تجدیدِ نکاح کے بعد ازدواجی تعلق ضروری ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تجدید نکاح کے بعد ازدواجی تعلق قائم کرنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا تجدید نکاح کے بعد ازدواجی تعلق قائم کرنا لازمی ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
جواب
تجدید نکاح چاہے کسی سبب (جیسے طلاق) کی وجہ سے ہو، یا ویسے ہی احتیاطاً ہو، بلکہ نکاح پہلی ہی بار کیوں نہ ہو، کسی بھی صورت میں نکاح کے بعد ہمبستری نہ ہو، تواس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، لہذا اس طور پر تجدید نکاح کے بعد ازدواجی تعلق قائم کرنا ضروری نہیں۔
البتہ! بیوی کےشوہر پر حقوق میں اہم ترین اور مؤکد حق ہمبستری ہے، لہذا مرد کے لئے حکم ہے کہ وہ عورت کے حقوق ادا کرے، اسے پریشان نظری سے بچائے، اور گاہے بگاہے اس سے جماع کرتا رہے، تاکہ اس کی نظر کسی اور کی طرف نہ اٹھے، بلاعذر صحیح شرعی، بیوی کی رضا و اجازت کے بغیر چار ماہ سے زائد عرصہ تک اس سے ہمبستری نہ کرنا، جائز نہیں۔
امام اہلسنت، امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں: بالجملہ عورت کو نان و نفقہ دینا بھی واجب اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب اور گاہ گاہ اس سے جماع کرنا بھی واجب، جس میں اسے پریشان نظری نہ پیدا ہو، اور اسے معلقہ کردینا حرام، اور بے اس کے اذن و رضا کے چار مہینے تک ترکِ جماع بلاعذر صحیح شرعی ناجائز۔ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 446، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ، مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ جماع قضاءً واجب ہے اور دیانۃً یہ حکم ہے کہ گاہے گاہے کرتا رہے اور اس کے ليے کوئی حد مقرر نہیں، مگر اتنا تو ہو کہ عورت کی نظرا وروں کی طرف نہ اُٹھے۔ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 7، صفحہ 95، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4703
تاریخ اجراء: 13شعبان المعظم1447ھ / 02 فروری2026ء