قربانی کے جانور کی رسی اور ہار کیا کریں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قربانی کے جانور کے ہار رسی کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے قربانی کے جانور کے گلے میں معمولی سی رسی اور ایک موتیوں کا ہار تھا جو قربانی کے وقت خون آلود ہوگئے تھے اس لیے ہم نے انہیں پھینک دیا پھر کسی نے توجہ دلائی کہ اسے صدقہ کرنا ہوتا ہے تو کیا اس رسی اور ہار کی رقم ہمیں صدقہ کرنی ہوگی؟
جواب
قربانی کے جانور شعائر اللہ میں سے ہیں ان کی تعظیم وتکریم کا حکم ہے لہٰذا جب جانور کو شعائرِ اسلام کی زینت کی نیت سے سجایا جائے اور یہ نیت بھی ہو کہ بعد میں مسلمان فقراء کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے اشیاءِ زینت مثلِ جھول و ہار وغیرہ صدقہ کروں گا تو اب اپنی اس نیت پر عمل کرتے ہوئے اسے صدقہ کرنے کا حکم ہوگا کہ اللہ عزوجل سے وعدہ کر کے اس سے پھرنا بہت بری بات ہے مگر عموماً ہمارے یہاں ان نیتوں کے ساتھ جانور پر ہار وغیرہ نہیں ڈالے جاتے لہٰذا جانور پر ہار وغیرہ ڈالتے وقت اگر آپ کی بھی ایسی کوئی نیت نہیں تھی تو اس ہار یا اس کی قیمت صدقہ کرنا آپ پر شرعاً لازم نہیں۔ یونہی رسی کی قیمت کا تصدق بھی لازم نہیں کہ یہ عام رسیاں جن سے جانور کو باندھا جاتا ہے، نکیل کی صورت میں جانور کے چہرے اور گلے کے گرد ہوتی ہیں وہ ان جانوروں کی تعظیم وتکریم کے لیے نہیں بلکہ ان کی حفاظت کی غرض سے ہوتی ہیں اس لیے بھی ان کے صدقہ کا حکم نہیں۔
تنبیہ: اگر وہ ہار یا رسی اس قابل تھی کہ اس سے نفع اٹھایا جاسکتا تھا یا اسے بیچا جاسکتا تھا تو اسے پھینک دینا جائز نہیں تھا کہ یہ مال کا ضائع کرنا ہوا جو کہ جائز نہیں لہٰذا اس صورت میں آپ پر توبہ لازم ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ جون 2026ء