لڑکے کی اجازت کے بغیر نکاح ہو تو کیا یہ نکاح فضولی ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
لڑکے سے اجازت لینے سے پہلے لڑکی سے ایجاب و قبول کروا لیا تو نکاح کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
لڑکے کی طرف سے پیشگی اجازت ووکالت کے بغیر نکاح خواں کا اُس کی طرف سے ایجاب، یا قبول کرنا، خواہ ایجاب و قبول کی مجلس میں لڑکا موجود ہو یا نہ ہو، بہر صورت میں نکاحِ فضولی کہلائے گا۔ فقہِ حنفی میں نکاحِ فضولی باطل نہیں ہوتا، بلکہ موقوفاً منعقد ہوجاتا ہے، یعنی اس کا نفاذ اس شخص کی اجازت پر موقوف رہتا ہے، جس کی طرف سے بغیر اجازت ایجاب یا قبول کیا گیا ہو۔ بعد میں اجازت جس طرح الفاظ کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے، مثلاً یہ کہنا کہ ’’میں نے اس نکاح کو قبول کرلیا‘‘ یا ’’مجھے یہ نکاح منظور ہے‘‘، اسی طرح ایسے افعال سے بھی حاصل ہوجاتی ہے، جو عرفاً رضامندی پر دلالت کرتے ہوں۔ نکاح فارم پر دستخط کرنا چونکہ رضا مندی پر دلالت کرنے والا عمل ہے، لہذا اگر شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح خواں لڑکی سے ایجاب و قبول کروا لے، جبکہ لڑکے کی طرف سے پہلے وکالت موجود نہ ہو، تو یہ نکاحِ فضولی ہوگا اور لڑکے کی اجازت پر موقوف ہوگا۔ اس کے بعد اگر لڑکا اس نکاح کو مسترد (Reject) کرنے کے بجائے نکاح فارم پر دستخط کردے، تو یہ لڑکے کی طرف سے اُس نکاح پر رضا مندی اور اس عقدِ فضولی کو نافذ کرنا ہوگا، لہذا وہ موقوف نکاح لڑکے کی اجازت سے نافذ ہوجائے گا، بلکہ دستخط سے پہلے بھی کئی امور ایسے ہوسکتے ہیں جو لڑکے کی طرف سے رضامندی اور نفاذ قرار پائیں۔
بغیر شرعی اجازت اور بغیر وکالت کے کسی دوسرے کے حق میں تصرف کرنے والا شخص ’’فضولی‘‘ کہلاتا ہے، چنانچہ رد المحتار میں بحر الرائق کے حوالے سے ہے: ’’قال في البحر: الفضولي من يتصرف لغيره بغير ولاية و لا وكالة أو لنفسه، و ليس أهلا‘‘ ترجمہ:بحر الرائق میں فرمایا: فضولی وہ شخص ہے جو کسی دوسرے کے لئے(اس کےحق میں) بغیر ولایت (شرعی اختیار) اور بغیر وکالت کے تصرف کرے، یا اپنے ہی معاملے میں تصرف کرےاوروہ اس تصرف کا اہل (شرعی طور پر مجاز) نہ ہو۔ (ردا لمحتار علی الدر المختار، جلد 4، صفحہ 214، دار المعرفۃ، بیروت)
عقدِ فضولی اجازت پر موقوف ہوکر منعقد ہوجاتا ہے، چنانچہ ہدایہ میں ہے: ’’لو زوج رجل امرأة بغير رضاها أو رجلا بغير رضاه وهذا عندنا فإن كل عقد صدر من الفضولي وله مجيز انعقد موقوفا على الإجازة‘‘ ترجمہ: اگر کسی شخص نے کسی عورت کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر، یا کسی مرد کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر کر دیا، تو ہمارے نزدیک (یعنی فقہِ حنفی میں) یہ حکم ہے کہ ہر وہ عقد جو فضولی (بلا اجازت تصرف کرنے والے) کی طرف سے صادر ہو اور اس کا کوئی اجازت دینے والا موجود ہو، تووہ اجازت پر موقوف ہو کر منعقد ہوجاتا ہے۔ (الھدایہ، کتاب النکاح، جلد 1، صفحہ 197، داراحیاء التراث العربی، بیروت)
تنویر الابصار مع درمختار میں ہے: ”(ھو من يتصرف في حق غيره بغير إذن شرعي، کل تصرف صدر منہ) تملیکا کان کبیع و تزویج او اسقاط کطلاق و اعتاق (و لہ مجیز) ای لھذہ التصرف من یقدر علی اجازتہ (حال وقوعہ انعقد موقوفا)“ ترجمہ: (فضولی وہ ہے) جو کسی دوسرے کے حق میں بغیر شرعی اجازت کے تصرف کرے۔ اس کا ہر وہ تصرف جو اس سے صادر ہو، خواہ وہ تملیک ہو جیسے بیع اور نکاح، یا اسقاط ہو جیسے طلاق اور آزادیِ غلام۔ اور اس تصرف کے لیے ایک ایسا شخص موجود ہو جو اس كے واقع ہونے وقت اس کی اجازت دینے پر قادر ہو، تو وہ تصرف (اصل مالک کی اجازت پر) موقوف ہوگا۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 5، صفحہ 318، 317،دار المعرفۃ، بيروت)
