logo logo
AI Search

بانجھ مرد سے نکاح کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بانجھ مرد سے نکاح کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا ایسے مرد سے نکاح کرنا درست ہے، جس سے اولاد پیدا نہیں ہو سکتی؟

جواب

شریعت اسلامیہ میں نکاح کے اعظم مقاصد میں سے ایک مقصد اولاد کا حصول بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے ایسی عورتوں سےشادی کرنے کی ترغیب دلائی ہے، جو زیادہ بچے پیدا کرنے والی ہوں۔ لہذا، مردوں میں سے بھی ایسے مرد سے شادی بہتر ہوگی کہ جو بانجھ نہ ہو۔ البتہ! مرد و عورت میں سے کوئی بانجھ ہو، تو اس سے شادی کرناجائز ہے، اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں باہمی رضا مندی سے ایسے شخص سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں، جس سے اولاد کا حصول نہیں ہوسکتا۔

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جاء رجل إلى رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم فقال: إني أصبت امرأة ذات حسب و منصب، إلا أنها لا تلد، أ فأتزوجها؟ فنهاه، ثم أتاه الثانية، فنهاه، ثم أتاه الثالثة، فنهاه، فقال: تزوجوا الولود الودود؛ فإني مكاثر بكم“ ترجمہ: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: میں ایک ایسی عورت سے ملا ہوں جو حسب و نسب اور مرتبہ والی ہے، مگر وہ بچہ نہیں جنتی، تو کیا میں اس سے نکاح کرلوں؟ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے منع فرمادیا۔ پھر وہ دوسری مرتبہ حاضر ہوا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے پھر منع فرمادیا۔ پھر تیسری مرتبہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم نے پھر منع فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ایسی عورتوں سے نکاح کرو جو زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی ہوں، کیونکہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے (قیامت کے دن) دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔ (سنن النسائي، ج 6، ص 124، رقم الحديث 3227، دار الرسالۃ العالمیۃ)

اس حدیث پاک کی شرح میں مراۃ المناجیح میں ہے زوجین کی محبت سے گھر کی آبادی ہے اور بچوں کی پیدائش سے مقصود نکاح کا حصول ہے، زوجین کی عداوت گھر تباہ کردیتی ہے، خیال رہے کہ بیوہ عورت کے یہ دونوں وصف اس کی گزشتہ زندگی سے معلوم ہوں گے اور کنواری کے یہ اوصاف اس کی خاندانی عورتوں سے ظاہر ہوں گے کیونکہ اکثر لڑکیاں اپنی خاندانی عورتوں سے پہچانی جاتی ہیں۔

"فإني مكاثر بكم" کے تحت اسی میں ہے یعنی کل قیامت میں مجھے اس چیز سے بہت خوشی ہوگی کہ میری امت تمام امتوں سے زیادہ ہو اور ان شاءاللہ ایسا ہی ہوگا، اہل جنت کی کل ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں سے اسی صفیں امت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی ہوں گی اور چالیس صفیں سارے نبیوں کے امتی، بلکہ دنیا میں بھی کثرت تعداد ترقی قوم کا ذریعہ ہے آج کثرت رائے سے سلطنت وزارت وغیرہ بنتی ہیں۔ مرقات نے اس حدیث کا یہ مطلب بھی بتایا کہ محبت والی بچے جننے والی عورتوں کو نکاح میں رکھو کہ اگر ایسی عورت میں اور کوئی دوسری شکایت بھی ہوں تو اس کی پرواہ نہ کرو محبت و اولاد اللہ کی بڑی نعمت ہے۔ (مراۃ المناجیح، ج 5، ص 8، 9، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوٰی رضویہ میں نامرد سے متعلق کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: جب اس طرح سال کامل گزر جائے اور زید (عنین) ہندہ پر قدرت نہ پائے تو اس وقت بطلب ہندہ زید و ہندہ میں تفریق کردی جائے، اب بعد عدت ہندہ کو اختیار نکاح ہوگا۔ (فتاوٰی رضویہ، ج 11، ص 196، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں ایک سوال ہوا شوہر دائرہ مردانیت سے بالکل بعید ہے یعنی نامرد ہے لہذا اس قسم سے یا ایسے نامرد سے منکوحہ کا نکاح جائز ہے یا ناجائز؟ اس کے جواب میں ہے نکاح صحیح ہوگیا، عورت بےموت یا طلاق جُدانہیں ہوسکتی اگرچہ مرد نامرد ہو۔ ۔۔۔ رہامرد، اُسے حکمِ شریعت ہے کہ جب وُہ عورت کا حق ادا نہیں کرسکتا تو اُس پر فرض ہے کہ عورت کو طلاق دے دے نہ دے گا تو گنہگار و مستحقِ عذاب ہوگا۔ (فتاوی رضویہ، ج 12، ص 487، رضافاونڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5031
تاریخ اجراء: 05 ذو الحجۃ الحرام 1446ھ / 22 مئی 2026ء