چار مہینے میاں بیوی الگ رہیں تو نکاح پر اثر پڑتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
میاں بیوی کا چار مہینے الگ رہنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میاں بیوی چار مہینے الگ رہیں تو کیا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب
شوہر نے اگر بیوی کو خلع وطلاق نہیں دی، اور کوئی ایلا کی صورت بھی نہیں پائی گئی، تو وہ بدستور میاں بیوی ہی ہیں، محض چار ماہ بیوی سے الگ رہنے سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔
امامِ اہلِ سنّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے سوال ہوا کہ نصیبن نامی خاتون اپنے شوہر کے گھر سے کسی اور کے ہاں چلی گئی اور اس بات کو دس سال گزر گئے، تو کیا اب وہ دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے؟ تو آپ علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا: جبکہ زید نے ہنوز (ابھی تک) طلاق نہ دی، نصیبن بدستور اس کے نکاح میں باقی ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 313، 314، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
میاں بیوی کے محض جدا رہنے سے طلاق واقع نہ ہونے کے متعلق صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے سوال ہوا کہ ایک شخص اٹھارہ سال سے اپنی زوجہ سے الگ ہے، تو کیا اس سے نکاح ختم ہوگیا؟ تو آپ علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا: اگر طلاق نہ دی ہو، تو دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں، اٹھارہ سال باہر رہنے سے نکاح نہیں ٹوٹا۔ (فتاویٰ امجدیہ، جلد 2، صفحہ 24، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4704
تاریخ اجراء: 13شعبان المعظم1447ھ / 02 فروری2026ء