انسان اور جن کا نکاح ناجائز ہونے کی وجہ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جنات سے انسانوں کا نکاح ناجائز ہونے کی وجہ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں نے سنا ہے کہ جنات سے انسانوں کا نکاح جائز نہیں، تو یہ ارشاد فرمائیں کہ ناجائز ہونے کی وجہ کیا ہے؟
جواب
انسانوں اور جنات کے درمیان نکاح جائز نہیں کیونکہ نکاح کے لیےدونوں کی جنس کا ایک ہونا شرط ہے، جبکہ جن اور انسان الگ الگ جنس ہیں، اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے ان ہی کی جنس (انسانوں) سے جوڑے پیدا کیے ہیں۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
(وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةًؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ)
ترجمہ کنز العرفان: اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کی طرف آرام پاؤ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔ بے شک ا س میں غور و فکر کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔ (القرآن، پارہ21، سورۃ الروم، آیت: 21)
رد المحتار، فتاوی سراجیہ اور النہر الفائق میں ہے
(واللفظ للاول) ”لا تجوز المناکحۃ بین بنی آدم والجن وانسان الماء لاختلاف الجنس“
ترجمہ: کسی بھی آدمی کا جن یاپانی کے انسان سے نکاح کرنا، جائز نہیں، کہ جنس مختلف ہے۔ (رد المحتار، جلد 4، صفحہ 70، مطبوعہ: کوئٹہ)
رد المحتار میں ہے
”الاصح انہ لایصح نکاح آدمی جنیۃ، کعکسہ لاختلاف الجنس فکانوا کبقیۃ الحیوان“
ترجمہ: اصح قول یہی ہے کہ جنس کے مختلف ہونے کی وجہ سے مرد کا جننی سے نکاح جائز نہیں ہے جیسےاس کا عکس (یعنی عورت کاجن سے نکاح جائز نہیں)، لہذا نکاح کے معاملے میں جنات دیگر حیوانات کی طرح ہیں۔ (رد المحتار، جلد 4، صفحہ 70، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4666
تاریخ اجراء: 04 شعبان المعظم 1447 ھ/ 24 جنوری 2026ء