شالیمہ کے نام پر ولیمہ کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
رخصتی سے پہلے شالیمہ کے نام پر ولیمہ کرنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ولیمہ کے لیے شریعت کی طرف سے کون سا وقت مقرر ہے، جس میں ولیمہ نہ کرنے سے سنت ادا نہیں ہوتی؟ پوچھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے یہاں ایک شادی ہے، جس میں یہ طے پایا ہے کہ دُلہن کی رخصتی والے دن لڑکی والوں کی طرف سے کھانے وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہے، اس پروگرام میں لڑکے والے بھی آدھے اخراجات شامل کریں گے۔ اس وجہ سے کہ لڑکے والوں نے جو بعد میں ولیمہ کرنا ہے، چونکہ اس میں بھی بہت زیادہ خرچہ ہوتا ہے، تو وہ بعد میں ولیمہ نہیں کریں گے، آدھے اخراجات اسی رخصتی والی تقریب میں ہی شامل کریں گے تو یوں ان کا ولیمہ بھی ہو جائے گا اور فریقین پر اخراجات کا بوجھ بھی ہلکا ہوجائے گا اور پھر اس مشترکہ اخراجات والے پروگرام کو شالیمہ کا نام دیا گیا ہے، لہٰذا آپ شرعی رہنمائی فرما دیں کہ کیا رخصتی سے پہلے ولیمہ ہوجائے گا ؟
جواب
ولیمہ کرنا سنتِ مستحبہ ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کا حکم اور ترغیب ارشاد فرمائی ہے، جس کو ولیمہ کرنے کی استطاعت ہو، تو وہ ضرور اس سنت پر عمل کرے، بلاوجہ اس سنت کو ترک نہ کرے۔ اس سنت کی ادائیگی کا وقت بھی معین ہے کہ رخصتی کے بعد دو دن تک ولیمہ کی یہ سنت ادا ہوسکتی ہے، احادیثِ طیبہ کی روشنی میں فقہائے کرام نے بہت واضح طور پر فرمایا ہے کہ اسی دورانیے میں ہی ولیمے کی نیت سے دعوت کرنے سے سنت ادا ہوگی، اس کے علاوہ رخصتی سے پہلے ہی یا رخصتی کے بعد دو دن گزر جانے کے بعد دعوت کرنے سے یہ سنت ادا نہیں ہوگی ، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں رخصتی سے پہلے ہی لڑکے والوں کا دعوت کرنا، یا اس پروگرام میں شامل ہونا، اس سے ولیمے کی سنت ادا نہیں ہوگی اور پھر اس کو شالیمہ کا نام دینا، دین میں ایک نئی چیز ایجاد کرنا ہے، جس سے سنت ترک ہو رہی ہے، جبکہ احادیث میں ہر اس نئے کام سے منع کیا گیا ہے، جس سے سنت ترک ہو رہی ہو۔
البتہ نکاح و شادی یا ولیمے کے لیے بہت بڑا پروگرام کرنا یا بڑے پیمانے پر ولیمہ کرنا ضروری نہیں ہوتا، جو فریقین پر بوجھ بنے، بلکہ شبِ زفاف کے دو دن تک چند دوست احباب کو بلا کر ولیمے کی نیت سے گھر میں ہی معمولی دعوت کر لی جائے، تو اس سے بھی ولیمے کی سنت ادا ہوجاتی ہے۔
بالترتیب دلائل درج ذیل ہیں:
ولیمہ سنت ہونے کے دلائل:
احادیث طیبہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ولیمے کا حکم ارشاد فرمایا، چنانچہ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں: ”ان عبد الرحمن بن عوف جاء الی رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم و بہ اثر صفرۃ فسالہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فاخبرہ انہ تزوج امراۃ من الانصار قال کم سقت الیھا قال زنۃ نواۃ من ذھب قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ“ ترجمہ: حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اس حال میں کہ ان پر زعفران کا رنگ لگا ہوا تھا، تو نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان سے (رنگ لگنے کا سبب) پوچھا، تو عرض کی کہ انہوں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے پوچھا: مہر کتنا دیا ہے ؟ عرض کیا: گٹھلی کے برابر (چھ مثقال) سونا، تو نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری کے ساتھ۔ (صحیح البخاری، جلد 2، صفحہ 280، باب الولیمۃ ولو بشاۃ، مطبوعہ لاھور)
شیخ الاسلام و المسلمین امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: ”ولیمہ شریف کا کھانا کھلانا شریعت مطہر ہ کے کس حکم میں داخل ہے۔، اس کا تارک کیسا ہے؟ نیز جس شہر کے لوگوں میں سے کوئی بھی بعدِ نکاح ولیمہ نہ کرتا ہو بلکہ پہلے نکاح کے اول روز جس طرح کہ رواج ہے، کھلادیتا ہو تو ان سب لوگوں کے لیے شریعت نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کاحکم شریف کیا ہے؟ “
اس کے جواب میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ’’ولیمہ بعدِ نکاح سنت ہے، اس میں صیغہ امر بھی وارد ہے، عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: ’’اولم ولو بشاۃ‘‘ ولیمہ کر اگرچہ ایک ہی دنبہ یا اگرچہ ایک دنبہ۔ دونوں معنی محتمل ہیں اور اول اظہر، ( وہ لوگ ) تارکان سنت ہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 278، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
ولیمہ شبِ زفاف کے بعد ہونے کے متعلق احادیث و شروحات سے دلائل:
