logo logo
AI Search

کام پورا ہونے سے پہلے منت کا روزہ رکھنے کا شرعی حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کام ہوجانے پر روزہ رکھنے کی منت مانی تو کیا وہ کام ہونے سےپہلے منت کا روزہ رکھنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر کسی شخص نے روزہ رکھنے کی نذر مانی کہ میرا فلاں کام ہوگیا تو میں ایک روزہ رکھوں گا پھر کام ہونے سے پہلے ہی اس شخص نے روزہ رکھ لیا تو کیا یہ روزہ کافی ہوجائے گا یا جب منت پوری ہوگی اور کام ہوجائے گا تو پھر سے ایک روزہ رکھنا ہوگا؟ سائل: (محمد عاقب، ملتان)

جواب

کسی  شرط پر معلق کر کے ( مثلاً بیٹے کے شفا یاب ہونے کی شرط پر) اپنے اوپر کسی عبادت(جیسے نماز و روزہ) کو لازم کرلینا نذر معلق کہلاتا ہے، اور ایسی منت شرط پوری ہونے سے پہلے لازم ہی نہیں ہوتی، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں کام پورا ہونے سے پہلے روزہ رکھ لیا تو وہ منت کا روزہ شمار نہیں ہوگا بلکہ نفل ہوجائے گا، نیز جب مذکورہ کام پورا ہوجائے گا تو منت کی نیت سے دوبارہ ایک روزہ رکھنا لازم ہوگا۔

نذر معلق کے متعلق کافی شرح بزدوی میں ہے :

”لو كان معلقًا لا يجوز الأداء قبل وجود الشرط؛ لأنه لم ينعقد سببًا كصوم السبعة في الحج قبل الرجوع“

ترجمہ:  اگر نذر معلق ہو تو شرط سے پہلے اس کو ادا کرنا ممکن نہیں کیونکہ وہ بطور سبب منعقد ہی نہیں ہوئی جیساکہ حج میں واپسی سے پہلے سات روزے رکھنا۔ (الکافی شرح البزدوی، جلد3، صفحہ 1178، طبع: مکتبۃ الرشد)

تنویر الابصار ودر مختار میں ہے:

”(بخلاف) النذر (المعلق) فإنه لا يجوز تعجيله قبل وجود الشرط“

ترجمہ:  بخلاف نذرِ معلق کے کہ اسے شرط کے پائے جانے سے پہلے ادا کرنا درست نہیں۔

 (فإنه لا يجوز تعجيله) کے تحت  رد المحتار میں علامہ شامی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:

”لأن المعلق على شرط لا ينعقد سببا للحال بل عند وجود شرطه كما تقرر في الأصول، فلو جاز تعجيله لزم وقوعه قبل وجود سببه فلا يصح“

ترجمہ:  کیونکہ  کسی شرط پر معلق  نذر فی الحال  سبب نہیں بنتی بلکہ شرط کے پائے جانے کے وقت بنتی ہے جیسا کہ اصول میں ہے، لہذا اگر  پہلے ادا کرنا جائز ہو تو اس کے سبب کے وجود سے پہلے ہی اس کا وقوع ہوجائے گا، یہ درست ہی نہیں۔ (تنویر الابصار و در مختار  مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 437، طبع: بیروت )

ہاں ! ایسی صورت میں پہلے والے روزے نفل ہوجائیں گے، چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے:

”إن كان معلقا بشرط نحو أن يقول: إن شفى اللہ مريضي، أو إن قدم فلان الغائب فللہ علي أن أصوم شهرا، أو أصلي ركعتين، أو أتصدق بدرهم، ونحو ذلك فوقته وقت الشرط، فما لم يوجد الشرط لا يجب بالاجماع.ولو فعل ذلك قبل وجود الشرط يكون نفلا“

ترجمہ:  اگر نذر کسی شرط سے معلق ہو مثلاً یوں کہا کہ "اگر اللہ میرے مریض کو شفا دے یا فلاں غائب آجائے، تو اللہ کے لئے مجھ پر ایک مہینے کے روزے رکھنا لازم ہے، یا دو رکعتیں پڑھنی ہیں، یا ایک درہم صدقہ کرنا ہے" تو شرط کے وجود کا وقت ہی اس کا وقت ہے، جب تک شرط نہیں پائی جاتی اس وقت تک بالاجماع یہ نذر لازم بھی نہیں ہوگی اور اگر شرط کے وجود سے پہلے ہی اس فعل کو کرلیا تو نفل ہوجائے گا۔ (بدائع الصنائع، جلد5، صفحہ93، طبع: بیروت )

بہار شریعت میں ہے: ”(نذر)معلّق کہ میرا فلاں کام ہو جائے گا یا فلاں شخص سفر سے آجائے تو مجھ پر عزوجل کے لیے اتنے روزے یا نماز یا صدقہ و غیرہا ہے۔۔۔ معلّق میں شرط پائی جانے سے پہلے منت پوری نہیں کر سکتا، اگر پہلے ہی روزے رکھ لیے بعد میں شرط پائی گئی تو اب پھر رکھنا واجب ہوگا، پہلے کے روزے اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتے۔ (بہار شریعت، جلد1، حصہ5، صفحہ 1018، طبع:  مکتبۃ المدینہ )

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: HAB-0673

تاریخ اجراء: 30جمادی الاولٰی  1447ھ/22نومبر    2025ء