منگل کے دن شادی کرنا منع ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
منگل والے دن شادی کرنے کا شرعی حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
منگل والے دن شادی کرنے کا کیا حکم ہے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ منگل کو شادی نہیں کرنی چاہئے۔؟
جواب
منگل والے دن شادی کرنا شرعاً بالکل جائز ہے، شریعت مطہرہ میں کسی بھی دن شادی کرنے سے کوئی ممانعت نہیں ہے۔ اور اس دن کے متعلق بدشگونی لینے کی بھی اجازت نہیں ہے، البتہ! جمعہ کے دن نکاح ہونا مستحب ہے۔
امام اہل سنت، مجدد دین و ملت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: نکاح ہردن جائزہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 241، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتح القدیر میں ہے
و يستحب مباشرة عقد النكاح في المسجد لأنه عبادة، و كونه في يوم الجمعة
ترجمہ: عقدِ نکاح کا مسجد میں ہونا مستحب ہے کیونکہ یہ عبادت ہے اور جمعہ کے دن ہونا مستحب ہے۔ (فتح القدیر، جلد 3، صفحہ 181، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے نکاح میں یہ امور مستحب ہیں: 1علانیہ ہونا۔2 نکاح سے پہلے خطبہ پڑھنا، کوئی سا خطبہ ہو اور بہتر وہ ہے جو حدیث میں وارد ہوا۔ 3 مسجد میں ہونا۔ 4 جمعہ کے دن۔۔الخ (بہار شریعت، ج 2، حصہ 7، ص 5، 6، مکتبۃ المدینہ)
قرآن پاک میں اللہ تعالٰی ارشاد فرماتاہے:
قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَؕ- قَالَ طٰٓىٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ
ترجمہ کنز الایمان: بولے ہم نے برا شگون لیا تم سے اور تمہارے ساتھیوں سےفرمایا تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے بلکہ تم لوگ فتنے میں پڑے ہو۔ (القرآن، سورۃ النمل، پارہ 19،آیت: 47)
مذکورہ آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے یاد رہے کہ بندے کو پہنچنے والی مصیبتیں اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہیں۔۔۔ اور مصیبتیں آنے کا عمومی سبب بندے کے اپنے برے اعمال ہیں، جیسا کہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ
ترجمہ کنزُ العِرفان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔ اور جب ایسا ہے تو کسی چیز سے بد شگونی لینا اور اپنے اوپر آنے والی مصیبت کو اس کی نحوست جاننا درست نہیں اور کسی مسلمان کو تو یہ بات زیب ہی نہیں دیتی کہ وہ کسی چیز سے بد شگونی لے کیونکہ یہ تو مشرکوں کا سا کام ہے جیساکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تین بار ارشاد فرمایا کہ بد شگونی شرک (یعنی مشرکوں کا سا کام) ہے اور ہمارے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں، اللہ تعالٰی اسے توکّل کے ذریعے دور کر دیتا ہے۔ (صراط الجنان، جلد 7،صفحہ 211، 212،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے بد فالی لینے والوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
لیس منا من تطیر
یعنی: جس نے بد شگونی لی وہ ہم میں سے نہیں (یعنی ہمارے طریقے پر نہیں)۔ (المعجم الکبیر، جلد 18، صفحہ 162، حدیث: 355، مطبوعہ: القاھرۃ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4763
تاریخ اجراء: 03 رمضان المبارک1447ھ /21فروری2026ء