جس عورت سے باپ نے زنا کیا اس سے بیٹے کا نکاح کرنا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جس خاتون سے باپ نے زنا کیا، اس سے بیٹے کا شادی کرنا جائز ہے یا نہیں
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
زید شادی شدہ ہے اور اس کا ایک بیٹا عمرو ہے زید نے بیوی کو چھوڑ کر ہندہ کے ساتھ بدکاری کی۔ اب یہ معلوم کرنا ہے کہ عمرو جو کہ زید کا بیٹا ہے اس کا ہندہ سے نکاح جائز ہے یا نہیں ؟
جواب
استغفر اللہ! زنا کرنا، ناجائز و حرام، جہنم کا مستحق بنانے والا، بے حیائی پر مشتمل کام ہے۔ اس کی شدید مذمت قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہے۔ اس برے فعل سے بچنا ہر مسلمان پر لازم و ضروری ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں زید اور ہندہ دونوں پر شرعاً لازم ہے کہ توبہ کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے اس گناہ سے صدقِ دل سے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کریں اور آئندہ اس گناہ سے باز رہیں، نیز ہر اس چیز سے دور بھاگیں جو اس گناہ کی لے جانے والی ہو۔
پوچھی گئی صورت میں عمر و کا ہندہ سے نکاح کرنا حرام ہے کیونکہ باپ نے جس عورت سے زنا کیا ہو بیٹے کا اس عورت سے نکاح حرام ہے۔
فتاوٰی عالمگیری میں ہے: ” فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت و ابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزنی بها على آباء الزانی وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا فی فتح القدیر“ یعنی جس نے کسی عورت سے زنا کیا تو اس عورت کی ماں اوپر تک زانی پر حرام ہے، یونہی اس عورت کی بیٹی نیچے تک زانی پر حرام ہے۔ اسی طرح زانیہ پر زانی کے آباؤ و اجداد اوپر تک اور بیٹے نیچے تک حرام ہوجائیں گے، جیسا کہ فتح القدیر میں مذکور ہے۔ (فتاوٰی عالمگیری، کتاب النکاح، ج 01، ص 274، دار الفكر، بيروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2459
تاریخ اجراء: 22 ربیع الاوّل 1447ھ/16 ستمبر 2025ء