logo logo
AI Search

حضرت حوا کے بچوں کا آپس میں نکاح ہوتا تھا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا کے بچوں کا آپس میں نکاح

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا کے پیٹ سے جو بچے پیدا ہوتے تھے، ان کا آپس میں نکاح ہوتا تھا، کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

جی ہاں! حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا کے ہر حمل میں دو دو بچے پیدا ہوتے تھے، جن میں سے ایک لڑکا ہوتا اور ایک لڑکی، اور ایک حمل کے لڑکے کا دوسرے حمل کی لڑکی سے نکاح ہوتا تھا، اس کی ایک وجہ تو اللہ تعالی کا حکم تھا، اور دوسری یہ کہ انسان صرف حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کی اولاد سے ہی ہونے تھے، اور نسل میں اضافہ بھی ہونا تھا، تو اس وقت ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے کے علاوہ اور کوئی صورت ہی نہ تھی۔

چنانچہ سیرت الانبیاء نامی کتاب میں شیخ الحدیث و التفسیر، حضرت علامہ مولانا، مفتی محمد قاسم عطاری زید مجدہ تحریرفرماتے ہیں: منقول ہے کہ حضرت حوا رضی اللہ عنہا بیس یا چالیس مرتبہ حضرت آدم علیہ السلام سے حاملہ ہوئیں۔ ہر حمل میں دو دو بچے پیدا ہوئے، ایک لڑکا اور ایک لڑکی (جب یہ جو ان ہوجاتے تو) حضرت آدم علیہ السلام ایک حمل کے لڑکے کا دوسرے حمل کی لڑکی کے ساتھ نکاح فرما دیا کرتے تھے۔ ایک تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے حکم تھا اور دوسرا یہ تھا کہ انسان صرف حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہی ہونے تھے کسی اور جنس سے نہیں تو ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کرنے کے علاوہ اور کوئی صورت ہی نہ تھی۔ (سیرت الانبیاء، صفحہ 122، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

البحر المحیط میں ہے

ان حواء کانت تلد فی کل بطن ذکرا و انثی، و کان آدم یزوج ذکر ھذا البطن انثی ذلک البطن، و انثی ھذا ذکر ذلک

ترجمہ: حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا کے ہر حمل میں دو بچے پیدا ہوتے، ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔ اور حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ و السلام ایک بطن کے لڑکے کا دوسرے بطن کی لڑکی سے نکاح فرما دیتے اور دوسرے بطن کے لڑکے کا پہلے بطن کی لڑکی سے۔ (البحر المحیط فی التفسیر، جلد 4، صفحہ 227، مطبوعہ: بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4749
تاریخ اجراء: 29 شعبان المعظم1447ھ / 18فروری2026ء