logo logo
AI Search

سگے بیٹے کا لے پالک بیٹی سے نکاح ہو سکتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سگے بیٹے کا لے پالک بیٹی سے نکاح کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ منہ بولی ماں کا سگہ بیٹا، اس کی منہ بولی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے، تو اس کا حکم ارشاد فرما دیں۔

جواب

قوانینِ شرعیہ کی رو سے منہ بولا، یا لے پالک بیٹا یا بیٹی، حقیقی بیٹا بیٹی نہیں بن جاتے، اور نہ ہی محرم بنتے ہیں، جب تک کہ اس کا کوئی سبب رضاعی رشتہ وغیرہ نہ پایا جائے۔ لہٰذا اگر اس منہ بولی لڑکی کا اس عورت کے سگے بیٹے سے نکاح ممنوع ہونے کی دوسری وجوہات، مثلاً نسبی یا رضاعی رشتہ، یا مصاہرت وغیرہ، موجود نہ ہوں تو، اس منہ بولی لڑکی سے اس عورت کے سگے بیٹے کا نکاح کرنا جائز ہے۔

لے پالک اور منہ بولا بیٹا یا بیٹی حقیقی اولاد کی طرح نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْؕ-ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے اور اللہ حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے۔ (پارہ 21، سورۃ الاحزاب، آیت 4)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ قریب البلوغ لے پالک بچی کے متعلق ہونے والے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ”دختر۔۔۔ اب کہ بالغہ ہوئی یا قریب بلوغ پہنچی جب تک شادی نہ ہو ضرور اس کو باپ کے پاس رہنا چاہیے، یہاں تک کہ نو برس کی عمر کے بعد سگی ماں سے لڑکی لے لی جائے گی اور باپ کے پاس رہے گی نہ کہ اجنبی جس کے پاس رہنا کسی طرح جائز ہی نہیں، بیٹی کرکے پالنے سے بیٹی نہیں ہو جاتی۔ ملخصا۔“ (فتاوی رضویہ، ج 13، ص 412، 413، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5225

تاریخ اجراء: 27 محرم الحرام 1448ھ/13 جولائی 2026ء