لڑکے کا مجلس عقد میں موجود ہونا اور خاموش ہونا بھی رضا مندی پر دلیل نہیں، چنانچہ ردالمحتار میں ہے: ’’أن الإجازة اللاحقة كالإذن السابق، و نظيره إذا أجاز نكاح الفضولي بالفعل يجوز و مجرد حضوره و سكوته وقت العقد لا يدل على الرضا‘‘ ترجمہ: بعد میں دی جانے والی اجازت پہلے سے دی گئی اجازت کی طرح ہوتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب کوئی شخص فضولی نکاح (یعنی کسی غیر مجاز شخص کے کئے ہوئے نکاح) کو بعد میں منظور کر لے تو وہ جائز ہو جاتا ہے اور عقدِ نکاح کے وقت محض اس کا موجود ہونا اور خاموش رہنا رضامندی پر دلالت نہیں کرتا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، صفحہ 14، دار المعرفۃ، بیروت)
نکاحِ فضولی کی اجازت قول و فعل دونوں کے ذریعے ثابت ہوجاتی ہے، چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’و تثبت الإجازة لنكاح الفضولي بالقول و الفعل، كذا في البحر الرائق رجل زوج رجلا امرأة بغير إذنه فبلغه الخبر فقال: نعم ما صنعت، أو بارك اللہ لنا فيها، أو قال: أحسنت، أو أصبت؛ كان إجازة، كذا في فتاوى قاضي خان و هو المختار اختاره الشيخ أبو الليث، كذا في المحيط‘‘ ترجمہ: نکاحِ فضولی کی اجازت قول اور فعل دونوں کے ذریعے ثابت ہوجاتی ہے، یونہی بحر الرائق میں مذکور ہے۔ اگر کسی شخص نے کسی مرد کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کر دیا، پھر جب اسے اس کی خبر پہنچی تو اس نے کہا: ’’تم نے اچھا کیا‘‘، یا ’’اللہ ہمارے لیے اس عورت میں برکت عطا فرمائے‘‘، یا کہا: ’’تم نے اچھا کام کیا‘‘، یا ’’تم درست کام پر پہنچے‘‘، تو یہ سب اجازت شمار ہوں گے۔ فتاویٰ قاضی خان میں یہی مذکور ہے اور یہی مختار قول ہے، جسے شیخ ابو اللیث نے اختیار کیا ہے، یونہی محیط میں ہے۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد 1، صفحہ 299، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’مذہب راجح پر یہ نکاح، نکاحِ فضولی ہوتے ہیں اور نکاحِ فضولی کو مذہبِ حنفی میں باطل جاننا محض جہالت وفضولی بلکہ باجماعِ ائمہ حنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم منعقد ہوجاتا ہے اور اجازتِ اصیل پرموقوف رہتا ہے اگر وہ اجازت دے نافذ ہوجائے اور رد کردے تو باطل ۔ ۔ ۔ پھر اجازت جس طرح قول سے ہوتی ہے مثلاً عورت خبرنکاح سن کرکہے میں نے جائز کیا، یا اجازت دی، یا راضی ہوئی، یا مجھے قبول ہے، یا اچھا کیا، یا خدا مبارک کرے الٰی غیر ذٰلک من الفاظ الرضا (علاوہ ازیں تمام وہ الفاظ جو رضا پر دلالت کرتے ہیں۔ ت) یوں ہی اس فعل یا حال سے بھی ہوجاتی ہے جس سے رضا مندی سمجھی جائے مثلاً عورت اپنا مہر مانگے یا نفقہ طلب کرے یا مبارکباد لے یا خبر نکاح سن کر خوشی سے ہنسے یا مسکرائے یا اپنا جہیز شوہر کے گھر بھجوائے یا اس کا بھیجا ہوا مہر لے لے ۔ ۔ ۔ و نحو ذلک من کل فعل یدل علی الرضا (اور یونہی اس قسم کے تمام وہ افعال جو رضا مندی پر دلالت کرتے ہیں۔ ت) ان سب صورتوں میں وہ نکاح کہ موقوف تھا جائز و نافذ و لازم ہوجائے گا۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 146، 145، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے: ’’فضولی نے ایجاب کیا اور قبول کرنے والا کوئی دوسرا ہے، جس نے قبول کیا خواہ وہ اصیل ہو، یا وکیل، یا ولی، یا فضولی تو یہ عقد اجازت پر موقوف رہا۔ جس کی طرف سے فضولی نے ایجاب یا قبول کیا اس نے جائز کر دیا، جائز ہوگيا اور رد کردیا، باطل ہوگيا ۔ ۔ ۔ فضولی نے جو نکاح کیا اُس کی اجازت قول و فعل دونوں سے ہو سکتی ہے، مثلاً کہا تم نے اچھا کیا یا اللہ (عزوجل) ہمارے ليے مبارک کرے یا تو نے ٹھیک کیا اور اگر اُس کے کلام سے ثابت ہوتا ہے کہ اجازت کے الفاظ استہزا کے طور پر کہے تو اجازت نہیں۔ اجازتِ فعلی مثلاً مہر بھیج دینا، اُس کے ساتھ خلوت کرنا۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 11، صفحہ 62، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FAM-1236
تاریخ اجراء: 04 محرم الحرام 1447ھ / 19 جون 2026ء