتبۃ الرشد)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9921
تاریخ اجراء: 25 شوال المکرم 1447ھ/ 14 اپریل 2026 ء