logo logo
AI Search

شرعی فقیر عیب دار جانور کی قربانی کر سکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شرعی فقیر کے لیے عیب دار جانور کی قربانی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں صاحبِ نصاب نہیں ہوں، میں نے بقر عید سے ایک دن پہلے قربانی کرنے کے لیے بکرا خریدا تھا، بعد میں مجھے پتہ چلا کہ اس بکرے کو بالکل بھی نظر نہیں آتا، مگر اس عید پر میں نے اسی بکرے کی قربانی کر دی ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس جانور کی قربانی ہوگئی یا نہیں؟

نوٹ: سائل قربانی کے لیے جانور خریدتے وقت بھی صاحبِ نصاب نہیں تھا اور قربانی کی نذر بھی نہیں مانی تھی۔

جواب

شرعی فقیر پر قربانی لازم نہیں ہوتی لیکن اگر وہ قربانی کی نیت سے جانور خرید لے تو اس کے حق میں خاص وہی جانور قربانی کے لیے متعین ہو جاتا ہے اگرچہ اس میں ایسا عیب ہو جو قربانی سے مانع ہو لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ صاحبِ نصاب نہیں تھے لیکن آپ نے قربانی کرنے کی نیت سے بکرا خریدا اگرچہ اسے بالکل بھی نظر نہیں آتا تھا تو بھی اس کی قربانی کرنے سے قربانی ادا ہوگئی۔

یاد رہے! یہ حکم صرف شرعی فقیر کے لیے ہے اگر کوئی غنی شخص ایسا جانور خرید لے جس کو نظر نہ آتا ہو تو اس صورت میں غنی کے لیے دوسرا صحیح جانور قربان کرنا واجب ہوگا، نابینا جانور ذبح کرنے سے قربانی ادا نہیں ہو گی۔

یونہی! اگر شرعی فقیرنے پہلے ہی غیر معین جانورقربان کرنے کی منت مانی اور منت پوری کرنے کے لیے اس نے ایسا جانور خریدا جو کہ نابینا ہے تو اس جانور کو ذبح کرنے سے اس کی نذر پوری نہیں ہوگی کیونکہ نذر غیر معین میں ایسا جانور لازم ہوتاہے جو قربانی کی شرائط پر پورا ہو۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ جون 2026ء