logo logo
AI Search

نل سے وضو میں انگلیوں کا خلال ضروری ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

نل یا ٹونٹی سے وضو کرتے ہوئے انگلیوں کے خلال کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا نل یا ٹونٹی کے نیچے ہاتھ پاؤں دھونے کی صورت میں بھی انگلیوں کا خلال کرنا ہوگا؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

نل یا ٹونٹی سے نکلنے والے بہتے ہوئے پانی کے نیچے ہاتھ اور پاؤں رکھ کر دھوئے جائیں تو یہ دھونا ہی خلال کے قائم مقام ہو جائے گااور صرف اسی دھونےسے ہی خلال کی سنت ادا ہو جائے گی، الگ سے خلال کرنے کی ضرورت نہیں ؛کیونکہ نل سے نکلنے والا پانی بہتے اور جاری پانی کے حکم میں ہوتا ہے اور بہتے و جاری پانی میں ہاتھ پاؤں دھونے کی صورت میں صرف دھونا ہی خلال کے قائم مقام ہو تا ہے ، البتہ پاؤں کی انگلیوں کی کروٹیں چونکہ قدرتی طور پر ملی ہوتی ہیں ، اس لیے ان کو دھوتے وقت زیادہ توجہ کرنی چاہیے اور ان کو کھول کر اندر پانی داخل کرنا چاہیے۔

مراقی الفلاح اور اس پر حاشیہ طحطاوی میں ہے: ”(و يكفي عنه إدخالها في الماء الجاري و نحوه) قال في الشرح و ما هو في حكمه اهـ أي و هو الماء الكثير و الظاهر أنه في الماء الكثير الراكد لا يقوم مقام التخليل إلا بالتحريك و حينئذ فلا فرق بين القليل و الكثير بخلاف الجاري لأنه بقوته يدخل الأثناء“ ترجمہ: جاری پانی وغیرہ میں ہاتھ ڈالنا ہی خلال کے لیے کافی ہے۔ اس کی شرح میں فرمایا: یا جو اس کے حکم میں ہویعنی کثیر پانی ہو ۔اور ظاہر یہ ہے کہ ٹھہرے ہوئے کثیر پانی میں فقط ہاتھ ڈالنا کافی نہیں ہو گا بلکہ ہلانا ضروری ہو گا لہذا قلیل و کثیر میں کوئی فرق نہیں برخلاف جاری پانی کے کیونکہ جاری پانی اپنی قوت سے انگلیوں میں داخل ہو جاتا ہے۔ (طحطاوي على مراقي الفلاح، صفحہ 71، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

اسلامی بہنوں کی نماز میں ہے: ”برسات میں (یا نل یا فوارے کے نیچے) کھڑا ہونا بہتے پانی میں کھڑے ہونے کے حُکم میں ہے۔ بہتے پانی میں وُضو کیا تو وُہی تھوڑی دیر اس میں عُضْوکو رَہنے دینا اور ٹھہرے پانی ميں حَرَکت دینا تین بار دھونے کے قائم مقام ہے۔ (اسلامی بہنوں کی نماز، صفحہ 56، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ وضو کی احتیاطیں بیان کرتے ہوئے پاؤں دھونے کے متعلق لکھتے ہیں: ”زیادہ قابل لحاظ ہیں کہ قدرتی ملی ہوئی ہیں۔“ ( فتاوی رضویہ، جلد 1، صفحہ 599، رضا فاونڈیشن، لاھور)

مزید اما م اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں ” وضو میں بھی ایسی ہی بے احتیاطیاں کرتے ہیں، کہیں ایڑیوں پر پانی نہیں بہتا، کہیں کہنیوں پر کہیں ماتھے کے بالائی حصے پر، کہیں کانوں کے پاس کنپٹیوں پر۔ ہم نے اس بارہ میں ایک مستقل تحریر لکھی ہے اُس میں ان تمام مواضع کی تفصیل ہے جن کا لحاظ و خیال وضو وغسل میں ضرور ہے مردوں اور عورتوں کی تفریق اور طریقہ احتیاط کی تحقیق کے ساتھ ایسی سلیس وروشن بیان سے مذکور ہے جسے بعونہٖ تعالٰی ہر جاہل بچہ، عورت سمجھ سکے، یہاں اجمالاً ان کا شمار کئے دیتے ہیں۔ ۔ ۔ (18) پاؤوں کی آٹھوں گھائیاں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 597 تا 599، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-015
تاریخ اجراء: 11 ربیع الاول 1448ھ / 24 اگست 2026ء