بخاری شریف میں ہے: ”«أصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم عروسا بزينب بنت جحش، وكان تزوجها بالمدينة، فدعا الناس للطعام بعد ارتفاع النهار “ ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے مدینۃ المنورہ میں شادی فرمائی تھی، تو شبِ زفاف کی صبح نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے دن چڑھنے کے بعد لوگوں کی کھانے کی دعوت فرمائی۔ (صحیح البخاری، باب قول الله تعالى: ﴿فاذا طعمتم فانتشروا﴾ جلد 7، صفحہ 83، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، مصر )
عمدۃ القاری اور ارشاد الساری میں ہے: واللفظ للاول ”وحدیث انس: فاصبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عروسا بزینب فدعی القوم‘‘ صریح انھا بعد الد خول“ ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث: ’’رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا سے شادی کے بعد صبح کی تو قوم کو (ولیمہ کی) دعوت دی‘‘ اس بات میں صریح ہے کہ ولیمہ دخول (شوہر اور بیوی کے ملاپ)کے بعد ہوتا ہے۔ (عمدۃ القاری، جلد 20، صفحہ 204، مطبوعہ کوئٹہ )
اسی طرح فتح الباری میں ہے: ”قولہ: (وقال عبد الرحمن بن عوف قال لی النبی صلی اللہ علیہ وسلم: اولم ولوبشاۃ) قال: والمنقول من فعل النبی صلی اللہ علیہ وسلم انھا بعد الد خول کانہ یشیرالی قصۃ زینب بنت جحش، حدیث انس فی ھذا الباب صریح فی انھا بعد الدخول۔ملخصا“ ترجمہ: یہ قول: (اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: مجھے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری کے ساتھ) فرمایا: اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے فعل سے ولیمہ کا دخول کے بعد ہونا منقول ہے گویا کہ وہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا کے واقعہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، اور حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث اس بارے میں صریح ہے کہ ولیمہ دخول کے بعد تھا۔ (فتح الباری، جلد 9، صفحہ 287، مطبوعہ کراچی )
ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمے کے متعلق حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ، حَتّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِه نَزَلَ، ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ عِنْدَه فَضْلُ زَادٍ، فَلْيَأْتِنَا بِه»، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ، وَفَضْلِ السَّوِيقِ، حَتّى جَعَلُوا مِنْ ذٰلِكَ سَوَادًا حَيْسًا، فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذٰلِكَ الْحَيْسِ: فَقَالَ أَنَسٌ: فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَة رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا“ ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خبیر سے واپسی کے لیے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ خبیر کو پیچھے چھوڑ دیا، تو ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور وہاں ایک خیمہ لگایا گیا۔ جب صبح ہوئی، تو نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جس کے پاس جو بھی زادِ راہ بچ گیا ہے، وہ لے آئے، حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ اپنی بچی ہوئی کھجوریں اور ستو لے آئے، یہاں تک کہ اس سے کھانے کا ایک ڈھیر لگ گیا، پھر لوگوں نے اس میں سے کھایا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کا حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کا یہ ولیمہ تھا۔ (الصحیح لمسلم، کتاب النکاح، باب فضیلۃ اعتاقہ امتہ ثم یتزوجھا، جلد 2، صفحہ 1047، دار احیاء التراث العربی، بیروت )
اس حدیثِ پاک کے تحت علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”فیہ دلیل لولیمۃ العرس وانھا بعد الدخول“ ترجمہ: اس حدیث میں شادی کے ولیمہ کی دلیل ہے اور یہ کہ وہ دخول (دولہا، دلہن کے ملاپ)کے بعد ہوتا ہے۔ (المنھاج علی المسلم، جلد 9، صفحه 222، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت )
ولیمہ شبِ زفاف کے بعد ہونے کے متعلق کتبِ فقہ سے دلائل:
