logo logo
AI Search

شوہر کے انتقال پر نکاح ختم ہونے اور چہرہ دیکھنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا یہ بات درست ہےکہ شوہر کے انتقال سے نکاح ختم ہوجاتا ہے اور بیوی اپنے شوہر کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کسی نے بتایا تھا کہ اگر شوہر کا انتقال ہوجائے، تو ان دونوں میاں بیوی کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے، اس لئے شوہر کے فوت ہو جانے کے بعد بیوی اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی، کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

شوہر کے انتقال سے نکاح فوراً ختم نہیں ہوتا بلکہ عدت گزرنے تک نکاح کے بعض احکام باقی رہتے ہیں، لہٰذا اپنے مرحوم شوہر کا چہرہ دیکھ سکتی ہے بلکہ اس کی میت کو غسل بھی دے سکتی ہے، البتہ بیوی فوت ہو جائے تو نکاح فوراً ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا شوہر اسے بلا حائل نہیں چُھو سکتا، اسے غسل بھی نہیں دے سکتا، ہاں ہاتھ لگائے بغیر چہرہ دیکھ سکتا ہے، کندھا دے سکتا اور قبر میں بھی اتار سکتا ہے۔

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ”عورت اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے جب کہ موت سے پہلے یا بعد کوئی ایسا امر نہ واقع ہوا ہو جس سے اس کے نکاح سے نکل جائے۔۔۔ عورت مر جائے تو شوہر نہ اُسے نہلا سکتا ہے نہ چھو سکتا ہے اور دیکھنے کی ممانعت نہیں۔عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ شوہر عورت کے جنازہ کو نہ کندھا دے سکتا ہے نہ قبر میں اتار سکتا ہے نہ مونھ دیکھ سکتا ہے، یہ محض غلط ہے صرف نہلانے اور اسکے بدن کو بلاحائل ہاتھ لگانے کی ممانعت ہے۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 812، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2378
تاریخ اجراء: 21 صفر المظفر1447ھ/ 16 اگست 2025ء