logo logo
AI Search

بیوی اور اسکے بھتیجے کی بیٹی کو بیک وقت نکاح میں رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بیوی اور اس کے بھتیجے کی بیٹی کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کا حکم؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا کوئی شخص بیوی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کے بھتیجے کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے؟ بیوی کے ساتھ اس کی بھتیجی یا بھانجی کو جمع کرنا تو حرام ہے، لیکن کیا بیوی اور اس کے بھتیجے کی بیٹی کو ایک نکاح میں جمع کرنا بھی حرام ہے یا اس میں گنجائش ہے؟

جواب

بیوی کے نکاح یا عدت میں ہوتے ہوئے جس طرح اس کی بھتیجی سے نکاح کرنا حرام ہے، اسی طرح اس کے بھتیجے کی بیٹی کو بھی نکاح میں جمع کرنا ناجائز و حرام اور گناہ ہے۔

تفصیل اس مسئلہ میں یہ ہے کہ حدیث پاک میں پھوپھی، بھتیجی اور خالہ بھانجی کو نکاح میں جمع کرنے سے صراحتا منع فرمایا گیا ہے، اس کے تحت علمائے کرام نے فرمایا کہ وہ اس عورت کی اپنی پھوپھی ہو یا والد کی پھوپھی، یونہی اپنی خالہ ہو یا والدہ کی خالہ اوپر تک، بیوی کے ہوتے ہوئے ان سب سے نکاح کرنا حرام ہے۔دوسرے انداز میں یوں سمجھ لیں کہ اس بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ مرد کے لیے شرعی طور پر ایسی دوعورتوں کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے، جن میں سے ہر ایک کو مرد فرض کریں تو دوسری سے اس کانکاح حرام ہو، تو پوچھی گئی صورت میں اگر موجودہ بیوی کو مرد فرض کریں، تو دوسری عورت اس کے بھتیجے کی بیٹی بنتی ہے اور کسی شخص کا اپنے بھتیجے کی بیٹی سے نکاح کرنا، جائز نہیں اور اگر دوسری عورت کو مرد فرض کریں، تو پہلی عورت اس کے والد کی پھوپھی ( دادا کی بہن) بنتی ہے اور یہ رشتہ محارم میں شامل ہے، لہذا حدیث کے تحت اور قاعدے کی رُو سے پھوپھی و بھتیجی کی طرح عورت اور اس کے بھتیجے کی بیٹی کو ایک نکاح میں جمع کرنا بھی حرام ہے۔

پھوپھی و بھتیجی، خالہ اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنے کے بارے میں صحیح بخاری و مسلم میں ہے: و النظم للبخاری: نهى رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أن تنكح المرأة على عمتها أو خالتها“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ پھوپھی یا خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے بھتیجی یا بھانجی سے نکاح کیا جائے۔ (صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب لا تنكح المرأة على عمتها، جلد 2، صفحہ 766، مطبوعہ کراچی)

اسی بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لا تنكح المرأة على عمتها و لا العمة على بنت أخيها و لا المرأة على خالتها و لا الخالة على بنت أختها“ ترجمہ: پھوپھی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھتیجی سے یا بھتیجی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس پھوپھی سے یا خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھانجی سے یا بھانجی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی خالہ سے نکاح نہ کیا جائے۔ (سنن ابو داؤد، کتاب النکاح، باب ما يكره أن يجمع بينهن من النساء، جلد 1، صفحہ 98، مطبوعہ لاہور)

پھوپھی یا بھتیجی اوپر تک ہوں یا نیچے درجے تک ، حکم یکساں ہے۔ چنانچہ اسی مفہوم کی ایک حدیث پاک کے تحت عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے: أجمع العلماء على القول بهذا الحديث فلا يجوز عند جميعهم نكاح المرأة على عمتها و إن علت و لا على ابنة أخيها و إن سفلت و لا على خالتها و إن علت و لا على ابنة أخيها و إن سفلت“ ترجمہ: تمام علماء کا اس حدیث کے ذریعہ اس قول پر اجماع ہے، پس ان سب کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے کہ کسی عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ جمع کیا جائے، اگرچہ اوپر تک (کے رشتے کی پھوپھی) ہو اور نہ اس کی بھتیجی کے ساتھ، اگرچہ نیچے تک (کے رشتے کی) بھتیجی ہو اور نہ ہی عورت کو اس کی خالہ کے ساتھ، اگرچہ اوپر تک ہو اور نہ بھانجی کے ساتھ خالہ کو جمع کیا جائے، اگرچہ نیچے تک کی ہو۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، کتاب النکاح، جلد 20، صفحہ 105، مطبوعہ بیروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے: (لا يجمع) أي في النكاح ۔۔۔ (بين المرأة و عمتها) سواء كانت سفلى كأخت الأب أو عليا كأخت الجد مثلا (و لا بين المرأة و خالتها) أي: كذلك لأن ذلك يفضي إلى قطيعة الرحم‘‘ ترجمہ: نکاح میں جمع نہ کیا جائے عورت اور اس کی پھوپھی کو، خواہ وہ نچلے درجے کی ہو جیسے والد کی بہن یا اوپر کے درجے کی ہو، جیسے دادا کی بہن اوراسی طرح عورت اور اس کی خالہ کو بھی (نکاح میں جمع نہ کیا جائے) کہ یہ معاملہ قطع رحمی کی طرف لے جانے والا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب النکاح، باب المحرمات، جلد 5، صفحہ 2076، مطبوعہ بیروت)

