میکے جانے پر بیوی بچوں کا خرچہ کس پر ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
چنددنوں کے لیے میکے جانے کی صورت میں بیوی، بچوں کا خرچہ کس پر ہوگا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر بیوی اپنے میکے 2 دن، 4 دن یا ایک ہفتہ رہنے کے لیے جاتی ہے، تو کیا اس صورت میں بیوی کو تھوڑا بہت خرچہ، جیسے بچوں کے ڈائپر وغیرہ، دینا شوہر کی ذمہ داری ہے یا میکے کی؟
جواب
عام طور پر اس طرح کی صورتِ حال میں شوہر کی اجازت سے بیوی اپنے میکے رُکنے جاتی ہے، تو ایسی صورت میں بیوی بچوں کا خرچہ شوہر پر ہی لازم ہے، بچوں کا تو اس وجہ سے کہ چھوٹے بچے جہاں بھی رہیں، ان کا خرچہ ان کے باپ پر ہی لازم ہوتا ہے (بشرطیکہ بچوں کی ملکیت میں مال نہ ہو) اور بیوی کا خرچہ اس وجہ سے شوہر پر لازم ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی اجازت سے وہاں رُکی ہوئی ہے، لہذا ایسی صورت میں بیوی بچوں کا خرچہ شوہر پر ہی لازم ہوگا، بیوی کے میکے والوں پر لازم نہیں ہوگا، ہاں اگر میکے والے اپنی رضا مندی و خوشی سے کریں، تو حرج نہیں۔
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے
(و تجب)النفقۃ بانواعھا علی الحر (لطفلہ) یعم الانثی و الجمع (الفقیر) الحر فان نفقۃ المملوک علی مالکہ و الغنی فی مالہ الحاضر
ترجمہ: آزاد شخص پر اپنے بچوں جس میں بیٹی بھی شامل ہے، کا نفقہ اپنی تمام انواع و اقسام کے ساتھ واجب ہے، جبکہ وہ بچے شرعی فقیراورآزاد ہو ں، کیونکہ مملوک کا نفقہ اس کے مالک پر، اور مالدار کا اس کے موجود مال میں نفقہ لازم ہے۔ (تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، جلد 5، باب النفقۃ، صفحہ 345، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی ہندیہ میں ہے
تجب على الرجل نفقة امرأته۔۔۔ الفقيرة و الغنية
ترجمہ: مرد پر اپنی بیوی کا نفقہ واجب ہے، چاہے بیوی محتاج ہو یا مالدار۔ (فتاوی ہندیہ، ج 1، ص 544، مطبوعہ کوئٹہ)
نفقہ، حق احتباس ہے یعنی شوہر کی رضا مندی جہاں رکھنے کی ہے، وہاں رہنے پر شوہر کی فرماں برداری پوری کرنے کی وجہ سے لازم ہوتا ہے، چنانچہ محیط برہانی میں ہے:
أن النفقة انما تجب عوضاً عن الاحتباس فی بيت الزوج، فاذا كان الفوات لمعنى من جهة الزوج أمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً، أما اذا كان الفوات بمعنى من جهة الزوجة لا يمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً وبدونه لا يمكن ايجاب النفقة
ترجمہ: بیوی کا نفقہ، شوہر کے گھر میں احتباس کے عوض لازم ہوتا ہے، اگریہ احتباس کسی ایسی وجہ سے فوت ہوجائے، جو شوہر کی طرف سے ہو، تو اس احتباس کو تقدیرا باقی رکھنا ممکن ہے (لہذا نفقہ بھی لازم رہے گا)، اور اگر یہ احتباس کسی ایسی وجہ سے فوت ہوجائے، جو بیوی کی طرف سے ہو، تو پھر اسے تقدیرا باقی نہیں مانا جاسکتا، اور اس احتباس کے بغیر نفقہ بھی لازم نہیں ہوسکتا۔ (المحیط البرھانی، جلد 3، صفحہ 522، دار الكتب العلمية، بيروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4702
تاریخ اجراء: 13شعبان المعظم1447ھ / 02 فروری2026ء