علامہ مَجْدُ الدین مُوْصَلی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 683ھ/1284ء) ولیمہ کی تعریف (Definition) بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”و ھی اذا بنی الرجل بامراتہ ان یدعو الجیران والاقرباء والاصدقاء ویذبح لھم ویصنع لھم طعاما“ ترجمہ: ولیمہ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی سے دخول کرے، تو پڑوسیوں اور رشتہ داروں اور دوستوں کی دعوت کرے اور ان کے لیے جانور ذبح کرے اور ان کے لیے کھانا تیار کرے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، ج 4، ص188، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ”وتسمیۃ العرس سنۃ وفیھا مثوبۃ عظیمۃ وھی اذا بنی الرجل بامرأتہ انہ ینبغی ان ید عو الجیران والاقربا ء والاصدقاء ویذبح لھم ویصنع لھم طعاما“ ترجمہ: دعوت ولیمہ سنت ہے اور اس میں ثواب عظیم ہے اور ولیمہ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی سے دخول کرے، تو پڑوسیوں اور رشتہ داروں اور دوستوں کی دعوت کرے اور ان کے لیے جانور ذبح کرے اور ان کے لیے کھانا تیار کرے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 5، صفحہ 343، مطبوعہ کوئٹہ )
مذکورہ عبارتوں میں ’’بنی الرجل بامراتہ‘‘کے الفاظ ہمبستری کے معنیٰ میں استعمال ہوئے ہیں۔ چنانچہ علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ اس کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ويقولون: بَنَى الرجلُ بامرأته إذا دخلَ بها وأصلُ ذلك أنَّ الرجلَ كان إذا تزوَّج يُبْنَى له ولأَهله خباءٌ جديد فكثرَ ذلك حتى استُعْمِل في هذا الباب‘‘ آدمی جب اپنی بیوی سے دخول کرے تو لوگ اسے ’’بنی الرجل بامراتہ‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں اور اس کی اصل یہ ہے کہ آدمی جب شادی کرتا تھا، تو اس کے لیے اور اس کی بیوی کے لیےنیا خیمہ لگایا جاتا تھا، تو یہ کثیر ہوگیا اور اس باب میں استعمال ہونے لگا۔ (المزھر فی علوم اللغۃ، جلد 1، صفحہ 334، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
اسی کی صراحت حاشیۃ الطحطاوی علی الدرمیں یوں کی گئی ہے: ”ولیمۃ العرس تکون بعد الدخول“ ترجمہ: شادی کا ولیمہ ہمبستری کے بعد ہوگا۔ (حا شیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، جلد 4، صفحہ 175، مطبوعہ کوئٹہ)
شبِ زفاف سے پہلے دعوت کرنے سے ولیمہ نہیں ہوتا، چنانچہ شیخ الاسلام و المسلمین امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’شبِ زفاف کی صبح کو احبا ب کی دعوت کرناولیمہ ہے، رخصت سے پہلے جو دعوت کی جائے ولیمہ نہیں، یونہی بعد رخصت قبل زفاف(ہمبستری سے پہلے)۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 256، رضافاؤنڈیشن، لاھور)
سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے ایک سوال ہوا: ’’ولیمہ نکاح کی سنت ہے یازفاف کی ؟‘‘ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: ’’ولیمہ زفاف کی سنت ہے، بعد زفاف کے ولیمہ کرے اور ولیمہ شب زفاف کی صبح کو کرے۔‘‘ (احکام شریعت، صفحہ 229، مطبوعہ اکبر بک سیلرز، اردو بازار، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ’’دعوت ولیمہ سنت ہے۔ ولیمہ یہ ہے کہ شب زفاف کی صبح کو اپنے دوست احباب عزیز واقارب اور محلہ کے لوگوں کی حسب استطاعت ضیافت کرے اور اس کے لیے جانور ذبح کرنا اور کھاناتیار کرانا، جائز ہے۔‘‘ (بھارشریعت، حصہ 16، جلد 3، صفحہ 391، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
دین میں نیا کام جس سے سنت ختم ہو، اس کی مذمت کے متعلق دلائل:
بخاری شریف میں ہے: ”قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه، فهو رد»“ ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے ہمارے اس دین میں ایسا طریقہ ایجاد کیا جس کا تعلّق دین سے نہیں ہےتو وہ مَرْدُود ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الصلح، باب اذا اصطلحوا۔۔۔ الخ، جلد 3، صفحہ 184، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، مصر )
اس حدیثِ پاک کے تحت لمعات النقیح میں ہے: ”والمراد ما كان مخالفًا مغيرًا لهما“یعنی: اس سے مراد وہ چیز ہے کہ جو دین کے خلاف اور دین کو بدلنے والی ہو۔ (لمعات التنقیح شرح مشکاۃ المصابیح، جلد 1، صفحہ 445، مطبوعہ دار النوادر، دمشق)
حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”لَیسَ مِنہُ“ سے مراد قرآن و حدیث کے مخالف، یعنی جو کوئی دین میں ایسے عمل ایجاد کرے جو دین یعنی کتاب و سنّت کے مخالف ہوں جس سے سنّت اُٹھ جاتی ہو وہ ایجاد کرنے والا بھی مَرْدُود اورا یسے عمل بھی باطل۔ “ (مرأۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 146، مطبوعہ ضیاء القرآن، لاھور)
ولیمہ بڑے پیمانے پر کرنا ضروری نہیں، چنانچہ فتاوی امجدیہ میں ہے: ”(ولیمہ کی) دعوت سنت کے لیے کسی زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں، اگر دو چار اشخاص کو کچھ معمولی چیز، اگرچہ پیٹ بھر نہ ہو، اگرچہ دال روٹی چٹنی روٹی ہو، یا اس سے بھی کم کھلاویں سنت ادا ہوجائے گی اور کچھ بھی استطاعت نہ ہو، تو کچھ الزام نہیں۔ ملخصاً “ (فتاویٰ امجدیہ، جلد 4، صفحہ 224، 225، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2935
تاریخ اجراء:27 شوال المکرم 1447ھ/16 اپریل 2026ء