دس درہم سے کم مہر والا نکاح پڑھانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دس درہم سے کم مہر پر نکاح پڑھانے والا گنہگار ہوگا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ دس درہم ( یعنی دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی کی مالیت) سے کم حق مہر مقرر کرنا شرعاً کیسا ہے؟ پوچھنے کا مقصد یہ ہے کہ آج کل چاندی کی قیمتوں میں بہت زیادہ فرق آگیا ہے، جس وجہ سے لوگ دس درہم (دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی) کی قیمت سے بھی کم مہر رکھتے ہیں اور میں نکاح بھی پڑھاتا ہوں، تو اگر نکاح والے فریقین مجھے مہر کی کم سے کم مقدار سے بھی کم حق مہر لکھنے کا کہیں، تو کیا میرے لیے یہ لکھنا اور اس مہر کو طے کرتے ہوئے نکاح پڑھانا، جائز ہوگا؟
جواب
نکاح کے فریقین کے لیے دس درہم ( دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی یا اس کی قیمت) سے کم مہر مقرر کرنا ناجائز و گناہ ہے ، اسی طرح نکاح فارم پر دس درہم سے کم مہر لکھنا نکاح خواں کے لیے بھی ناجائز و گناہ ہے۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم (یعنی دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی) یا اس کی قیمت اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے، دس درہم سے زیادہ مہر رکھنا عورت کا حق ہے کہ عورت اپنی رضا مندی و خوشی سے دس درہم سے زیادہ مہر نہ رکھنا چاہے، تو اسے اختیار ہے ، لیکن کم از کم مقدار یعنی دس درہم کے برابر مہر، یہ عورت کا حق نہیں ہے ، بلکہ نکاح کی حرمت کے پیشِ نظر ، یہ شریعت اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا حق ہے ، عورت اس میں کمی نہیں کر سکتی ہے، ہاں حق ثابت ہوجانے کے بعد اس کو لینا، نہ لینا عورت کا اختیار ہے کہ وہ بعد میں معاف کر سکتی ہے ، لیکن اس حق کو ثابت کرتے ہوئے دس درہم سے کمی کرنے کاعورت یا کسی اور کو اختیار نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر فریقین نے دس درہم سے کم مہر مقرر کر کے نکاح کیا، تو اگرچہ نکاح ہوجاتا ہے، لیکن مہر میں شریعت کا حق پورا کرنے کے لیے کم سے کم مقدار یعنی دس درہم (دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی) کے برابر مہر ادا کرنا لازم ہوتا ہے۔
کم از کم دس درہم مہر ادا کرنا شریعت کا حق اورواجب ہے، اس میں کمی کرنا شریعت کے حق میں کمی کرنا اور خلافِ شرع ہے، اس کی نظیر نکاح شغار ہے، جس میں فریقین ایک دوسرے کی محرم عورت کے ساتھ نکاح کرتے ہیں، لیکن دونوں میں سے کسی کا بھی مہر مقرر نہیں ہوتا، حدیثِ پاک میں اس سے واضح طور پر منع کیا گیا ہے، جس کی علت مہر کے بغیر نکاح ہونا ہے، جو حق اللہ اور حقِ شرع ہے، جس کو لڑکی یا فریقین وغیرہ کوئی بھی ساقط نہیں کر سکتا، فریقین نے باہمی رضا مندی سے اس حقِ شرع کو ساقط کیا، تو نکاح منعقد ہوجائے گا، لیکن یہ عمل ناجائز و گناہ ہوگا، بعینہٖ اسی طرح ہماری صورتِ مسئولہ میں بھی کم از کم دس درہم مہر ہونا شریعت کا حق ہے، جس کو عورت یا کوئی بھی ساقط نہیں کر سکتا، بلکہ فریقین نے باہمی رضا مندی سے دس درہم سے کم مہر مقرر کیا، پھر بھی حقِ شرع کو پورا کرنا اور دس درہم ادا کرنا لازم ہوگا، لہٰذا جب کم از کم دس درہم مہر ادا کرنا واجب ہے، تو نکاح خواں پر بھی لازم ہے کہ وہ کم از کم واجب مقدار کو ہی لکھے، اس سے کم لکھنا نکاح خواں کے لیے بھی ناجائز و گناہ ہے، مناسب ذریعے سے فریقین کو شرعی مسئلہ سمجھا کر مہر کی کم از کم مقدار پوری کی جائے اور اسی پر نکاح پڑھایا جائے۔
مہر کے وجوب کے متعلق قرآنِ پاک میں ہے:
قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ
ترجمۂ کنز العرفان: ہمیں معلوم ہے جو ہم نے مسلمانوں پر ان کی بیویوں اور ان کی مملوکہ کنیزوں میں مقرر کیا ہے۔ (پارہ 22، سورۃ الاحزاب، آیت 50)
اس کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس سے معلوم ہوا کہ شرعاً مَہر کی مقدار اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقرر ہے اور وہ دس درہم ہیں، جس سے کم کرنا ممنوع ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ دس درہم سے کم کوئی مہر نہیں۔ (صراط الجنان، جلد 8، صفحہ 66، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
سنن دار قطنی میں حدیثِ پاک ہے:
قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: لا مهر دون عشرة دراهم
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: دس درہم سے کم کوئی مہر نہیں ہے۔ (سنن الدار قطنی، کتاب النکاح، باب المھر، جلد 4، صفحہ 358، مؤسسۃ الرسالہ، بیروت)
سنن الکبریٰ للبیقی میں ہے:
عن علي رضي اللہ عنه لا مهر أقل من عشرة دراهم
ترجمہ: امیر المؤمنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دس درہم سے کم مہر نہیں ہے۔ (سنن الکبریٰ للبیقی، کتاب الصداق، باب مایجوز ان یکون مھرا، جلد 7، صفحہ 393، مطبوعہ بیروت)
نکاح شغار کے متعلق حدیثِ پاک میں ہے:
عن ابن عمر رضي اللہ عنهما: «أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم نهى عن الشغار» و الشغار أن يزوج الرجل ابنته على أن يزوجه الآخر ابنته، ليس بينهما صداق
ترجمہ: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے اور شغار یہ ہے کہ اپنی بیٹی کا نکاح کسی سے اس شرط پر کروایا کہ اس کی بیٹی سے یہ نکاح کرے گا اور ان دونوں کا مہر نہیں ہوگا۔ (صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الشغار، جلد 7، صفحہ 12، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، مصر)
اس کی علت بیان کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ بنایہ شرح ہدایہ میں لکھتے ہیں:
قلت: النهي الوارد فيه إنما كان من أجل خلائه عن تسمية المهر
ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ اس نکاح کی ممانعت اس لیے وارد ہوئی ہے کہ یہ مہر بیان کرنے سے خالی ہوتا ہے۔ (البنایہ شرح الھدایہ، باب المھر، تعریف و حکم نکاح الشغار، جلد 5، صفحہ 157، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
یہاں پر فریقین کی رضا مندی بھی فائدہ مند نہیں ہوگی، کیونکہ مسلمانوں کو باہمی رضا مندی سے بھی ایسی شرط طے کرنے کی اجازت نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے شریعت کی خلاف ورزی ہوتی ہو، چنانچہ خلافِ شریعت شرائط کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
ما بال رجال یشترطون شروطاً لیست فی کتاب اللہ، ما کان من شرط لیس فی کتاب اللہ فھو باطل، و ان کان مائة شرط، فقضاءاللہ احق وشرط اللہ اوثق
ترجمہ: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں، جو شرط کتاب اللہ میں نہ ہو وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرطیں ہوں، اللہ عزوجل کا فیصلہ حق ہے، اور اللہ عزوجل کی جائز کردہ شرط قوی ہے۔ (صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 290، مطبوعہ کراچی)
مہر کے متعلق فقہ حنفی کی مشہور کتاب الھدایہ میں ہے:
المهر واجب شرعا و أقل المهر عشرة دراهم۔۔۔ لانه حق الشرع وجوبا إظهارا لشرف المحل و لو سمى أقل من عشرة فلها العشرة ملخصاً
