logo logo
AI Search

نکاح میں اصل نام کی جگہ Nickname ذکر کیا تو نکاح کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نکاح میں عورت کے اصل نام کی بجائے مشہور نام ( Nick name ) ذکر کیا تو نکاح کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے کل ایک نکاح پڑھایا جس میں خاندان والوں سے لڑکی کا نام پوچھا تو انہوں نے اس کا نام ”صباحت“ بتایا، لیکن مجھے سمجھنے میں غلطی ہوئی اور میں نے اس کا نام ”صبا“ سمجھا۔ پھر میں نے اسی نام کے ساتھ لڑکی سے وکالت لی اور مرد سے بھی ”صبا“ نام لے کر ہی نکاح پڑھا دیا۔ میری آواز اونچی تھی، وہاں موجود سب افراد نے نام سنا لیکن کسی نے بھی نام پر اعتراض نہیں کیا۔ اب میں نے لڑکی کا شناختی کارڈ دیکھا تو پتا چلا کہ اس کا نام ”صباحت“ ہے۔ اب اس نکاح کا کیا حکم ہے؟

نوٹ: سائل اور لڑکی کے خاندان والوں سے مزید تفتیش کی گئی تو معلوم ہوا کہ لڑکی کا مشہور نام ”صبا“ ہی ہے۔ اسی لئے کسی نے بوقت نکاح اعتراض بھی نہیں کیا۔

جواب

مذکورہ بالا نکاح درست ہوا کیونکہ نکاح کے درست ہونے کے لیے مرد و عورت کی تعیین ہونا ضروری ہے لیکن وہ تعیین فقط شناختی کارڈ پر موجود نام کے ساتھ ہو ایسا لازم نہیں، بلکہ کسی بھی ایسے نام سے تعیین ہو سکتی ہے جس سے عورت معروف ہو۔ صورت مسئولہ میں بھی عورت چونکہ ”صبا“ نام کے ساتھ معروف ہے لہذا اسی لفظ سے ہی تعیین ہو گئی اور نکاح درست ہوا۔

فتح القدیر میں علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”‌تزوج ‌باسمها ‌الذي ‌تعرف ‌به، حتى لو كان لها اسمان اسم في صغرها وآخر في كبرها تزوج بالأخير لأنها صارت معروفة به“ ترجمہ: عورت سے اس نام کے ساتھ نکاح کیا جائے جس کے ذریعے وہ معروف ہو، حتی کہ اگر اس کے دو نام ہوں، ایک بچپن کا اور دوسرا بڑے پن کا، تو نکاح دوسرے نام کے ساتھ کیا جائے، کیونکہ وہ اسی کے ساتھ معروف ہے۔ ( فتح القدیر، جلد 3، صفحہ 192، دار الفکر، بیروت)

فتاوی رضویہ میں امام اہلسنت رحمہ اللہ ایک ایسے نکاح، جس میں عورت کا اصل نام کلثوم کی بجائے اس کا عرفی نام ہندہ لیا گیا، اس کے متعلق فرماتے ہیں: ”اگر ہندہ اس عورت کا نام ہے (نہ جس طرح عورتوں کو ہندہ، سلمٰی؛ مردوں کو زید، عمرو سے تعبیر کرتے ہیں) اور اس نام اور صرف ذکر پدر بے ذکر جد سے حاضرین میں دو گواہان صالح شہادت نکاح مسلمہ نے اسے پہچان لیا تو نکاح صحیح ہوگیا۔ اس کے دس نام اور بھی ہونا کچھ مضر نہیں ”لان المقصود التعریف لاتکثیر الحروف“ (کیونکہ مقصود پہچان ہے الفاظ کی کثرت مقصد نہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 11، صفحہ 247، رضا فاؤندیشن لاہور)

وقار الفتاوی میں ہے: ”نکاح کی صحت کے لئے دونوں کا ایک دوسرے کے نزدیک متعارف ہونا شرط ہے لہذا لڑکی سے جب وکالت حاصل کی جائے اور وکیل خاص شوہر کو بتائے گا تو لڑکی جس نام سے مشہور ہے اور پہچانی جاتی ہے اس نام سے بتائے گا، اور سوتیلے باپ کی طرف نسبت سے مشہور ہے تو اس نام کی طرف نسبت کر کے ایجاب کر سکتے ہیں۔ پھر بھی مناسب یہ ہے کہ اس کی سوتیلی بیٹی بتا کر تعارف کروا دیا جائے اور اگر اپنے اصل باپ کی نسبت سے مشہور ہے تو اس کا نام لے کر قبول کر لیا جائے۔ نکاح نامہ میں اصل باپ کا نام لکھا جائے اور سوتیلے باپ کی پرورش کردہ بیٹی لکھ دیا جائے۔“ (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 40، بزم وقار الدین، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری

فتوی نمبر: NRL-0516

تاریخ اجراء: 18 ذو القعدۃ الحرام 1447 ھ/06 مئی 2026ء