logo logo
AI Search

دوسرا شوہر ہمبستری سے پہلے انتقال کر جائے تو حلالہ کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حلالہ والے نکاح میں شوہر بغیر ہمبستری کئے فوت ہو جائے تو کیا عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائے گی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ پہلا شوہر تین طلاقیں دے دے، اس کی عدت کے بعد دوسرے شوہر سے شادی ہو، پھر دوسرا شوہر ہمبستری کیئے بغیر فوت ہو جائے، تو کیا اس کی عدت گزار کر پھر پہلے شوہر سے شادی ہو سکتی ہے؟

جواب

جس عورت کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہوں، وہ تین طلاقیں دینے والے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو گی، جب تک درج ذیل شرائط نہ پائی جائیں:

(1) وہ عورت ان طلاقوں کی عدت گزار کر کسی دوسرے مرد سے نکاح صحیح کرے، (2) اور دوسرا شوہر ہمبستری کرنے کے بعد اسے طلاق دے یا فوت ہو جائے، (3) پھر وہ عورت اس طلاق یا وفات کی عدت گزارے۔

جب یہ ساری شرائط پائی جائیں گی تو وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو گی ورنہ نہیں۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں بھی جب دوسرے شوہر کا ہمبستری سے پہلے ہی انتقال ہو گیا، تو یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوئی، اب اگر اسی پہلے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہے، تو اس دوسرے شوہر کی عدت وفات چار ماہ دس دن گزار کر کسی اور سے نکاح صحیح کرے، پھر وہ اس سے ہمبستری کرنے کے بعد اس کو طلاق دے، یا فوت ہو جائے، تو اس کی عدت طلاق یا وفات گزار کر اس پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔

تین طلاقیں ہو جانے کے بعد دوبارہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنے کے متعلق اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ- فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: پھر اگر شوہر بیوی کو (تیسری) طلاق دے دے تو اب وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے، پھر وہ دوسرا شوہر اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر ایک دوسرے کی طرف لَوٹ آنے میں کچھ گناہ نہیں اگر وہ یہ سمجھیں کہ (اب) اللہ کی حدوں کو قائم رکھ لیں گے۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ، الآیۃ 230)

دوسرے شوہر سے نکاح سے مراد اس کے ساتھ ہمبستری کرنا ہے، چنانچہ اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر خازن، تفسیر روح المعانی، تفسیر طبری، بحر العلوم، تفسیر قرطبی، تفسیر نسفی، تفسیر جلالین، حاشیہ صاوی علی الجلالین، فتح الرحمٰن فی تفسیر القرآن وغیرہ کثیر تفاسیر میں ہے، (والنظم للاول): "مذهب جمهور العلماء أن المطلقة بالثلاث لا تحل للزوج المطلقة منه بالثلاث إلا بشرائط، و هي أن تعتد منه ثم تتزوج بزوج آخر و يطأها، ثم يطلقها، ثم تعتد منه، فإذا حصلت هذه الشرائط فقد حلت للأول و إلا فلا" ترجمہ: جمہور علماء کرام کا یہ مؤقف ہے کہ جس عورت کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہوں وہ اس شوہر کے لیے حلال نہیں ہو گی جس نے اسے تین طلاقیں دی ہیں مگر چند شرائط کے ساتھ اور وہ یہ ہیں کہ وہ عورت اس طلاق کی عدت گزار کر کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور دوسرا شوہر ہمبستری کرنے کے بعد اسے طلاق دے، پھر وہ عورت اس طلاق کی عدت گزارے، جب یہ ساری شرائط پائی جائیں گی تو وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو گی ورنہ نہیں۔ (تفسیر خازن، جلد 1، صفحہ 164، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

تین طلاقوں کے بعد پہلے شوہر کے لیے حلال ہونے کے متعلق بخاری شریف میں حضرت نافع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے جب اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں تو آپ نے فرمایا: "لو طلقت مرۃ أو مرتین، فإن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أمرنی بھذا، فإن طلقتھا ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجاً غیرک" ترجمہ: اگر تو نے ایک یا دو طلاقیں دی ہوتیں (تو رجوع ہوسکتا تھا) ، بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ اگر تو نے تین طلاقیں دی ہیں تو وہ عورت تجھ پر حرام ہوگئی جب تک وہ تیرے علاوہ کسی دوسرے سے نکاح نہ کر لے۔ (صحیح البخاری، ص 989، رقم: 5264، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اسی طرح بخاری شریف میں ہے "عن عائشۃ ان رجلاً طلّق امراتہ ثلاثاً، فتزوجت فطلق فسئل النبی صلی اللہ علیہ و سلم اتحل للاول؟ قال: لا، حتی یذوق عسیلتھا کما ذاق الاول" ترجمہ: حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، پس اس عورت نے دوسری شادی کی، تو اس دوسرے شوہر نے (ہمبستری سے پہلے) طلاق دے دی۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا گیا: کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو گئی ہے؟ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: نہیں، یہاں تک کہ دوسرا شوہر بھی اس کی لذت چکھ لے (یعنی ہمبستری کر لے) ، جیسے پہلے شوہر نے چکھی۔ (صحیح البخاری، ص 988، رقم الحدیث 5261، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اسی طرح کی حدیث پاک کے تحت عمدۃ القاری میں ہے "عن عائشة قال: العسيلة هي الجماع" ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: عسیلہ سے مراد ہمبستری کرنا ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد 20، صفحہ 236، مطبوعہ: بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے "و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا اویموت عنھا" ترجمہ: اگر آزاد عورت کو تین طلاقیں اور باندی کو دو طلاقیں واقع ہوجائیں تو وہ شوہر کے لئے حلال نہیں ہو گی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی دوسرے مرد سے نکاح صحیح کرے اور وہ دوسرا شوہر اس سے دخول کرے پھر اسے طلاق دے یا فوت ہو جائے۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 1، صفحہ 473، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت، اما م احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ ”متوفیہ الزوج مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ شرعاً اس کے لئے عدت ہے یانہیں؟“

اس کے جواب میں فرمایا:” وفات کی عدت عورت غیر حامل پر مطلقا چار مہینے دس دن ہے خواہ صغیرہ ہو یاکبیرہ، مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ۔“ (فتاوی رضویہ، ج 13، ص 293، رضا فاؤنڈیشن، لاہور، ملخصاً)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5425

تاریخ اجراء: 03 ربیع الثانی 1448ھ/16 ستمبر 2026ء