logo logo
AI Search

نکاح کا خطبہ کب اور کیسے پڑھیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نکاح کا خطبہ بیٹھ کر پڑھنے اور نکاح سے پہلے خطبہ دینے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

(1)نکاح کا خطبہ بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے، یا کھڑے ہو کر ہی پڑھنا ضروری ہے؟ (2) اگر خطبہ کوئی اور پڑھے، اور نکاح کوئی دوسرا پڑھائے، تو کیا یہ درست ہے؟ (3) نیز کیا نکاح سے پہلے ہی خطبہ دینا لازمی ہے؟ اگر بعد میں دے دیا تو کیا حکم ہوگا؟

جواب

پوچھے گئے سوالات کے ترتیب وار جوابات درج ذیل ہیں:

(1) نکاح کا خطبہ بھی کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے؛ کیونکہ قیام سے آواز دور تک پہنچتی ہے، اور حاضرین کی توجہ بھی زیادہ رہتی ہے۔ تاہم! نفلی خطبے بیٹھ کر پڑھنا بھی ثابت ہے، اور نکاح کا خطبہ بھی نفلی خطبہ ہے، اس لیے اسے بیٹھ کر پڑھنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ امام اہل سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) سے سوال ہوا: ”خطبہ نکاح کا کھڑے ہو کر پڑھنا چاہیے یا بیٹھ کر، اور کس طریقہ سے مسنون ہے؟“ تو جواباً ارشاد فرمایا: ”اگرچہ خطبہ میں مطلقاً افضل قیام ہے کہ آواز بھی دور پہنچتی ہے اور باعث توجہ حاضرین بھی ہوتا ہے، اور اس امر میں سب خطبے مشترک ہیں، ہاں جو خطبہ سواری پر ہوتا ہے جیسے خطبہ عرفہ، وہاں قیام مرکب قائم مقام قیام راکب ہے، مگر خطبِ نافلہ بیٹھ کر بھی ثابت ہیں۔ ابن جریر عن سماک بن حرب قال سمعت معرورا او ابن معرور التمیمی قال سمعت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ وصعد المنبر قعد دون مقعد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بمقعدین فقال اوصیکم بتقوی اللہ واسمعوا واطیعوا من ولاہ اللہ تعالی امرکم (ابن جریر نے سماک بن حرب سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: میں نے معرور یا ابن معرور تمیمی سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا، جبکہ آپ منبر پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نشست گاہ سے دو سیڑھیاں نیچے تشریف فرما ہوئے، تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے (خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے تقوی کی وصیت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے امور کے بنائے ہوئے والی کی اطاعت و سمع اختیار کرو۔) اور خطبہ نکاح نفل ہی ہے تو بیٹھ کر بھی مضائقہ نہیں۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 222، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”(خطبہ نکاح) کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے اور قبلہ رو ہونا کچھ ضرور نہیں، سامعین کی طرف منہ ہونا چاہیے۔“ (ملفوظات اعلی حضرت، حصہ 3، صفحہ 345، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

(2) اگر ایک شخص خطبہ پڑھے، اور دوسرا نکاح پڑھائے یعنی ایجاب و قبول کروائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں، اگر دیگر شرائط پائی جائیں تو شرعاً نکاح ہو جائے گا؛ کیونکہ نکاح خواں اور خطیب کا ایک ہونا، نکاح کی شرائط میں سے نہیں ہے، بلکہ خود خطبہ بھی نکاح کی شرائط میں سے نہیں ہے۔ الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے: ”يستحب أن يخطب العاقد أو غيره من الحاضرين خطبة واحدة بين يدي العقد“ ترجمہ: مستحب ہے کہ عاقد (نکاح کرنے والا) یا حاضرین میں سے کوئی اور شخص عقد سے پہلے ایک خطبہ دے۔ (الموسوعة الفقهية الكويتية، جلد 19، صفحہ 189، دارالسلاسل، الكويت)

فتاوی رضویہ میں ہے ”خطبہ پڑھا جانا یا ذکر مہر ہونا کچھ شرط نکاح نہیں، وہ مجلس اگر عقد کے لیے تھی عقد ہو گیا...الفاظ ایجاب و قبول ہونا اور دو شاہدوں کا سمجھنا کہ یہ نکاح ہو رہا ہے کافی ہے۔“  (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 259، ملتقطاً، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

(3) مستحب طریقہ یہی ہے کہ نکاح کا خطبہ ایجاب و قبول سے پہلے پڑھا جائے، لیکن اگر نکاح کے بعد خطبہ پڑھا جاتا ہے، تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اور نکاح ہو جائے گا، البتہ ایسا کرنا خلاف اولیٰ ہے۔ علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1088ھ/1677ء) لکھتے ہیں: ”ويندب إعلانه وتقديم خطبة“ ترجمہ: اور نکاح کا اعلان کرنا اور خطبے کو مقدم کرنا (یعنی پہلے پڑھنا) مستحب ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح، جلد 4، صفحہ 75، مطبوعہ: کوئٹہ)

علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں: ”وترك المستحب خلاف الأولى دائما“ ترجمہ: اور مستحب کا ترک کرنا ہمیشہ خلافِ اولیٰ ہوتا ہے۔ (منحة الخالق علی البحر الرائق، کتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، جلد 2، صفحہ 35، دار الكتاب الإسلامي)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”نکاح میں یہ امور مستحب ہیں: علانیہ ہونا، نکاح سے پہلے خطبہ پڑھنا، کوئی سا خطبہ ہو اور بہتر وہ ہے جو حدیث میں وارد ہوا۔“ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 7، صفحہ 5، مکتبة المدینة، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4992
تاریخ اجراء: 21 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 09 مئی 2026ء