logo logo
AI Search

نکاح میں قاضی کب گواہ شمار ہوسکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نکاح خواں کس صورت میں گواہ بن سکتا ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بالغ لڑکے اور بالغ لڑکی کا نکاح کرتے وقت ایک قاضی (نکاح کرانے والا) اور اس کے علاوہ ایک اور آدمی موجود ہے، ایسے میں نکاح ہو جائے گا؟ یا قاضی کے علاوہ دو گواہ ہونا ضروری ہیں؟

جواب

بالغ لڑکے اور لڑکی دونوں کی مجلس ایک ہو، اور اس مجلس میں ایجاب و قبول کے وقت قاضی کے علاوہ، مزید ایک اور شرعی گواہ بھی موجود ہو، (اور صحت نکاح کی دیگر شرائط بھی پائی جائیں)، تو ایسی صورت میں نکاح درست ہو جائے گا، کیونکہ ایسی صورت میں لڑکا اور لڑکی ہی ایجاب و قبول کرنے والے شمار ہوتے ہیں، قاضی کی حیثیت محض سفیر کی ہوتی ہے، لہذا وہ بھی گواہ شمار ہوگا اور یوں دو گواہ ہو جائیں گے۔

البتہ! اگر لڑکا اور لڑکی دونوں کی مجلس ایک نہ ہو، اور ایجاب و قبول کے وقت قاضی کے علاوہ فقط ایک ہی شرعی گواہ موجود ہو، تو پھر نکاح درست نہیں ہوگا، کہ اس صورت میں قاضی گواہ نہیں بن سکتا، لہذا اس کے علاوہ دو شرعی گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔

در مختار میں ہے

(لو زوج بنته البالغة) العاقلة (بمحضر شاهد واحد جاز إن) كانت ابنته (حاضرة) لانها تجعل عاقدة (و إلا لا) الأصل أن الآمر متى حضر جعل مباشرا

ترجمہ: اگر کسی نے اپنی عاقلہ بالغہ بیٹی کا نکاح ایک گواہ کی موجودگی میں کیا تو اگر بیٹی وہاں موجود تھی تو نکاح ہوگیا کیونکہ اسے عاقدہ قرار دیا جائے گا اور اگر وہ وہاں موجود نہ تھی تو نہیں ہوا، اصول یہ ہے کہ حکم دینے والا جب موجود ہوتو اسے عقد کرنے والا قرار دیا جائے گا۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے

(قوله: و لو زوج بنته البالغة العاقلة) كونها بنته غير قيد، فإنها لو وكلت رجلا غيره فكذلك كما في الهندية

ترجمہ: اس کی بیٹی ہونا قید نہیں ہے، پس اگر عورت نے والد کے علاوہ کسی کو اپنا وکیل بنایا تو بھی یہی حکم ہے، جیسا کہ ہندیہ میں ہے۔ (رد المحتار، جلد 4، صفحہ 102، مطبوعہ: کوئٹہ)

اسی میں ہے

لان الوکیل فی النکاح سفیر و معبر ینقل عبارۃ الموکل، فاذا کان الموکل حاضرا کان مباشرا

ترجمہ: اس لیے کہ نکاح میں وکیل موکل کا سفیر اور معبر ہوتا ہے جو اس کی عبارت کو نقل کرتا ہے، تو جب موکل حاضر ہو گا تو وہی مباشر ٹھہرے گا۔ (رد المحتار، جلد 4، صفحہ 102، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے اگر عورت نے کسی کو اپنے نکاح کا وکیل کیا، اُس نے ایک شخص کے سامنے پڑھا دیا تو اگر موکلہ موجود ہے ہوگيا ورنہ نہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ موکل اگر بوقتِ عقد موجود ہے تو اگرچہ وکیل عقد کر رہا ہے مگر موکل عاقد قرار پائے گا اوروکیل گواہ۔ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 7، صفحہ 14، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

علامہ برھان الدین مرغینانی رحمۃاللہ علیہ ہدایہ میں فرماتے ہیں:

و لا ینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین او رجل و امراتین

ترجمہ: مسلمانوں کا نکاح منعقد نہیں ہوتا جب تک کہ دو آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان مرد، یا ایک مرد اور دو عورتیں بطور گواہ موجود نہ ہوں۔ (الھدایۃ، کتاب النکاح، جلد 2، صفحہ 326، مطبوعہ: لاہور)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ہے: نکاح بغیر دوگواہوں کے نہیں ہوسکتا، دو مرد یا ایک مرد دو عورتیں عاقل بالغ آزاد اور مسلمان۔۔۔ وہ ایجاب وقبول کو ایک سلسلہ میں سنیں اور سمجھیں کہ یہ نکاح ہو رہا ہے، بغیر اس کے نکاح نہیں ہوسکتا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 316، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4669
تاریخ اجراء: 30رجب المرجب1447ھ / 20 جنوری2026ء