منگل یا بدھ کو نکاح کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
منگل یا بدھ کے دن نکاح کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا منگل (Tuesday) یا بدھ (Wednesday) کے دن نکاح کرنا، ناجائز ہے؟
جواب
منگل یا بدھ کو نکاح کی تقریب کرنا باقی دنوں کی طرح بغیر کسی شک و شبہ کے جائز ہے، شرعاً کوئی ممانعت نہیں، اگر کوئی منگل یا بدھ کے دن شادی کرنے کو منحوس سمجھتا ہے تو یہ جائز نہیں کہ یہ بد شگونی ہے اور اسلام میں بد شگونی جائز نہیں۔
البتہ شادی بیاہ کی تقریبات میں گناہ کا کام بے برکتی اور نحوست کا سبب بن سکتا ہے، اس سے بچنا ہر صورت میں لازم ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لیس منا من تطیر“ یعنی جس نے بدشگونی لی، وہ ہم میں سے نہیں (یعنی ہمارے طریقے پر نہیں)۔ (المعجم الکببیر، ج 18، ص 162، بیروت)
العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے: ”و سئل ما يكون السؤال عن النحس، والسعد، وعن الأيام، والليالی التی تصلح لنحو السفر والانتقال ما يكون جوابه؟ (أجاب) من يسأل عن النحس و ما بعده لا يجاب إلا بالإعراض عنه و تسفيه ما فعله و يبين له قبحه و أن ذلك من سنة اليهود لا من هدى المسلمين المتوكلين على خالقهم“ یعنی حضرت علامہ آفندی علیہ الرحمہ سے منحوس و مبارک اور دنوں اور راتوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ان میں سے کچھ ایسے ہیں کہ سفر و دیگر کاموں کے لیے منحوس یا بابرکت ہوتے ہیں؟ تو آپ علیہ الرحمہ نے جواب دیا کہ جو شخص کسی چیز کے منحوس ہونے کے بارے میں سوال کرے تو اسے جواب نہ دیا جائے، بلکہ اس سے اعراض کیا جائے اور اس کے فعل کو جہالت کہا جائے اور اس کی برائی کو بیان کیا جائے کیونکہ یہ (کسی چیز کو اپنے حق میں منحوس سمجھنا) یہودیوں کا طریقہ ہے مسلمانوں کا طریقہ نہیں جو اپنے خالق عزوجل پر توکل رکھتے ہیں۔ (العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ، جلد 2، صفحہ 333، دار المعرفہ، بیروت)
امام اہل سنت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سُوال ہوا: ”اکثر لوگ 3، 13، 23، یا 8، 18، 28 وغیرہ تواریخ اور پنجشنبہ ویکشنبہ و چہار شنبہ (یعنی جمعرات، اتوار اور بدھ) وغیرہ ایام کو شادی وغیرہ نہیں کرتے۔ اعتقاد یہ ہے کہ سخت نقصان پہنچے گا ان کا کیا حکم ہے؟“ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”یہ سب باطِل و بے اصل ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ 272، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک اور مقام پر امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”نکاح ہر دن جائز ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 241، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2461
تاریخ اجراء: 23 ربیع الاوّل 1447ھ/17 ستمبر 2025ء