logo logo
AI Search

منت کےاعتکاف کا حکم

منت والے اعتکاف کے احکام

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی عورت نے رمضان المبارک کے پورے مہینے کے اعتکاف کی منت مانی تو کیا اس کے بھی وہی احکام ہوں گے، جو سنت اعتکاف (آخری عشرے) کے اعتکاف کے ہوتے ہیں، یعنی مسجد بیت سے باہر نکلنے کے حوالے سے جو پابندیاں ہیں کیا اس پورے مہینے میں نافذ ہوں گی؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

منت والا اعتکاف واجب ہوتا ہے اور اس اعتکاف کے بھی وہی احکام ہوتے ہیں، جو رمضان المبارک کے آخری عشرے کے اعتکاف کے ہوتے ہیں، یعنی مرد کے لیے مسجد اور عورت کے لیے مسجد بیت سے نکلنے نہ نکلنے کے حوالے سے  وہی احکام ہوتے ہیں، جو اس سنت اعتکاف کے ہوتے ہیں۔ نیز اس میں بھی روزہ رکھنا شرط  ہوتا ہے۔ اور اس کے علاوہ بھی دوسرے وہ تمام احکام جو رمضان کے آخری عشرے کے اعتکاف کے ہوتے ہیں، وہی منت والے اعتکاف کے ہوتے ہیں

ملک العلماء علامہ ابو بكر بن مسعود كاسانی حنفی (المتوفى: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں:

و كل اعتكاف وجب في الأيام و الليالي جميعا: يلزمه اعتكاف شهر يصومه متتابعا. و لو أوجب على نفسه اعتكاف شهر بعينه بأن قال: لله علي أن أعتكف ‌رجب؛ يلزمه أن يعتكف فيه يصومه متتابعا، و إن أفطر يوما أو يومين؛ فعليه قضاء ذلك و لا يلزمه قضاء ما صح اعتكافه فيه

ترجمہ: ہر وہ اعتکاف جو دنوں اور راتوں تمام میں واجب ہوا ہو تو اس شخص کے لیے پورے ماہ کا اعتکاف کرنا لازم ہوگا مسلسل روزے رکھتے ہوئے۔ اور اگر کسی شخص نے اپنے اوپر کسی معین مہینے کا اعتکاف واجب کر لیا بایں طور کہ اس نے کہا: اللہ پاک کے لیے مجھ پر رجب کے مہینے کا اعتکاف لازم ہے، تو اس کے لیے مسلسل روزے رکھتے ہوئے رجب کے ماہ میں اعتکاف کرنا ضروری ہوگا اور اگر اس نے ایک یا دو دن اعتکاف نہ کیا تو اس پر صرف ان کی قضا لازم ہوگی، اور اس کے لیے ان دنوں کی قضا لازم نہیں جن میں اعتکاف درست ہو چکا۔ (البدائع الصنائع، کتاب الاعتکاف، جلد نمبر 2، صفحه نمبر 112، مطبوعه: دار الكتب العلمية)

بہار شریعت میں ہے ”منت کے اعتکاف میں بھی روزہ شرط ہے۔“ (بہار شریعت ج 1، حصہ 5، ص 1022، مکتبۃ المدینہ)

یونہی ایک اور مقام پر ہے ”اعتکاف واجب میں معتکف کو مسجد سے بغیر عذر نکلنا حرام ہے، اگر نکلا تو اعتکاف جاتا رہا اگرچہ بھول کر نکلا ہو۔ (بہار شریعت ج 1، حصہ 5، ص 1023، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ماجد رضا عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: WAT-3553

تاریخ اجراء: 08شعبان المعظم1446ھ /07 فروری2025ء