logo logo
AI Search

رضاعی بیٹی کے بھائی سے بیٹی کا نکاح کرنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اپنی رضاعی بیٹی کے بھائی سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

چھوٹی بہن نے، بڑی بہن کی بیٹی کو، اس کے بچپن میں، دودھ پلایا تھا، اب چھوٹی بہن، اپنی بیٹی کی شادی، بڑی بہن کے بیٹے سے کرنا چاہتی ہے، تو کیا یہ جائز ہے، کیونکہ دودھ تو بیٹی کو پلایا تھا نہ کہ بیٹے کو؟

جواب

جی ہاں! پوچھی گئی صورت میں اگر کوئی اور وجہ ممانعت نہ ہو، تو چھوٹی بہن، اپنی بیٹی کی شادی، بڑی بہن کے بیٹے سے کر سکتی ہے، کہ ان میں رضاعت کا کوئی رشتہ نہیں۔ اصولی مسئلہ یہ ہے کہ:

جس بچے نے کسی عورت کا دودھ مدتِ رضاعت (اڑھائی سال کی عمر کے اندر) میں پیا ہو، وہ بچہ اس عورت کا رضاعی بیٹا / بیٹی بن جائے گا، اور اس عورت کی تمام اولاد اس کے رضاعی بھائی بہن بن جائیں گے، لہذا وہ سب اس پر حرام ہوجائیں گے، جبکہ دوسری طرف حرمت کا تعلق صرف اس دودھ پینے والے بچی / بچے تک ہی ہوتا ہے، اس کے بہن بھائی اس عورت کی اولاد پر حرام نہیں ہوتے۔

در مختار میں ہے ”(وتحل أخت أخيه رضاعًا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر“ ترجمہ: حقیقی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح جائز ہے، اس (رضاعًا) کا مضاف (اخت) کے ساتھ اتصال درست ہے، جیسا کہ اس کے نسبی بھائی کی رضاعی بہن ہو، اور اس کا اتصال مضاف الیہ (أخيه) کے ساتھ بھی درست ہے، جیسا کہ اس کے رضاعی بھائی کی نسبی بہن ہو، اور ان دونوں (مضاف و مضاف الیہ) کے ساتھ بھی اتصال درست ہے اور وہ ظاہر ہے (یعنی رضاعی بھائی کی رضاعی بہن کے ساتھ نکاح درست ہے)۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 4، ص 398، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "حقیقی بھائی کی رضاعی بہن یا رضاعی بھائی کی حقیقی بہن یا رضاعی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح جائز ہے ۔" (بہار شریعت، جلد 02، حصہ 07، صفحہ 39، مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5019
تاریخ اجراء: 28 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 16 مئی 2026ء