logo logo
AI Search

منت کے نوافل بیٹھ کر ادا کرنا اور کھانے کے بجائے رقم دینا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

منت کے کھانے کی جگہ رقم دینا اور منت کے نوافل بیٹھ کر ادا کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ منت کے متعلق میرے دو سوال ہیں: (1) اگر 10 فقراء کو کھانا کھلانے کی منت مانی، تو کیا انہیں کھانا کھلانا ہی ضروری ہو گا یا اس کے بدلے رقم بھی دے سکتے ہیں؟ (2) نوافل ادا کرنے کی منت مانی، تو ان نوافل کو بیٹھ کر بھی پڑھ سکتے ہیں یا پھر کھڑے ہو کر ہی ادا کرنے ہوں گے؟

جواب

(1) فقراء کو کھانا کھلانے کی منت مانی، تو یہ منت شرعی ہے، جسے پورا کرنا واجب ہے، البتہ انہیں کھانا دینا ہی ضروری نہیں، بلکہ 10 افراد کو کھانے کی بجائے فی کس ایک صدقہ فطر یا اس کی قیمت بھی دی جا سکتی ہے، کیونکہ فقیر کو کوئی چیز دینے کی منت ماننے سے مقصود حصولِ ثواب اور اس کی حاجت پوری کرنا ہوتا ہے، تو متعین چیز کی بجائے اس کی قیمت دینے سے بھی یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور ایک فرد کے کھانے کا متبادل شریعت مطہرہ نے ایک صدقہ فطر مقرر فرمایا ہے، لہذا فقراء کو صدقہ فطر یا اس کی قیمت بھی دے سکتے ہیں۔

منت پوری کرنے کے متعلق قرآن کریم میں ہے:

وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ

ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی منتیں پوری کریں۔ (پارہ 17، سورۃ الحج، آیت 29)

منت میں متعین کردہ چیز کے بدلے قیمت دینے کے متعلق درر الحکام میں ہے:

(جاز دفع القيم في الزكاة و كفارة غير الاعتاق و العشر و النذر) يعني ان اداء القيمة مكان المنصوص عليه في الصور المذكورة جائز

ترجمہ: زکوۃ، غلام آزاد کرنے والے کفارے کے علاوہ کسی دوسرے کفارے، عشر اور منت میں قیمت دینا بھی جائز ہے۔ (درر الحکام، کتاب الزکاۃ، جلد 1، صفحہ 178، مطبوعہ بیروت)

فقیر کو کوئی چیز دینے کی منت کا مقصد قیمت دینے سے بھی پورا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ در مختار اور رد المحتار میں ہے:

(و جاز دفع القيمة في زكاة و عشر و خراج و فطرة و نذر۔۔الخ) كان نذر ان يتصدق بهذا الدينار فتصدق بقدره دراهم او بهذا الخبز فتصدق بقيمته جاز عندنا،۔۔۔ لان المقصود اغناء الفقير و به تحصل القربة و هو يحصل بالقيمة

ترجمہ: زکوۃ، عشر، خراج، فطرہ اور منت میں قیمت دینا بھی جائز ہے،۔۔ جیسے یہ منت مانی کہ یہ دینار صدقہ کروں گا، تو اس کی مالیت کے برابر دراہم اور منت مانی کہ یہ روٹی صدقہ کروں گا، تو ہمارے نزدیک اس کی قیمت دینا بھی جائز ہے،۔۔ کیونکہ (ان تمام منتوں سے) مقصود فقیر کو غنی کرنا اور قربت کا حصول ہے اور یہ مقصد قیمت دینے سے حاصل ہو جائے گا۔ (رد المحتار مع در مختار، کتاب الزکاۃ، جلد 2، صفحہ 286، مطبوعہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے: اگر فقیروں کے کھلانے کی منت مانی، تو جتنے فقیر کھلانے کی نیت تھی، اتنوں کو کھلائے،۔۔ یا صدقہ فطر کی مقدار ان کو دے۔ (بھار شریعت، حصہ 9، صفحہ 315، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نوٹ: ایک صدقۂ فطر کی مقدار آدھا صاع (دو کلو میں اَسی گرام کم یعنی 1920 گرام) گندم یا ایک صاع (چار کلو میں ایک سو ساٹھ گرام کم یعنی 3840 گرام)جَو یا کھجور یا کشمش یا ان کی قیمت بنتی ہے۔

