logo logo
AI Search

موزوں پر مسح کے فرائض اور سنتیں کتنی ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

موزوں پر مسح کرنے کے فرائض اور سنتیں

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ موزوں پر مسح کرنے کے کتنے فرض ہیں۔ نیز اس کی سنتیں کیا کیا ہیں؟

جواب

موزوں پر مسح کرنے کے دو فرض ہیں: (1) ہر موزہ کا مسح ہاتھ کی چھوٹی تین انگلیوں کے برابر ہونا۔ (2) مسح کا موزے کی پشت (اوپر والے حصہ) پر ہونا۔

اور اس کی سنتیں یہ ہیں: (1) پوری تین انگلیوں کے پیٹ سے مسح کرنا۔ (2) پنڈلی تک کھینچنا۔ (3) مسح کرتے وقت انگلیاں کھلی رکھنا۔ (4) پاؤں کی انگلیوں کے سروں سے شروع کرنا۔ (5) ایک ہی مرتبہ مسح کرنا۔

سنن ابن ماجہ کی حدیث پاک ہے: ”عن جابر، قال: مر رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم، برجل يتوضأ، و يغسل خفيه، فقال بيده، كأنه دفعه إنما أمرت بالمسح و قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: بيده هكذا من أطراف الأصابع، إلى أصل الساق، و خطط بالأصابع“ ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو وضو کر رہا تھا، اور اپنے دونوں موزوں کو دھو رہا تھا، آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، گویا آپ اسے روک رہے ہیں، اور فرمایا: تمہیں تو (موزوں پر) صرف مسح کا حکم دیا گیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح کیا یعنی انگلیوں کے کناروں سے خط کھینچتے ہوئے پنڈلیوں کی جڑ تک لے گئے۔ ( سنن ابن ماجہ، جلد 01، صفحہ 183، رقم الحدیث: 551، مطبوعہ دار إحياء الكتب العربیہ)

تحفۃ الملوک میں ہے: ”صفة المسح و يمسح ظاهر الخف و أقله قدر ثلاثة أصابع من أصابع اليد“ ترجمہ: مسح کا طریقہ یہ ہے کہ موزہ کے اوپر والے حصے پر مسح کیا جائے، اور مسح کی کم از کم مقدار ہاتھ کی تین انگلیوں کے برابر ہے۔ (تحفۃ الملوک، صفحہ 33، مطبوعہ دار البشائر الإسلاميہ، بيروت)

اس کے تحت منحۃ السلوک فی شرح تحفۃ الملوک میں ہے: ”قوله: (و مسح ظاهر الخف) هذا بيان محل المسح، و هو ظاهر الخف عندنا، حتى لا يجوز باطنه أو عقبه أو ساقه أو جوانبه أو كعبه، لقول علي رضي اللہ عنه: "لو كان الدين بالرأي لكان أسفل الخف أولى بالمسح من أعلاه، و قد رأيت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم مسح على ظاهر خفيه" رواه أبو داود. قوله: (و أقله) أي أقل المسح (قدر ثلاثة أصابع من أصابع اليد)“

ترجمہ: مصنف کا قول ’’و مسح ظاهر الخف‘‘ یعنی موزہ کے اوپر والے حصے پر مسح کرنا، اس سے مسح کی جگہ بیان کرنا مقصود ہے، اور ہمارے نزدیک مسح کا محل موزہ کا اوپر والا حصہ ہے۔ لہٰذا موزوں کے تلوے، ایڑی، پنڈلی، اطراف یا ٹخنے پر مسح کرنا، جائز نہیں۔ اس کی دلیل حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان ہے: اگر دین کا معاملہ محض رائے اور  قیاس پر ہوتا تو موزہ کے اوپر والے حصے کی نسبت اس کے نچلے حصے پر مسح کرنا زیادہ مناسب ہوتا، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپر والے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ مصنف کا قول ’’و أقله“ یعنی ’’اور اس کی کم از کم مقدار‘‘، اس سے مراد مسح کی کم از کم مقدار ہے، جو ہاتھ کی تین انگلیوں کے برابر ہے۔ (منحۃ السلوک، صفحہ 71، مطبوعہ قطر)