ترجمہ: شرعاً مہر ادا کرنا لازم ہے اور کم سے کم مہر کی مقدار دس درہم ہے اور شرفِ محل کے اظہار کے لیے مہر ( کی کم از کم مقدار) وجوبی طور پر شریعت کا حق ہے اور اگر کسی نے دس درہم سے کم مہر بیان کیا، پھر بھی عورت کے لیے دس درہم ہی مہر ہوگا۔ (الھدایہ، کتاب النکاح، باب المھر، جلد 1، صفحہ 198، 199، مطبوعہ بیروت)
دس درہم سے کم مہر کے ناجائز ہونے کے متعلق مشہور حنفی محدث علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
و قال أبو حنيفة و أصحابه: لا يجوز أن يكون الصداق أقل من عشرة دراهم، لما روي لا مهر أقل من عشرة دراهم ملخصاً
ترجمہ: امام اعظم ابو حنیفہ اور آپ کے اصحاب رحمھم اللہُ فرماتے ہیں کہ دس درہم سے کم رکھنا ناجائز ہے، کیونکہ روایت کیا گیا ہے کہ دس درہم سے کم مہر نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری، کتاب فضائل القرآن، جلد باب خیرکم من تعلم القرآن، جلد 20، صفحہ 45، مطبوعہ بیروت)
مہر اللہ پاک کی طرف سے مقرر کردہ حق ہے، چنانچہ درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے:
أن المهر حق اللہ
یعنی: مہر اللہ پاک کی طرف سے مقرر کردہ حق ہے۔ ( درر الحکام شرح غرر الاحکام، جلد 1، صفحہ 349، مطبوعہ بیروت)
دس درہم سے کم مہر مقرر کیا تو حق اللہ پورا کرنے کے لیے مکمل دس درہم دینا لازم ہیں، چنانچہ تبیین الحقائق میں ہے:
إذا كان المسمى أقل من عشرة دراهم يتم لها عشرة دراهم إقامة لحق اللہ تعالى
ترجمہ: اگر دس درہم سے کم مہر مقرر کیا، تو اللہ پاک کے حق کو قائم کرنے کے لیے عورت کو دس درہم مکمل ادا کرے گا۔ (تبیین الحقائق، کتاب النکاح، جلد 2، صفحہ 130، مطبوعہ بیروت)
عورت یا کسی کو بھی اللہ پاک کا حق ساقط کرنے یعنی دس درہم سے کم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ چنانچہ التجرید للقدوری میں ہے:
أن حق اللہ تعالى يتعلق بالمهر ابتداء فلا تملك إسقاطه في العقد لحق اللہ تعالى
ترجمہ: ابتداءً مہر کے ساتھ اللہ پاک کا حق متعلق ہے، لہٰذا عقد میں اللہ پاک کا یہ حق ساقط کرنے کا عورت کو اختیار نہیں ہے۔ (التجرید للقدوری، جلد 9، ص 4333، مطبوعہ دار السلام، قاھرہ)
اسلام سے پہلے مہر کے بغیر نکاح ہوتا تھا، جس سے منع کر دیا گیا اور پھر خاص حکمت کے پیشِ نظر شریعت اسلامیہ نے مہر لازمی قرار دیا، جس وجہ سے دس درہم میں شریعت کا حق مقرر ہوگیا، چنانچہ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے علامہ ابو بکر کاسانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
ان النكاح كان جائزا بغير مهر إلى أن «نهى النبي - صلى اللہ عليه وسلم - عن الشغار» و أما قوله: إن المهر حق العبد فكان التقدير فيه إلى العبد فنقول نعم هو في حالة البقاء فأما في حالة الثبوت فحق الشرع متعلق به إبانة لخطر البضع صيانة له عن شبهة الابتذال بإيجاب مال له خطر في الشرع كما في نصاب السرقة، فإن كان المسمى أقل من عشرة يكمل عشرة عند أصحابنا الثلاثة
ترجمہ: (اسلام سے پہلے) مہر کے بغیر نکاح جائز تھا ، یہاں تک کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نکاح شغار سے منع فرما دیا۔ بہرحال امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول کہ مہر بندے کا حق ہے، تو (دس درہم سے کم) مقرر کرنے میں بندے کو اختیار ہے (اس کے جواب میں) ہم کہتے ہیں کہ ہاں بندے کا حق، حالتِ بقا میں ہے (یعنی بعد میں باقی رکھنا ہےیا نہیں، تو اس وقت ہے) بہرحال ثبوت میں، تو اس وقت شریعت کا حق اس کے ساتھ متعلق ہے، وجہ یہ ہے کہ مقامِ شرف کو اہانت کے شبہہ سے بچانے کی خاطر اتنا مال لازم کیا جو شریعت میں کسی عضو کے بدلے میں مال شمار ہوتا ہے، جیسا کہ چوری کے معاملے میں ایک خاص نصاب مقرر ہے، لہٰذا اگر (فریقین نے) دس درہم سے کم مہر مقرر کر بھی لیا تو ہمارے تینوں ائمہ کرام (امام اعظم ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمھم اللہُ) کے نزدیک مکمل دس درہم ہی دیے جائیں گے۔ (بدائع الصنائع، کتاب النکاح، فصل المھر، جلد 2، صفحہ 276، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