(2) نوافل کی منت ماننے والے نے کھڑے ہو کر پڑھنے کی منت نہیں مانی، بلکہ مطلق نماز کی منت مانی، تو راجح قول کے مطابق اسے اختیار ہے کہ چاہے کھڑے ہو کر نوافل ادا کرے یا بیٹھ کر، بہر صورت منت پوری ہو جائے گی، البتہ اگر منت میں کھڑے ہو کر پڑھنے کی شرط عائد کی، تو پھر کھڑے ہو کر ہی ادا کرنے ہوں گے۔

منت میں صراحت نہ کی، تو قیام لازم نہیں۔ برہان الاسلام امام رضی الدین محمد بن محمد سرخسی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

لو نذر ان یصلی مطلقاً لم یلزمہ القیام وھو الصحیح، لان القیام زیادۃ صفۃ فی التطوع فلا یلتزم الا بالشرط

ترجمہ: اگر کسی نے مطلق نماز کی منت مانی تو اس پر قیام لازم نہیں، یہی صحیح قول ہے کیونکہ قیام نفل نماز میں ایک زائد وصف ہے، لہذا بغیر شرط کیے لازم نہیں ہوگا۔ (المحیط الرضوی، کتاب الصلوۃ، باب التطوع المطلق، جلد 1، صفحہ 271، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

علامہ محقق شیخ ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اذا نذر و لم یلتزم فی نذرہ صفۃ القیام و قال فی الکافی: لم یلزمہ القیام فی الصحیح، لان القیام وراء ما یتم بہ التطوع، فلا یلزمہ الا بالتنصیص علیہ

ترجمہ: جب کسی شخص نے نماز کی منت مانی اور اس میں قیام کو ذکر نہیں کیا، کافی میں ہے: صحیح قول کے مطابق قیام لازم نہیں ہوگا، کیونکہ نفل نماز کی تکمیل میں جو چیزیں لازم ہیں، ان میں قیام ایک اضافی چیز ہے اور یہ نفل میں تب ہی لازم ہو گا جب اس کی صراحت مذکور ہو۔ (غنیۃ المتملی، فصل فی النوافل، صفحہ 396، مطبوعہ کوئٹہ)

منت میں کھڑے ہو کر پڑھنے کا ذکر کیا، تو قیام لازم ہو گا۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:

نذر ان یصلی رکعتین فصلاھما قاعداً جاز۔۔۔ و لو نذر ان یصلی قائماً، یلزمہ قائما

ترجمہ: منت مانی کہ دو رکعت ادا کروں گا، پھر اس نے دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھ لیں، تو درست ہے،۔۔ اور اگر منت مانی کہ کھڑے ہو کر پڑھے گا، تو قیام کے ساتھ پڑھنا لازم ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الصلاۃ، باب النوافل و مما یتصل بذلک مسائل، جلد 1، صفحہ 127، مطبوعہ کراچی)

بہار شریعت میں ہے: اگر کھڑے ہو کر پڑھنے کی منت مانی، تو کھڑے ہو کر پڑھنا واجب ہے اور مطلق نماز کی منت مانی، تو اختیار ہے۔ (بھار شریعت، حصہ 4، صفحہ 674، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو تراب محمد علی عطاری
فتویٰ نمبر: PIN-7507
تاریخ اجراء: 21 ربیع الاول 1446ھ / 26 ستمبر 2024ء