اللباب فی شرح الكتاب میں ہے: ”(و المسح على الخفين) محله (على ظاهرهما) فلا يجوز على باطن الخف و عقبه و ساقه، لأنه معدول عن القياس، فيراعى فيه جمع ما ورد به الشرع، هداية ۔ ۔ ۔ ۔ (و فرض ذلك) المسح (مقدار ثلاث أصابع من أصغر أصابع اليد) طولاً و عرضاً، و قال الكرخي: من أصابع الرجل، و الأول أصح اعتباراً لآلة المسح“ ترجمہ: ’’اور موزوں پر مسح کرنے کا محل دونوں موزوں کا اوپر والا حصہ ہے۔ لہٰذا موزے کے تلوے، ایڑی اور پنڈلی پر مسح کرنا، جائز نہیں، کیونکہ موزے پر مسح کرنا خلاف قیاس ثابت شدہ حکم ہے، اس لیے اس میں ان تمام باتوں کی رعایت کی جائے گی جو شریعت سے ثابت ہیں۔ یہ عبارت ہدایہ سے ماخوذ ہے۔ اور مسح کی فرض مقدار یہ ہے کہ ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی کی تین انگلیوں کے برابر، لمبائی اور چوڑائی دونوں اعتبار سے۔ امام کرخی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس سے مراد پاؤں کی انگلیوں کے اعتبار سے تین انگلیوں کی مقدار ہے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ مسح کی مقدار کا اعتبار مسح کرنے والے آلے یعنی ہاتھ کی انگلیوں سے کیا جائے گا۔ ( اللباب فی شرح الكتاب، جلد 01، صفحہ 37، مطبوعہ مکتبۃ العلمیہ، بیروت، لبنان)

مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے:”و فرض المسح قدر ثلاث أصابع من أصغر أصابع اليد "هو الأصح لأنها آلة المسح و الثلاث أكثرها و به وردت السنة فإن ابتل قدرها و لو بخرقة أو صب جاز و محل المسح" على ظاهر مقدم كل رجل "مرة واحدة فلا يصح على باطن القدم و لا عقبه و جوانبه و ساقه و لا يسن تكراره" و سننه مد الأصابع مفرجة" يبدأ "من رؤوس أصابع القدم إلى الساق" لأن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم مر برجل يتوضأ وهو يغسل خفية فنخسه بيده و قال: "إنما أمرنا بالمسح هكذا" و أراه من مقدم الخفين إلى أصل الساق مرة و فرج بين أصابعه فإن بدأ بالساق أو مسح عرضا صح و خالف السنة“

ترجمہ: اور مسح کی فرض مقدار ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلیوں میں سے تین انگلیوں کے برابر ہے۔ یہی قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ہاتھ ہی مسح کرنے کا آلہ ہے، اور تین انگلیاں اس کی زیادہ سے زیادہ مقدار ہیں، نیز سنت میں بھی اسی مقدار کا ذکر وارد ہوا ہے۔ لہٰذا اگر اتنی مقدار گیلی ہوجائے، خواہ کسی کپڑے کے ٹکڑے کے ذریعے یا پانی بہا کر، تو مسح جائز ہوجائے گا۔ اور مسح کا محل ہر پاؤں کے اگلے حصے کے اوپر والا حصہ ہے، اور اس پر ایک مرتبہ مسح کیا جائے۔ لہٰذا پاؤں کے نچلے حصے، ایڑی، اطراف اور پنڈلی پر مسح درست نہیں، اور مسح کو دوبارہ کرنا بھی سنت نہیں۔ اور مسح کی سنتوں میں سے یہ ہے کہ انگلیوں کو کشادہ کر کے پھیلایا جائے اور پاؤں کی انگلیوں کے سروں سے پنڈلی کی طرف مسح شروع کیا جائے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو وضو کر رہا تھا اور اپنے موزے کو دھو رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے اپنے ہاتھ سے متوجہ کیا اور فرمایا: ’’ہمیں اسی طرح مسح کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے دکھایا کہ موزے کے اگلے حصے سے پنڈلی کے ابتدائی حصے تک ایک مرتبہ مسح کیا، اور اپنی انگلیوں کو کشادہ رکھا۔ اگر کسی نے پنڈلی کی طرف سے مسح شروع کیا یا چوڑائی کی سمت مسح کیا تو مسح درست ہوجائے گا، البتہ اس نے سنت کی مخالفت کی۔ (مراقی الفلاح، صفحہ 58، 57، مطبوعہ المكتبۃالعصریہ)

بہار شریعت میں ہے: ”مسح میں فرض د و ہیں: (۱) ہر موزہ کا مسح ہاتھ کی چھوٹی تین انگلیوں کے برابر ہونا۔ (۲) موزے کی پِیٹھ پر ہونا۔ ۔ ۔ ۔ پوری تین انگلیوں کے پیٹ سے مسح کرنا اور پنڈلی تک کھینچنا اور مسح کرتے وقت انگلیاں کھلی رکھنا سنّت ہے۔ (بہار شریعت، جلد 01، صفحہ 366، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-014
تاریخ اجراء: 08 ربیع الاول 1448ھ / 22 اگست 2026ء