شوہر بغیر طلاق چھوڑ دے تو عورت دوسری شادی کر سکتی ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شوہر بغیر طلاق دئیے چھوڑ کر چلا جائے تو عورت دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص 10 سال پہلے اپنے بیوی کو چھوڑ کر چلا گیا ہے، نہ تو وہ اُس کے ضروری حقوق پورے کررہا ہے اور نہ ہی اُس سے کوئی رابطہ رکھ رہا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس صورت میں وہ عورت کسی اور جگہ شادی کرسکتی ہے؟
جواب
شوہر کا بیوی کے ضروری حقوق پورے نہ کرنا اور اسے لٹکا کر رکھنا سخت ناجائز وحرام ہے، بیوی کی اجازت کے بغیر چار مہینے تک بلاعذرِ شرعی جماع ترک کرنا بھی جائز نہیں۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اُس شخص پر لازم ہے کہ یا تو بھلائی کے ساتھ اپنی بیوی کو شریعت کے بیان کردہ احکام کے مطابق رکھے یا پھراحسن طریقے سے طلاق کے ذریعے اُسے جدا کردے تاکہ وہ عورت شرعی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی زندگی گزارسکے۔
اگر شوہر کی طرف سے کوئی رابطہ نہ ہو تو وہ عورت اپنے خاندان کے بڑے افراد کے ذریعے اس مسئلے کو حل کروانے کی کوشش کرے تاکہ وہ گناہ سے بچ سکے۔
لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ میاں بیوی کے الگ رہنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بالفرض میاں بیوی ایک دوسرے سے برسوں بھی جدا رہیں تب بھی اُن کے مابین طلاق واقع نہیں ہوگی اور نہ ہی الگ رہنے سے اُن کا نکاح ٹوٹے گا۔ پوچھی گئی صورت میں اُس شخص نے اگرواقعی اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے، تو فقط بیوی کو 10 سال سے چھوڑے رکھنے اور اُس سے رابطہ نہ رکھنے سے خود بخود کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، وہ عورت بدستور اپنے شوہر کے نکاح میں موجود ہے اور حکمِ قرآنی کے مطابق شادی شدہ عورت سے نکاح کرنا حرام ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں وہ عورت جب تک اپنے شوہر کے نکاح میں موجود ہے تب تک وہ عورت کسی اور جگہ شادی نہیں کرسکتی۔ معاذ اللہ! اگر کسی نے جانتے بوجھتے اُس عورت سے اِسی حالت میں نکاح کرلیا، تو یہ نکاح سرے سے ہی باطل اور خالصتاً زنا ہوگا۔
بیوی کا نان نفقہ اور اُس کی ضروریاتِ زندگی کا انتظام کرنا شوہر پر واجب ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے:
وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ
ترجمہ کنز الایمان: اور جس کا بچہ ہے، اُس پر عورتوں کا کھانا اور پہننا ہے حسبِ دستور۔ (القرآن الکریم: پارہ 02، سورۃ البقرۃ، آیت 233)
بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک رکھنا ضروری ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے:
وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ
ترجمہ کنز الایمان: اور اُن (بیویوں) سے اچھا برتاؤ کرو۔ (القرآن الکریم: پارہ 04، سورۃ النساء، آیت 19)
شوہر پر بیوی کے حقوق بیان کرتے ہوئے سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: مرد پر عورت کا حق نان ونفقہ دینا، رہنے کو مکان دینا، مہر وقت پر ادا کرنا، اُس کے ساتھ بھلائی کا برتاؤ رکھنا، اُسے خلافِ شرع باتوں سے بچانا۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 24، ص 379 - 380، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
میاں بیوی کے محض دور رہنے سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔ جیسا کہ فتاوٰی امجدیہ میں ہے: اگر طلاق نہ دی ہو، تودوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں، اٹھارہ برس باہر رہنے سے نکاح نہیں ٹوٹا۔ (فتاوٰی امجدیہ، ج 02، ص 24، مکتبہ رضویہ، کراچی)
فتاوٰی خلیلیہ میں ہے: عورت کے گھر بیٹھ جانے سے نہ تو نکاح ختم ہوتا ہے اور نہ طلاق پڑتی ہے، نکاح و مہر بدستور قائم ہے اور جب نکاح باقی ہے تو اس صورت میں عورت کہیں اور نکاح نہیں کرسکتی۔ (فتاوٰی خلیلیہ، ج 02، ص 155، ضیاء القرآن)
شوہر والی عورت سے نکاح حرام ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ
ترجمہ کنزالایمان: اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں۔ (القرآن الکریم: پارہ 05، سورۃ النساء، آیت 24)
مبسوط سرخسی میں ہے:
و منكوحة الغير ليست من المحللات بل هي من المحرمات في حق سائر الناس كما قال اللہ تعالی: وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ
ترجمہ: دوسرے شخص کی منکوحہ عورت تمام لوگوں کے حق میں حرام ہے، جیسا کہ ارشادِ باری ہے وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ یعنی حرام ہیں شوہر دار عورتیں ۔ (المبسوط، کتاب المفقود، ج 11، ص 37، دار المعرفة، بيروت)
سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فتاوٰی رضویہ میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: جبکہ زید نے ہنوز طلاق نہ دی نصیبن بدستور اس کے نکاح میں باقی ہے اور بکر خواہ کسی کو، ہر گزا س سے نکاح حلال نہیں اگر کر بھی لیا، تاہم جیسے اب تک وہ دونوں مبتلائے زنا رہے یوں ہی اس نکاح بے معنی کے بعد بھی زانی وزانیہ رہیں گے، اور یہ جھوٹا نام نکاح کا، کچھ مفیدنہ ہوگا۔ قال تعالٰی: و المحصنت من النساء (شادی شدہ پاکیزہ عورتیں)۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 11، ص 314، رضافانڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Nor-13848
تاریخ اجراء: 30ذیقعدۃ الحرام 1446 ھ /28مئی 2025 ء