بیوی کی پھوپھی سے زنا کرنے سے نکاح کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بیوی کی پھوپھی سے زنا کرنے سے نکاح پراثر پڑے گا یا نہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی پھپھو سے زنا کرتا ہے، تو کیا اس کی اپنی بیوی اس کے نکاح میں رہے گی یا نہیں؟ اگر نہیں تو پھر دوبارہ سے نکاح کی کوئی صورت ہو، تو وہ بھی بتائیے گا؟
جواب
مذکورہ شخص کا اپنی بیوی کی پھپھو سے زنا، گناہِ کبیرہ اور سخت حرام کام ہے، جس سے سچے دل کے ساتھ توبہ کرنا اس پر لازم ہے، البتہ! اس عمل کی وجہ سے اس کا نکاح نہیں ٹوٹا، اور نہ اس کی بیوی اس پر حرام ہوئی، کیونکہ زنا سے صرف چار حرمتیں ثابت ہوتی ہیں: مزنیہ (جس سے زنا کیا گیا، وہ) زانی (زنا کرنے والے) کے اصول و فروع پر حرام ہو جاتی ہے، اور زانی (زنا کرنے والے) پر مزنیہ (جس سے زنا کیا گیا، اس) کے اصول و فروع حرام ہو جاتے ہیں، جبکہ بیوی کی پھپھو اس کی بیوی کے اصول و فروع میں سے نہیں ہے۔
زنا کے متعلق قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور بد کاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔ (القرآن، پارہ 15، سورۃ بنی اسرائیل، آیت: 32)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ زید نے اپنی سالی سے زنا کیا اور اس کو حمل بھی رہ گیا تو کیا اس کی بیوی اس پر حرام ہو گئی ؟ تو جواب میں تحریر فرماتے ہیں: ”معاذ اللہ یہ فعل بیشک حرام ہے مگر اس کی وجہ سے نکاح نہیں ٹوٹا، وہ بدستور اس کی زوجہ ہے۔ زنا سے صرف چار حرمتیں ثابت ہوتی ہیں: مزنیہ زانی کے اصول و فروع پرحرام ہوجاتی ہے اور زانی پر مزنیہ کے اصول و فروع حرام، بہن نہ اصول میں ہے نہ فروع میں تو اس کی حرمت کی کوئی وجہ نہیں۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 2، صفحہ 72، مکتبہ رضویہ، کراچی)
فتاوٰی عالمگیری میں ہے
”فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدیر“
ترجمہ: جس نے کسی عورت سے زنا کیا تو اس عورت کی ماں زانی پر حرام ہے یونہی اوپر تک، اور اس عورت کی بیٹی زانی پر حرام ہے، یونہی نیچے تک۔ اسی طرح زانیہ، زانی کے آباؤ و اجداد پر حرام ہے یونہی اوپر تک اور زانی کے بیٹوں پر حرام ہے یونہی نیچے تک، جیسا کہ فتح القدیر میں مذکور ہے۔ (فتاوٰی عالمگیری، کتاب النکاح، جلد 1، صفحہ 274، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4719
تاریخ اجراء: 21 شعبان المعظم 1447ھ/10 فروری 2026ء