سوتیلے بیٹے کی بیوی محرم ہے یا نہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مرد کے لیے سوتیلے بیٹے کی بیوی محرم ہے یا غیر محرم؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سوتیلے بیٹے (جو بیوی کے سابقہ شوہر سے ہے، اس) کی بیوی محرم ہے یا غیر محرم؟
جواب
مرد کے لیے سوتیلے بیٹے کی بیوی غیر محرم ہے، کیونکہ ان دونوں کے درمیان حرمتِ نکاح کا کوئی شرعی سبب موجود نہیں، لہذا اُس عورت کا اپنے شوہر کے سوتیلے باپ سے پردہ کرنا واجب ہے، بلکہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اجنبی غیر محرم کے مقابلے میں، غیر محرم رشتہ داروں سے پردہ کرنے کی زیادہ تاکید ہے۔
سوتیلے بیٹے کی بیوی محرم نہیں۔ چنانچہ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے: ”قال الخير الرملي: و لا تحرم بنت زوج الأم و لا أمه و لا أم زوجة الأب و لا بنتها و لا أم زوجة الابن و لا بنتها و لا زوجة الربيب و لا زوجة الراب“ ترجمہ: علامہ خیر الدین رملی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ماں کے شوہر (سوتیلے باپ) کی بیٹی حرام نہیں ہے، نہ اس کی ماں، نہ باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) کی ماں، نہ اس کی بیٹی، نہ بیٹے کی بیوی کی ماں، نہ اس کی بیٹی، اور نہ ہی سوتیلے بیٹے کی بیوی اور نہ ہی سوتیلے باپ کی بیوی حرام ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 4، صفحہ 105، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
سوتیلے بیٹے کی بیوی سے نکاح کے حلال ہونے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں علامہ حبیب اللہ نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: زید کا اپنی مذکورہ بیوی کے اس لڑکے کی مطلقہ بیوی سے نکاح صحیح و درست اور جائز و حلال ہے، جس کو اس کی مذکورہ بیوی اپنے ہمراہ زید کے گھر لے آئی تھی، جو لڑکا اس کے پہلے شوہر سے تھا۔ چونکہ زید اور اس کی بیوی کے لڑکے کی بیوی کے درمیان کوئی حرمت کا رشتہ قائم نہیں ہے۔ قال اللہ تعالی: ﴿وَ اُحِلَّ لَکُمْ مَّاوَرَآءَ ذٰلِکُمْ﴾ ترجمہ: اور حلال کردی گئیں تم پر ان کے سوا ساری۔ (حبیب الفتاوی، جلد 2، صفحہ 160، مطبوعہ شبیر برادرز)
عورت کا نامحرموں سے پردہ کرنا واجب ہے۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے: جو محرم نہیں وہ اجنبی ہے اس سے پردہ کا ویسا ہی حکم ہے جیسے اجنبی سے، خواہ فی الحال اس سے نکاح ہوسکتا ہو یا نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 415، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اجنبی کے مقابلے میں نامحرم رشتہ داروں سے پردے کی زیادہ تاکید ہے۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے: جیٹھ، دیور، بہنوئی، پھپا، خالو، چچا زاد، ماموں زاد، پھپی زاد ، خالہ زاد بھائی سب لوگ عورت کے لئے محض اجنبی ہیں، بلکہ ان کا ضرر نرے بیگانے شخص کے ضرر سے زائد ہے، کہ محض غیر آدمی گھر میں آتے ہوئے ڈرے گا، اور یہ آپس کے میل جول کے باعث خوف نہیں رکھتے۔ عورت نرے اجنبی شخص سے دفعۃ میل نہیں کھا سکتی، اور ان سے لحاظ ٹوٹا ہوتا ہے۔ لہذا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے غیر عورتوں کے پاس جانے کو منع فرمایا، ایک صحابی انصاری نے عرض کی: یا رسول اللہ! جیٹھ دیور کے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا: الحموا الموت، رواہ احمد و البخاری عن عقبۃ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ جیٹھ دیور تو موت ہیں۔ امام احمد اور بخاری علیہما الرحمہۃ نے اسے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 217، رضافاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: GUJ-0129
تاریخ اجراء: 09 ذو القعدہ 1447ھ / 27 اپریل 2026ء