عورت کی دو الگ شوہروں سے ہونے والی اولاد کا آپس میں نکاح
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایک عورت کی دو شادیاں ہوں اور دونوں سے اولاد ہو، تو کیا ان کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر ایک عورت کی دو شادیاں ہوئیں تو کیا ان دونوں سے اس عورت کی جو اولاد ہے ان کی آپس میں شادی ہو سکتی ہے؟
جواب
ایک عورت کے ایسے دو بچے جو دو الگ الگ شوہروں سے ہوں ان کی بھی آپس میں شادی نہیں ہو سکتی کہ یہ دونوں ماں شریک بہن بھائی ہیں اور آپس میں نسبی محارم ہیں، ان کا ایک دوسرے سے نکاح حرام ہے۔
بہار شریعت میں ہے: ”بہن خواہ حقیقی ہو یعنی ایک ماں باپ سے یا سوتیلی کہ باپ دونوں کا ایک ہے اور مائیں دو یا ماں ایک ہے اور باپ دو سب حرام ہیں۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 2، صفحہ 22، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2458
تاریخ اجراء: 21 ربیع الاوّل 1447ھ/15 ستمبر 2025ء