
دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ (۱) اگر کسی شخص نے رب تعالیٰ کی قسم نہ دل سے کھائی، اور نہ زبان سے کہی، بس صرف لکھ دیا، تو کیا قسم ہوجائے گی؟ (۲) اگر کسی نے یوں کہا ہو کہ ’’میں قسم اٹھا کر یہ بات کہہ رہی ہوں‘‘ لیکن اللہ تعالی کی قسم کے الفاظ نہیں بولے، تو کیا اس صورت میں بھی قسم ہوجائے گی؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
(۱) شرعی اعتبار سے قسم کے منعقد ہونے کیلئے دل میں نیت شرط نہیں، دل میں ارادے و نیت کے بغیر بھی مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھانے سے شرعاً قسم ہوجاتی ہے۔ نیز جس طرح زبان سے تلفظ کرنے سے قسم ہوجاتی ہے، اسی طرح زبان سے تلفظ کرے بغیر، صرف لکھنے سے بھی قسم ہوجاتی ہے اور قسم کے ٹوٹنے پر کفارہ بھی لازم ہوگا۔
(۲) اللہ عزوجل، یا خدا، یا رب تعالی جیسے الفاظ کے بغیر فقط ’’قسم ہے‘‘ یا ’’قسم سے‘‘ یا ’’قسم کھاتا ہوں‘‘ یا ’’قسم اٹھاتا ہوں‘‘ کے الفاظ کو کہنے سے بھی قسم ہوجاتی ہے، اور مستقبل کے متعلق ایسی قسم کے الفاظ کہے ہوں تو اس قسم ٹوٹنے کی صورت میں قسم کا کفارہ لازم ہوتا ہے۔
قسم میں ارادہ ضروری نہیں ہوتا، بغیر ارادے کے بھی قسم ہوجاتی ہے، چنانچہ ہدایہ میں ہے:
قال: "و القاصد في اليمين و المكره و الناسي سواء" حتى تجب الكفارة لقوله عليه الصلاة و السلام ثلاث جدهن جد و هزلهن جد النكاح و الطلاق و اليمين
ترجمہ: فرمایا: قسم میں قاصد (جان بوجھ کر قسم کھانے والا)، مجبور (اکراہ کیا گیا) اور ناسی (بھولنے والا) سب ہی برابر ہیں، یہاں تک کہ ان پر کفارہ لازم آتا ہے، اس حدیث کی وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں سنجیدگی سے کرنا بھی سنجیدگی ہے اور ہنسی مذاق میں کرنا بھی سنجیدگی ہے، (اور وہ تین چیزیں یہ ہیں) نکاح، طلاق اور قسم۔ (الھدایۃ، جلد 2، صفحہ 317،دار احياء التراث العربي، بيروت)
لکھنا، بولنے کی طرح ہے، لہذاجس طرح بولنے سے قسم ہوگی، اسی طرح لکھنے سے بھی ہوجائے گی، چنانچہ ہدایہ شریف میں ہے:
و الكتاب كالخطاب
ترجمہ: اور لکھنا، بولنے کی طرح ہے۔ (الھدایہ، جلد 3، صفحہ 23، دار احياء التراث العربي، بيروت)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
القلم احد اللسانین
(قلم بھی ایک زبان ہے) جو زبان سے کہے پراحکام ہیں، وہی قلم پر‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 606، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صرف قسم کے الفاظ سے بھی قسم ہوجائے گی، اگرچہ اس کے ساتھ لفظ اللہ نہ کہا ہو، چنانچہ تبیین الحقائق ميں ہے:
أقسم أو حلف إنما كان يمينا وإن لم يقل بالله لأن هذه الألفاظ مستعملة في الحلف عرفا... و لأن اليمين باللہ تعالى هو المعهود المشروع و بغيره محظور فينصرف إلى الأول
ترجمہ: میں قسم کھاتا ہوں یا حلف کرتا ہوں، یہ بھی قسم ہے اگرچہ اس کے ساتھ لفظِ ’’اللہ‘‘ نہ کہا ہو کیونکہ عرف میں یہ الفاظ قسم میں استعمال ہوتے ہیں اور اسی لئے کہ اللہ تعالیٰ کی قسم ہی معروف و مشروع ہےاور غیر کی قسم ممنوع ہے لہذا اسے پہلی صورت (یعنی اللہ کی قسم) کی طرف ہی پھیرا جائے گا۔ (تبیین الحقائق، جلد 3، کتاب الایمان، صفحہ 110، مطبوعہ قاھرۃ)
یمینِ منعقدہ (مستقبل میں کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی قسم) کو توڑنے کی صورت میں کفارہ لازم ہوتا ہے، چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:
و منعقدۃ و ھو أن یحلف علی امر فی المستقبل أن یفعلہ أو لا یفعلہ و حکمہ لزوم الکفارۃ عند الحنث
ترجمہ: قسم کی اقسام میں سے تیسری قِسم منعقدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے متعلق قسم کھائے اور اس کا حکم یہ ہے کہ قسم توڑنے پر کفارہ لازم ہوگا۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد 2، کتاب الایمان، صفحہ 57، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-824
تاریخ اجراء: 23 محرم الحرام 1447ھ / 19 جولائی 2025ء