دو عورتوں کو نکاح میں جمع کرنے کے متعلق اصول فتاوی عالمگیری میں یوں بیان کیا گیا ہے: و الأصل أن كل امرأتين لو صورنا إحداهما من أي جانب ذكرا، لم يجز النكاح بينهما برضاع أو نسب لم يجز الجمع بينهما هكذا في المحيط، فلا يجوز الجمع بين امرأة و عمتها نسبا أو رضاعا و خالتها كذلك و نحوها“ ترجمہ: ضابطہ یہ ہے کہ نکاح میں ہر ایسی دو عورتوں کو جمع کرنا حرام ہے، جن میں سے ہر ایک عورت کو مرد تصور کرنے سے رضاعت یا نسب کے سبب دونوں کا نکاح جائز نہ ٹھہرتا ہو، یونہی محیط میں ہے، لہذا نسبی یا رضاعی بھتیجی اور پھوپھی کو ، اسی طرح نسبی یا رضاعی خالہ اور بھتیجی کو جمع کرنا جائز نہیں۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب النکاح، جلد 1، صفحہ 277، مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ، مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وہ دو عورتیں کہ اُن میں جس ایک کو مرد فرض کریں، دوسری اس کے ليے حرام ہو (مثلاً دو بہنیں کہ ایک کو مرد فرض کرو تو بھائی، بہن کا رشتہ ہوا یا پھوپی، بھتیجی کہ پھوپی کو مرد فرض کرو تو چچا، بھتیجی کا رشتہ ہوا اور بھتیجی کو مرد فرض کرو تو پھوپی، بھتیجے کا رشتہ ہو ا یا خالہ، بھانجی کہ خالہ کو مرد فرض کرو تو ماموں، بھانجی کا رشتہ ہوا اور بھانجی کو مرد فرض کرو تو بھانجے، خالہ کارشتہ ہوا) ایسی دو ۲ عورتوں کو نکاح میں جمع نہیں کر سکتا۔ (بہار شریعت، جلد 2، صفحہ 27، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بھتیجے کی اولاد نیچے تک محرم ہے۔ چنانچہ حرام رشتے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّہٰتُکُمْ وَ بَنٰتُکُمْ وَ اَخَوٰتُکُمْ وَ عَمّٰتُکُمْ وَ خٰلٰتُکُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ ۔۔۔ الآیہ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں۔ (پارہ 4، سورۃ النساء، آیت 23)

اس آیت کے تحت تفسیر مظہری میں ہے ’’بنات الأخ وبنات الأخت يعنى فروع الأخ و الاخت بناتهما وبنات ابنائهما و بنات بناتهما و ان سفلن سواء كان الأخ و الاخت لابوين او لاحدهما‘‘ ترجمہ: بھتیجیاں اور بھانجیاں یعنی بھائی اور بہن کی فروع، ان دونوں کی بیٹیاں، پوتیاں، نواسیاں اگرچہ نیچے تک ہوں، چاہے بھائی بہن سگے ہوں یا ماں، باپ میں سے کسی ایک طرف سے ہوں۔ (تفسیر مظھری، جلد 2، صفحہ 56، مطبوعہ کوئٹہ)

پر دادا کی بیٹی (یعنی والد کی پھوپھی) محرم ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: اور اصل بعید کی فرع قریب جیسے اپنے دادا، پر دادا، نانا ، دادی، پر دادی، نانی، پر نانی کی بیٹیاں یہ سب حرام ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 517، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سوا ل میں مذکورہ رشتےسے ملتے جلتے ایک اور رشتے کے متعلق امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہو اکہ ایک مرد نے ایک عورت سے نکاح کیا، اب وہی مرد بیوی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس عورت کے بھائی کی نواسی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، آیا یہ جمع کرنا حلال ہے یا حرام؟ تو آپ علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا: حرام ہے، اصل ان مسائل میں یہ ہے کہ جو دو عورتیں آپس میں محرم ہوں، یعنی ان میں سے جس کو مرد فرض کیا جائے، دوسری اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو، ایسی دو عورتوں کو جمع کرنا، جائز نہیں، یہاں ایسا ہی ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 346 تا 347، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7747
تاریخ اجراء: 10 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 28 اپریل 2026ء