logo logo
AI Search

فاسق شخص نکاح میں گواہ بن سکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فاسقوں کا نکاح میں گواہ بننا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فاسقوں کی گواہی نکاح میں درست مانی جائے گی؟

جواب

یہ یاد رہے! کہ گواہ بننا، اور گواہی دینا، یہ دو مختلف چیزیں ہیں، لہذا اگر نکاح کے گواہ، فاسق ہوں، تو دیگر شرائط پائے جانے پر نکاح درست ہو جائے گا۔ البتہ! اگر نکاح کرنے والوں میں سے کوئی انکار کر دیتا ہے، کہ ہمارا نکاح ہوا ہی نہیں ہے، تو اس صورت میں قاضی کے پاس نکاح ثابت کرنے میں، فاسق کی گواہی مقبول نہیں ہوگی۔

چنانچہ الدر المختار میں ہے "(وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما. (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف" ترجمہ: "(نکاح کے لیے)عقد کرنے والوں میں سے ہر ایک کا دوسرے کے لفظ سننا شرط ہے تاکہ دونوں کی رضا ثابت ہو جائے، اور مسلمان عورت کے نکاح کے لیے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں مسلمان، آزاد، مکلف گواہوں کا ہونا بھی شرط ہے جو کہ صحیح قول کے مطابق ان دونوں (عقد کرنے والے) کا قول بیک وقت سننے والے ہوں اور اصل مذہب کے مطابق نکاح کے ہونے کو سمجھنے والے ہوں اگرچہ وہ فاسق یا تہمت کی وجہ سے حد قذف لگے ہوں۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے ”اعلم أن النكاح له حكمان: حكم الانعقاد، وحكم الإظهار، فالأول ما ذكره والثاني إنما يكون عند التجاحد، فلا يقبل في الإظهار إلا شهادة من تقبل شهادته في سائر الأحكام كما في شرح الطحاوي فلذا انعقد بحضور الفاسقين والأعميين والمحدودين في قذف، وإن لم يتوبا وابني العاقدين، وإن لم يقبل أداؤهم عند القاضي“ ترجمہ: جان لو کہ نکاح کے اس اعتبار سے دو حکم بنتے ہیں: اول وہ جس کا اوپر ذکر ہوا ہے، اور دوسرا یہ کہ گواہی دینا انکار کے وقت ہو تو اس میں اسی کی گواہی قبول ہو گی جس کی گواہی دیگر سارے احکام میں قبول ہوتی ہے جیسا کہ شرح الطحاوی وغیرہ میں ہے۔ اسی وجہ سے دو فاسق یا اندھوں یا حد قذف والوں کی موجودگی میں نکاح منعقد ہو جائے گا اگرچہ انہوں نے توبہ نہ کی، بلکہ عاقدین کے بیٹوں کی موجودگی میں بھی نکاح ہو جائے گاا گرچہ قاضی کے پاس ان کا گواہی دینا قبول نہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 04، صفحہ 97 تا 100، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "نکاح کے گواہ فاسق ہوں یا اندھے یا اُن پر تہمت کی حد لگائی گئی ہو تو ان کی گواہی سے نکاح منعقد ہو جائے گا، مگر عاقدین میں سے اگر کوئی انکار کر بیٹھے تو ان کی شہادت سے نکاح ثابت نہ ہوگا۔" (بہارشریعت، جلد 2، حصہ 7، صفحہ 13، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4989
تاریخ اجراء: 21 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 09 مئی 2026ء