logo logo
AI Search

Ehtelam ke Chand Qatre Kapdon Par Dekhe to Kya Ghusal Hoga?

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

احتلام کے چند قطروں کے نشان کپڑے پر دیکھے، توکیا غسل لازم ہوگا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی کو احتلام ہوجائے، لیکن جب وہ سوکر اٹھا، تو عام طور پر جس طرح منی خارج ہوتی ہے اس طرح نہیں تھا، بلکہ اس کے کپڑوں پر منی کے صرف دو تین قطرے تھے، تو کیا ایسی صو رت میں بھی غسل کرنا ضروری ہوگا؟

جواب

جی ہاں! بیان کردہ صورت میں غسل فرض ہوگا۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ جہاں منی کے خارج ہونے سے غسل فرض ہوتا ہے، وہاں اس میں قلیل و کثیر کا کوئی فرق نہیں، بلکہ کثیر کی طرح قلیل منی کا خروج بھی غسل کے وجوب کا سبب ہے۔

اس پر درج ذیل عباراتِ فقہاء دلالت کرتی ہیں:

تحفۃ الفقہاء میں ہے:

فأما إذا انفصل عن شهوة و خرج لا عن شهوة فعلى قول أبی حنيفة و محمد يجب الغسل و على قول أبي يوسف لا يجب۔۔۔۔۔ و فائدة الخلاف تظهر في ثلاث مسائل۔۔۔ و الثانية إذا اغتسل الرجل من الجنابة ثم خرج منه شیء من المنی

ترجمہ: شہوت سے منی جدا ہو اور شہوت سے خارج نہ ہو، تو طرفین کے قول پر غسل واجب ہے اور امام ابو یوسف کے قول پر واجب نہیں۔۔۔ ثمرہ خلاف تین مسائل میں ظاہر ہوگا۔۔۔ دوسرا یہ کہ اگر کسی نے جنابت سے غسل کرلیا، پھر اس میں سے منی کا کچھ حصہ خارج ہوا (تو طرفین کے نزدیک غسل فرض ہوگا)۔ (تحفة الفقهاء، ج 1، ص 26، دار الکتب العلمیہ)

اور اسی مسئلہ میں ہندیہ کے الفاظ ہیں:

ثم خرج بقية المنی فعليه أن يغتسل

ترجمہ: پھر بقیہ منی خارج ہوئی، تو اس پر غسل کرنا لازم ہے۔ (الفتاوى الهندية، ج 1، ص 14، دار الفکر)

عنایہ میں ہے:

التقاءالختانين سبب الإنزال۔۔۔ و قد يخفى الإنزال لقلة المنی فيقام الالتقاء مقام الإنزال

ترجمہ: دخول انزال کا سبب ہے۔۔۔ اور کبھی منی کی قلت کی وجہ سے انزال مخفی رہتا ہے، تو فقط دخول کو انزال کے قائم مقام قرار دیا گیا۔ (العنایہ شرح الھدایہ، ج 1، ص 63، 34، دار الفکر)

محقق علی الاطلاق ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لأن وصف الجنابة متوقف على خروج المنی ظاهرا أو حكما عند كمال سببه مع خفاء خروجه لقلته۔۔۔ و هذا علة كون الإيلاج فيه الغسل

ترجمہ: وصف جنابت خروج منی پر موقوف ہے، چاہے وہ ظاہراً ہو یا حکماً جبکہ سبب کامل ہو کہ اس حال میں منی کی قلت کی وجہ سے خروج مخفی ہوتا ہے۔۔۔ یہ دخول کی صورت میں غسل فرض ہونے کی علت ہے۔ (فتح القدير للكمال ابن الهمام، ج 1، ص 64، دار الفکر)

امام احمد رضا خان رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

و القلۃ ایضا لا تنفی المنی لان الکثرۃ لا تلزمہ الا تری ان الشرع اوجب الغسل بایلاج الحشفۃ فقط و ان اخرجھا من فورہ و لم یرعلیھا بلۃ اصلا سوی نداوۃ من رطوبۃ الفرج و ماھو الا لان الا یلاج مظنۃ خروج المنی و ربما یکون قلیلا لا یحس بہ

ترجمہ: اور کم ہونا بھی منی کی نفی نہیں کرتا، اس لیے کہ اس کے لیے زیادہ ہونا کوئی ضروری نہیں۔ دیکھئے شریعت نے وقتِ جماع صرف مقدارِ حشفہ داخل کرنے پر غسل واجب کردیاہے، اگرچہ فوراً نکال لیا ہو اور اس پر کوئی تری نظر بھی نہ آتی ہو، سوا اس کے کہ رطوبت فرج کی کچھ نمی ہو۔ اس کا سبب یہی ہے کہ داخل کرناخروجِ منی کا مظنّہ ہے (گمان غالب کا محل ہے) اور منی بعض اوقات اتنی کم ہوتی ہے کہ اس کا احساس نہیں ہوتا۔ (فتاوی رضویہ، ج 1 (ب)، ص665، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اور احتلام میں بھی قلیل منی کے خروج کی صورت میں غسل کے واجب ہونے کے حکم سے مستثنیٰ نہیں۔ امام اہل سنت فرماتے ہیں:

ان الکثرۃ لا تلزم الامناء فقد لا ینزل الاقطرۃ او قطر تان کماعرف فی مسألۃ التقاء الختانین قال فی الھدایۃ قد یخفی علیہ لقلتہ۔۔۔ و زاد فی الحلیۃ لقلتہ مع غلبۃ الحرارۃ المجففۃ لہ۔۔۔ أقول: و الامر فی النائم اظھر فقد یتجاوز بعضہ الاحلیل و ینشفہ بعض ثیابہ و لا یحس بہ لقلتہ

ترجمہ: منی نکلنے کے لیے زیادہ ہونا کوئی ضروری نہیں، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قطرہ دو قطرہ آتا ہے، جیسا کہ التقائے ختانین کے مسئلہ میں معلوم ہوا، ہدایہ میں فرمایا: منی قلت کی وجہ سے اس پر مخفی رہ جاتی ہے۔۔۔ اور حلیہ میں اضافہ کے ساتھ کہا: کیوں کہ وہ کم ہوتی ہے ساتھ ہی اسے خشك کرنے والی حرارت غالب ہوتی ہے۔۔۔ اقول: اور معاملہ سونے والے کے بارے میں اور زیادہ واضح ہے، کیونکہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کچھ منی احلیل سے تجاوز کر کے کپڑے میں جذب ہوجاتی ہے اور قلیل ہونے کی وجہ سے محسوس نہیں ہوتی۔ (فتاوی رضویہ، ج 1 (ب)، ص 687، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0389
تاریخ اجراء: 06 محرم الحرام 1446ھ / 13 جولائی 2024ء