ماں کی دوسری شادی کے بعد بچوں کی پرورش کس کے پاس ہوگی؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
باپ کے انتقال کے بعد ماں کو بچوں کی پرورش کا حق کب تک ہوتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
نوٹ: یہ یاد رہے کہ بچوں کے دادا بھی ہیں اور نانی بھی ہے اور یہ دونوں پرورش کرنے کے اہل بھی ہیں۔
جواب
صورت مسئولہ میں جن بچوں کا ذکر ہے، ان میں سے بیٹے کی عمر 11 سال ہے لہذا اس کی پرورش کا حق تو ماں کے پاس نہیں رہا، خواہ وہ شادی کرے یانہ کرے۔ بلکہ اب لڑکا بالغ ہونے تک دادا کے پاس رہے گا اور بالغ ہونے کے بعد جب وہ ایسی حالت کو پہنچ جائے کہ اب اس کے اخلاق وغیرہ بگڑنے کا اندیشہ نہ رہے اور اس پر مکمل اعتماد ہو سکے کہ اس میں فساد وغیرہ نہیں آئے گا، جس کی وجہ سے کوئی فتنہ یا عار ہو تو اب وہ خود مختار ہوگا، جہاں چاہے رہے۔
اور بیٹی کی عمر 4 سال ہے تو 9 سال کی عمر تک ماں کو اس کی پرورش کا حق ہے لیکن اس وقت تک کہ ماں، بچی کے نامحرم سے شادی نہ کرے، اگر ماں نے بچی کےنامحرم سے شادی کرلی تواب اس کاحق پرورش ختم ہوجائے گا اور اس کے بعد پھر 9 سال کی عمر ہونے تک پرورش کا حق اس کی نانی کوملے گا۔ اور جب لڑکی کی عمر 9 سال کی ہوجائے تو اب نانی کاحق پرورش ختم ہو جائے گا اور شادی تک لڑکی اپنے دادا کے پاس رہے گی۔
حق پرورش کے لیے عمرکی مقدارکے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے "و الأم و الجدة أحق بالغلام حتى يستغني و قدر بسبع سنين و قال القدوري حتى يأكل وحده و يشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول و الأم و الجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد – رحمه اللہ تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين. ترجمہ: اور ماں اوردادی، نانی لڑکے کی زیادہ حقدار ہیں جب تک لڑکا مستغنی نہ ہوجائے اور اس کی مقدار سات سال بیان کی گئی ہے اورقدوری نے کہا یہاں تک کہ وہ خود کھانے، پینے اور استنجاء کرنے لگے اور ابوبکر رازی نے اس کی مقدار نو سال مقرر کی ہے اورفتوی پہلے قول پر ہے اور ماں اوردادی، نانی بچی کی پرورش کا اس وقت تک حق رکھتی ہیں جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے اور نوادر ہشام میں امام محمدعلیہ الرحمۃ سے مرودی ہے کہ جب وہ شہوت کی حد کو پہنچ جائے تو باپ زیادہ حق دار ہے اور یہ صحیح ہے اسی طرح تبیین میں ہے۔ (الفتاوی الہندیۃ، ج 01، ص 542، کوئٹہ)
تبیین الحقائق، عنایہ شرح ہدایہ اور اللباب فی شرح الکتاب میں ہے ''و قدرہ أبو اللیث بتسع سنین، و علیہ الفتوی'' ترجمہ: فقیہ ابو اللیث نے حدشہوت کی مقدار نو برس کی عمرکو قرار دیا ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ (تبیین الحقائق، کتاب الطلاق، باب الحضانۃ، ج 03، ص 49، المطبعۃ الکبری، بولاق، القاہرۃ)
