logo logo
AI Search

شوہر کی اجازت کے بغیر حق مہر دینے کے بعد مطالبہ کرنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شوہر کی اجازت کے بغیر حق مہر دیا تو شوہر سے وہ رقم لینے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کو اس کے ایک دوست نے کہا کہ میں نے اپنے نکاح میں جانا ہے تو گاڑی کا انتظام کر دو، زید نے گاڑی کا انتظام کیا اور خود ڈرائیونگ کرکے لڑکے والوں کو نکاح میں لے گیا، نکاح کے دوران نکاح پڑھانے والے مولوی صاحب نے لڑکے والوں سے پوچھا کہ حق مہر کتنا لکھوانا ہے؟ مولوی صاحب کے سوال پر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ سارے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تو زید نے بدنامی سے بچاتے ہوئے مولوی صاحب کو کہہ دیا کہ پانچ ہزار روپے حق مہر لکھ لیں، مولوی صاحب نے لکھ دیا، اس کے بعد جب حق مہر دینے کی باری آئی تو اس وقت بھی کسی نے پیسے نہیں دئیے بلکہ سارے خاموش رہے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے، زید نے پھر اسی نیت سے یعنی شرمندگی سے بچانے کے لئے اپنی طرف سے پانچ ہزار وپے حق مہر میں دے دئیے، اب زید یہ چاہتا ہے کہ میں اپنے پانچ ہزار روپے لڑکے والوں سے واپس لوں، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا زید اپنے پانچ ہزار روپے واپس لے سکتا ہے؟

نوٹ! زید کو کسی نے بھی پیسے دینے کے لئے نہیں کہا بلکہ زید نے از خود اپنی طرف سے دیے اور دیتے وقت اس نیت سے دیے کہ بعد میں واپس لوں گا، لیکن شوہر کی اجازت کے بغیر دیے اور زید دینے میں کسی طرح شرعا مجبور بھی نہیں تھا۔

نیز زید کی لڑکے یا لڑکی والوں سے کوئی رشتے داری نہیں اور نہ ہی زید دونوں میں سے کسی طرف سے نکاح میں مدعو تھا بلکہ فقط لڑکے والوں کی طرف سے ڈرائیور کے طور پر گیا تھا۔

جواب

صورت مسئولہ کے مطابق جب زید نے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کی طرف سے مہر ادا کیا اور وہ اس ادا کرنے میں شرعا مجبور بھی نہیں تھا تو زید کی طرف سے کی گئی ادائیگی تبرع اور احسان ہے، جس کا معاوضہ وہ کسی سے بھی وصول نہیں کر سکتا۔ کیونکہ بیوی کا مہر، شوہر پر دین ہوتا ہے اور دوسرے کا دین جب کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر ادا کرے اور اس ادائیگی میں وہ شرعا مجبور نہ ہو تو وہ ادائیگی تبرع قرار پاتی ہے، جس کا معاوضہ وہ وصول نہیں کر سکتا۔

مجموعہ ظاہر الروایہ، الکافی للحاکم الشہید میں ہے ”واذا وکل الرجل ان یزوجہ امراۃ فزوجھا ایاہ وضمن لھا عنہ المھر جاز ذالک ولم یرجع بہ الوکیل علی الزوج لانہ لم یامرہ بالضمان فان کان امرہ بہ رجع بہ علیہ“ ترجمہ: جب کوئی آدمی کسی کو وکیل بنائے کہ وہ اس کی کسی عورت سے شادی کردے، پس وکیل اس آدمی کی شادی کردے اور اس کی طرف سے عورت کے مہر کا ضامن بن جائے تو یہ جائز ہے اور اس صورت میں وکیل، شوہر سے مہر کے پیسے نہیں لے سکتا کیونکہ شوہر نے وکیل کو مہر کی ضمانت کا حکم نہیں دیا تھا اور اگر شوہر نے حکم دیا تھا تو وکیل شوہر سے مہر کے پیسے لے سکتا ہے۔ (الکافی، کتاب النکاح، باب الوکالۃ فی النکاح، ص 56، مخطوطہ)

شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی علیہ الرحمۃ (متوفی 483ھ) نے المبسوط للسرخسی میں اس کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”لأنه ضمن عنه بغير أمره فإن أمره إياه بالنكاح لا يكون أمرا بالتزام الصداق؛ لأن الوكيل بالنكاح سفير ومعبر لا ملتزم، ومن ضمن عن غيره دينه بغير أمره لم يرجع به عليه؛ لأن تبرعه بالضمان كتبرعه بالأداء فإن كان أمره بذلك رجع عليه كما لو أمره بالأداء“ ترجمہ: کیونکہ وہ شوہر کے حکم کے بغیر ہی اس کی طرف سے ضامن بنا تھا کیونکہ شوہر کا اسے نکاح کا حکم دینا، مہر اپنے ذمے لینے کا حکم نہیں ہوگا، کیونکہ نکاح کا وکیل محض سفیر و معبر ہوتا ہے کسی چیز کو اپنے اوپر لازم کرنے والا نہیں ہوتا اور جو شخص کسی دوسرے کی طرف سے اس کے حکم کے بغیر اس کے دین کا ضامن بنے تووہ اس رقم کے متعلق اس سے رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا ضامن بننے میں تبرع کرنا ایسے ہے جیسے ادائیگی میں تبرع کرنا، اور اگر اس دوسرے شخص نے اس دین کے ضامن بننے کا حکم دیا تھا تو یہ اس سے رجوع کر سکتا ہے جیسا کہ ادائیگی کا حکم دیاہو تو رجوع کر سکتا ہے۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب النکاح، باب الوکالۃ فی النکاح، ج 5، ص 21، دار المعرفۃ، بیروت)

فتاوی خیریہ میں ہے ”اذا دفع دینا لحق الاخر باذنہ فلہ الرجوع علیہ بہ ولایکون متبرعا للاذن حتی اذا لم یاذن لہ بہ کان متبرعا وبہ یعلم انہ اذا دفع مہر زوجتہ عنہ باذنہ او ثمن الجاریۃ التی امرہ بشرائہا یرجع علیہ بما دفع“ ترجمہ: اگر کسی نے دوسرے کا قرض اس کی اجازت سے ادا کیا تو اس سے رجوع کرسکتاہے اور متبرع نہ ہوگا کیونکہ اس نے اس کی اجازت سے ادائیگی کی ہے حتی کہ اگر مقروض نے اس کو ادائیگی قرض کا اذن نہ دیا ہوتا تویہ احسان کرنے والا قرار پاتا (یعنی حق رجوع نہ رکھتا) اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی نے شوہر کے اذن سے اس کی طرف سے اس کی بیوی کا مہر ادا کر دیا یا کسی کی لونڈی کی قیمت ادا کردی جس کی خریداری کا اس نے حکم دیا تھا تو ادا کرنے والا، ادا کردہ رقم کے متعلق رجوع کر سکتا ہے۔ (فتاوی خیریۃ بھا مش الفتاوی الحامدیۃ، کتاب البیوع، ج 1، ص 371، مطبوعہ کوئٹہ)

رد المحتار میں ہے ”فقد صار حادثة الفتوى في صبي زوجه وليه ودفعت أمه عنه المهر وهي غير وصي عليه ثم بلغ فأرادت الرجوع عليه. وينبغي في هذه الحادثة عدم الرجوع لإيفائها دين الصبي بلا إذن ولا ولاية“ ترجمہ: ایک نئی صورت پیش آئی ہے کہ ایک بچے کا اس کے ولی نے نکاح کیا اور اس کی ماں نے جو کہ اس کی وصی نہیں، اس کا مہر ادا کیا، پھر وہ بچہ بالغ ہوا تو ماں نے مہر کے پیسے بچے سے لینے کا ارادہ کیا تو اس صورت میں حکم یہ ہونا چاہئے کہ ماں پیسے نہیں لے سکتی کیونکہ اس نے بچے کا دین اجازت و ولایت کے بغیر ادا کیا تھا۔ (رد المحتار مع الدر المختار، ج 3، ص 142، دار الفکر، بیروت)

بنایہ شرح ہدایہ میں ہے "أدى دين غيره بغير أمره، وهو غير مضطر فيه فكان متبرعا" ترجمہ: اس نے دوسرے کا دین اس کی اجازت کے بغیر ادا کیا ہے اور وہ ادائیگی پر مجبور بھی نہیں تھا تو وہ متبرع ہے۔ (البنایۃ شرح الہدایۃ، ج 10، ص 98، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-737
تاریخ اجراء: 19 رجب المرجب 1444 ھ / 11 فروری 2023 ء