قربانی کس پر واجب ہے؟ اگر قربانی واجب ہو اور رقم نہ ہو؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قربانی واجب ہو اور رقم نہ ہو، تو کیا حکم ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میری زوجہ کے پاس تین تولے سونا اور چاندی کا سیٹ ہے، لیکن اس کے پاس نقد رقم موجود نہیں، جس سے وہ جانور خریدے یا حصہ ڈال سکے، کیا وہ قرض لے کر قربانی کر سکتی ہے؟ اس طرح اس کا واجب ادا ہو جائے گا؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں قربانی تو واجب ہے، لہٰذا بہرصورت قربانی کرے اور اگر قرض لے کر بھی قربانی کرے گی، تو واجب ادا ہو جائے گا۔ فتاوی رضویہ و امجدیہ میں ہے: و اللفظ للاول جس پر قربانی ہے اور اس وقت نقد اس کے پاس نہیں، وہ چاہے قرض لے کر کرے، یا اپنا کچھ مال بیچے۔(فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 370، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وقار الفتاوی میں ہے: جو صاحب نصاب ہے، اس پر قربانی واجب ہے، قربانی کرنے کے لئے اپنا سونا چاندی فروخت کرے یا قرض لے کر کرے، دونوں صورتوں میں سے کسی ایک پر عمل کرے۔ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 470، مطبوعہ بزم وقار الدین، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-4795
تاریخ اجراء: 02 ذو الحجۃ الحرام 1437ھ / 05 ستمبر 2016ء