نکاح سےحق پرورش ختم ہونے سے متعلق سنن الدارقطنی میں ہے ''فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:''انت احق بہ مالم تتزوجی'' ترجمہ: پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشادفرمایا: ''تو اس کی زیادہ حق دار ہے جب تک تو نکاح نہ کرلے۔ (سنن الدار قطنی، باب المہر، ج 04، ص 469، مؤ سسۃ الرسالۃ، بیروت)
شیخ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1052ھ) لمعات التنقیح فی شرح مشکاۃ المصابیح میں فرماتے ہیں: و هذا الحديث مطلق، و قد قيده علماؤنا، و قالوا بنكاح غير محرم منه يسقط و لمحرم لا، كأم نكحت عمه لقيام الشفقة“ ترجمہ: یہ حدیث مطلق ہے، لیکن ہمارے علماء نے اسے مقید کر کے فرمایا: غیر محرم سے نکاح کرنا عورت سے حقِ حضانت ساقط کرے گا، محرم سے نہیں، جیسے ماں اگر بچے کے چچا سے نکاح کرے، (اس صورت میں) شفقت کے پائے جانے کی وجہ سے۔ (لمعات التنقیح، باب بلوغ الصغیر و حضانتہ فی الصغر، ج 6، ص 214، دار النوادر، دمشق(
رد المحتار میں ہے "قال الرملي: ويشترط في الحاضنة أن تكون حرة بالغة عاقلة أمينة قادرة، وأن تخلو من زوج أجنبي" ترجمہ: علامہ رملی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: پرورش کرنے والی کے لیے شرط ہے کہ وہ آزاد بالغہ عاقلہ امانت دار اور قادرہ ہو اور یہ اجنبی شوہر سے اس نے نکاح نہ کیا ہو۔ (رد المحتارمع الدر المختار، باب الحضانۃ، ج 05، ص 259، کوئٹہ)
درر شرح غررمیں ہے (يسقط حقها) أي حق الحضانة أما كانت، أو غيرها كالجدة (بنكاح غير محرم) أي محرم الولد لانتقاص الشفقة" ترجمہ: پرورش کرنے والی ماں یا اس کے علاوہ کوئی اور مثلا دادی، نانی، اس کاحق ساقط ہو جاتا ہے بچے کے غیر محرم کے ساتھ نکاح کرنے کی وجہ سے شفقت کی کمی کی وجہ سے۔ (درر الحکام شرح غرر الاحکام، ج 01، ص 411،دار احیاء الکتب العربیۃ)
اور ماں کے بعد نانی کوحق پرورش ملنے کے متعلق درمختارمیں ہے (ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقهاأو تزوجت بأجنبي (أم الأم) ترجمہ: پھر ماں کے بعدیوں کہ ماں فوت ہوگئی یاوہ لیتی نہیں یا اس نے اپنا حق ساقط کردیا یا اس نے کسی اجنبی کے ساتھ نکاح کرلیا ایسی صورت میں حق پرورش نانی کو ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، باب الحضانۃ، ج 5، ص 269، کوئٹہ)
حق پرورش ختم ہونے کے بعدبچے کہاں رہیں گے، اس کے متعلق، در مختار میں ہے (و الغلام إذا عقل و استغنى برأيه ليس للأب ضمه إلى نفسه) إلا إذا لم يكن مأمونا على نفسه فله ضمه لدفع فتنة، أو عار، و تأديبه إذا وقع منه شيء، و لا نفقة عليه إلا أن يتبرع بحر، (و الجد بمنزلة الأب فيه) فيما ذكر“ ترجمہ:بچہ جب عاقل اور اپنی رائے کے متعلق خود مختار ہوجائے تو باپ کو اسے اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں، ہاں اگر وہ بچے کے متعلق مامون (امن میں) نہ ہو تو فتنہ، عار دور کرنے کے لئے یا اسے ادب سکھانے کے لئے اپنے پاس رکھ سکتا ہے جبکہ ان چیزوں کا بچے سے ظہور بھی ہوا ہو،اور باپ پر اس صورت میں بچے کا نفقہ لازم نہیں ہوگا مگر یہ کہ وہ تبرعاً اس پر خرچ کر سکتا ہے، بحر، اور ان مسائل میں دادا بھی باپ کے بمنزلہ ہے۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے (قوله: و الغلام إذا عقل إلخ) ۔ ۔ ۔ ثم المراد الغلام البالغ لأن الكلام فيما بعد البلوغ“ ترجمہ: (مصنف کا قول: بچہ جب عاقل ہو جائے) اس سے مراد بالغ بچہ ہے کیونکہ کلام بلوغت کے بعد کے مسائل سے متعلق ہے۔ (در مختار، کتاب الطلاق، باب الحضانۃ، ج 5، ص 277، کوئٹہ)
مزیددر مختار میں ہے (بلغت الجارية مبلغ النساء، إن بكرا ضمها الأب إلى نفسه) ترجمہ: لڑکی جب عورتوں کی عمر کو پہنچ جائے (یعنی بالغ ہوجائے) تو اگر باکرہ ہو تو باپ اسے اپنے پاس رکھے گا۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے ”و الأب غير قيد، فإن الأخ و العم كذلك عند فقد الأب ما لم يخف عليها منهما“ ترجمہ: باپ کی قید ضروری نہیں، باپ کی عدم موجودگی میں بھائی اور چچا کے لئے بھی یہی حکم ہے جب تک ان کی طرف سے بچی پر خوف نہ ہو۔ (در مختار، کتاب الطلاق، باب الحضانۃ، ج 5، ص 277، کوئٹہ)
فتاوی ہندیہ میں ہے "و إذا وجب الانتزاع من النساء أو لم يكن للصبي امرأة من أهله يدفع إلى العصبة فيقدم الأب، ثم أبو الأب، و إن علا" ترجمہ: اور جب بچے کوعورتوں سے لیناضروری ہوجائے یا کسی بچے کی اس کے خاندان میں کوئی عورت ہی نہ ہو تو بچے کو اس کے عصبہ کے حوالے کیا جائے گا، پس اولا باپ کا حق ہے پھر دادا کا اگرچہ اوپر کے درجہ میں ہو۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الطلاق، الباب السادس عشرفی الحضانۃ، ج 01، ص 542، کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے مسئلہ ۱۵: سات برس کی عمر سے بلوغ تک لڑکااپنے باپ یا دادا یا کسی اور ولی کے پاس رہے گا پھر جب بالغ ہوگیا اور سمجھ وال ہے کہ فتنہ یا بدنامی کا اندیشہ نہ ہو ا ور تا دیب کی ضرورت نہ ہو تو جہاں چاہے وہاں رہے اور اگر اِن باتوں کا اندیشہ ہو اور تا دیب کی ضرورت ہو تو باپ دادا وغیرہ کے پاس رہے گا خود مختار نہ ہوگا مگر بالغ ہونے کے بعد باپ پر نفقہ واجب نہیں اب اگر اخراجات کا متکفل ہو تو تبرع واحسان ہے۔ (عالمگیری، درمختار) یہ حکم فقہی ہے مگر نظر بحالِ زمانہ خود مختار نہ رکھا جائے، جب تک چال چلن اچھی طرح درست نہ ہو لیں اور پورا وثوق نہ ہولے کہ اب اس کی وجہ سے فتنہ و عار نہ ہوگا کہ آج کل اکثر صحبتیں مخرب اخلاق ہوتی ہیں اور نو عمری میں فساد بہت جلد سرایت کرتا ہے۔ مسئلہ ۱۶: لڑکی نو برس کے بعد سے جب تک کو آری ہے باپ دادا بھائی وغیرہم کے یہاں رہے گی۔ (بھار شریعت، ج 02، حصہ 08، ص 255، 256، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-0432
تاریخ اجراء: 04 ذو القعدۃ الحرام 1443ھ / 04 جون 2022ء