logo logo
AI Search

نکاح میں ایک گواہ فون پر ہو تو نکاح کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نکاح کی مجلس میں ایک گواہ موجود ہو اور ایک گواہ فون پر ہو تو نکاح کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں  کہ نکاح کی مجلس میں ایک گواہ موجود ہو، اور دوسرا فون پر ہو، تو کیا اس طرح کیا گیا نکاح منعقد ہوجائے گا؟

جواب

یاد رہے کہ نکاح منعقد ہونے کے لیے دوشرعی گواہوں کا، ایجاب و قبول والی مجلس میں حاضر ہونا، اور ایجاب وقبول کے الفاظ ایک ساتھ سننا شرط ہے، اور پوچھی گئی صورت میں جب نکاح کی مجلس میں صرف ایک گواہ موجود ہے، تو مذکورہ شرط نہ پائے جانے کے سبب نکاح نہیں ہوگا۔

نکاح کی شرائط کو بیان کرتے ہوئے علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: "(و) شرط (حضور) شاھدین (حرین) او حر و حرتین(مکلفین سامعین قولھمامعا)" ترجمہ: نکاح کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ دو آزاد مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں مجلس نکاح میں موجود ہوں، جو مکلف ہوں اور ایک ساتھ ایجاب و قبول سنیں۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار، جلد 4، صفحہ 98، 99، مطبوعہ: کوئٹہ)

امامِ اہلِ سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سالِ وفات: 1340ھ) لکھتے ہیں: "نکاح کے لیے دو مردوں یا ایک مرد دو عورتیں گواہ ہونا لازم ہے، صرف ایک مرد کے سامنے ایجاب و قبول کرلینے سے (بھی) نکاح نہیں ہوسکتا۔" (فتاویٰ رضویہ، کتاب النکاح، جلد 11، صفحہ 294، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4940
تاریخ اجراء:09 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/27 اپریل 2026ء