ابتداءً عقدِ نکاح میں دس درہم سے کم مہر رکھنا ناجائز ہے، چنانچہ دس درہم سے زیادہ پر نکاح ہوا، تو بعد میں اس مہر میں کمی ہوسکتی ہے، اس چیز کو بیان کرتے ہوئے علامہ زَیْلَعی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
أنه يجوز، و إن بقي أقل من عشرة دراهم ولو كان يلتحق بأصل العقد لما جاز كما لا يجوز الإنشاء على أقل من عشرة
ترجمہ: (نکاح کے بعدمہر میں کمی کرنا، جائز ہے) اگرچہ دس درہم سے کم رہ جائے، اگر یہ کمی اصلِ عقد کے ساتھ ملحق ہوتی، تو یہ جائز نہ ہوتی، جیسا کہ ابتداءً (اصلِ عقد میں) دس درہم سے کم مہر مقرر کرنا ناجائز ہے۔ (تبیین الحقائق، کتاب النکاح، باب المھر، جلد 2، صفحہ 147، مطبوعہ قاھرہ)
بنایہ میں ہے:
و كل العوض لا يجوز أن يكون أقل من عشرة
ترجمہ: ( مہر میں دراہم کے علاوہ کوئی عوض رکھا جائے، تو) اس کا دس درہم سے کم ہونا ناجائز ہے۔ (البنایہ شرح الھدایہ، کتاب النکاح، جلد 5، صفحہ 145، مطبوعہ بیروت)
عورت بھی دس درہم سے کم پر راضی نہیں ہوسکتی، چنانچہ التجرید للقدوری میں ہے:
إذا رضيت بما دون العشرة فقد أبرأته مما زاد على العشرة، و مما زاد على التسمية، و البراءة مما زاد على العشرة جائزة، و ما دونها لا يجوز
ترجمہ: عورت جب دس درہم سے کم مہر پر راضی ہو، تو اس نے دس درہم سے زیادہ اور بیان کردہ سے زیادہ کو (دس درہم تک) ساقط کرنے پر براءت کی ہے، جبکہ دس درہم سے زیادہ ساقط کرنا تو جائز ہے، لیکن دس درہم سے کم ساقط کرنا، جائز نہیں ہے۔ (التجرید للقدوری، جلد 9، صفحہ 4626، مطبوعہ دار السلام، قاھرہ)
نکاح شغار کرنا گناہ ہے، جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے: شغار یعنی ایک شخص نے اپنی لڑکی یا بہن کا نکاح دوسرے سے کر دیا اور دوسرے نے اپنی لڑکی یا بہن کا نکاح اس سے کردیا اور ہرایک کا مہر دوسرا نکاح ہے، تو ایسا کرنا گناہ و منع ہے اورمہرِ مثل واجب ہوگا۔ (بھارِ شریعت، حصہ 7، جلد 2، صفحہ 66، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
شریعت اور اللہ تعالیٰ کا حق ترک کرنا فسق ہے، چنانچہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ہر فسق خیانت ہے کہ اس میں حق اللہ اور حق شرع کا مارنا ہے۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 5، صفحہ 454، مکتبہ اسلامیہ، لاھور)
گناہ کے کام پر تعاون کرنا بھی گناہ ہے، چنانچہ قرآن پاک میں ہے:
وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ
ترجمہ کنز الایمان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔ (سورۃ المائدۃ، پارہ 6، آیت 2)
خلاف شرع نکاح پڑھانا بھی گناہ ہے، چنانچہ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: بالجبر نکاح کرنا ظلم پر ظلم اور مسلمان کو عار لاحق کرنا ہے۔۔۔۔ گواہ ووکیل و معین جتنے لوگ اس واقعہ پرآگاہ ہو کر زیدکی اعانت کریں گے، سب اس کی مثل ظلم و حرام و استحقاق عذاب میں مبتلاہوں گے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 203، 204، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2903
تاریخ اجراء: 27 شعبان المعظم 1447ھ / 16 فروری 2026ء