logo logo
AI Search

موزوں پر مسح کیسے کیا جائے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

موزوں پر مسح کرنے کا طریقہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ موزوں پر مسح کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب

جن موزوں پر مسح کی شرائط پائی جاتی ہو ں،ان پر مسح کرنےکا مسنون طریقہ یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ کی تین انگلیاں، سیدھے پاؤں کی پشت کے سرے پر اور الٹے ہاتھ کی انگلیاں بائیں پاؤں کی پشت کے سرے پر رکھ کر پنڈلی کی طرف کم سے کم بقدر تین انگل کے کھینچ لی جائیں اور سنت یہ ہے کہ پنڈلی تک پہنچائے اور انگلیوں کو کشادہ رکھے۔

نوٹ: اگر انگلیوں کی پُشت سے مسح کیا یاپنڈلی کی طرف سے انگلیوں کی طرف کھینچا، یا موزے کی چوڑائی کا مسح کیا یا انگلیاں ملی ہوئی رکھیں یا ہتھیلی سے مسح کیا تو ان سب صورتوں میں مسح ہو جائے گا لیکن سنّت کے خلاف ہوگا۔

سنن ابن ماجہ کی حدیث پاک ہے: ”عن جابر، قال: مر رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم، برجل يتوضأ، و يغسل خفيه، فقال بيده، كأنه دفعه إنما أمرت بالمسح و قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: بيده هكذا من أطراف الأصابع، إلى أصل الساق، و خطط بالأصابع“ ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو وضو کر رہا تھا، اور اپنے دونوں موزوں کو دھو رہا تھا، آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، گویا آپ اسے روک رہے ہیں، اور فرمایا: تمہیں تو (موزوں پر) صرف مسح کا حکم دیا گیا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح کیا یعنی انگلیوں کے کناروں سے خط کھینچتے ہوئے پنڈلیوں کی جڑ تک لے گئے۔ ( سنن ابن ماجہ، جلد 01، صفحہ 183، رقم الحدیث: 551، مطبوعہ دار إحياء الكتب العربیہ)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”(أنه قال: رأيت النبي صلى اللہ عليه و سلم يمسح على ظاهرهما) أي: على ظاهر محل الفرض، و هو مقدم الرجل، و صورته: أن يضع أصابع اليمنى على مقدم خفه الأيمن، و أصابع اليسرى على مقدم الأيسر، و يمدهما إلى الساق فوق الكعبين، و يفرج أصابعه. هذا هو الوجه المسنون“ ترجمہ: انہوں نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو دونوں خفوں کے اوپر والے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا یعنی اس جگہ کے اوپر والے حصے پر جو فرضِ مسح کا محل ہے، اور وہ پاؤں کا اگلا حصہ ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی انگلیاں دائیں خف کے اگلے حصے پر اور بائیں ہاتھ کی انگلیاں بائیں خف کے اگلے حصے پر رکھی جائیں، پھر دونوں ہاتھوں کو ٹخنوں کے اوپر پنڈلی کی طرف پھیرا جائے اور انگلیوں کو کشادہ رکھا جائے۔ یہی مسح کا مسنون طریقہ ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 02، صفحہ 478، مطبوعہ دار الفكر، بيروت، لبنان)

الجوہرہ النیرہ میں ہے: ”و صورة المسح ان يضع اصابع يده اليمنى على مقدم خفه الايمن و اصابع يده اليسرى على مقدم خفه الايسر و يمدهما جميعا الى الساق فوق الكعبين و يفرج بين اصابعه هذا هو المسنون“ ترجمہ: مسح کرنے کی صورت یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی انگلیاں دائیں موزہ کے اگلے حصے پر اور بائیں ہاتھ کی انگلیاں بائیں موزہ کے اگلے حصے پر رکھی جائیں، پھر دونوں ہاتھوں کو ایڑیوں کے اوپر پنڈلی کی جانب کھینچا جائے، اور انگلیوں کے درمیان کچھ کشادگی رکھی جائے۔ یہی مسح کرنے کا مسنون طریقہ ہے۔ (الجوهرة النيرة، كتاب الطهارة، باب المسح على الخفين، جلد 01، صفحہ 26، مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ)

اللباب فی شرح الكتاب میں ہے: ”(و المسح على الخفين) محله (على ظاهرهما) ۔ ۔ ۔ و السنة أن يكون المسح (خطوطاً بالأصابع) فلو مسح براحته جاز، و (يبدأ) بالمسح (من رءوس أصابع الرجل إلى) مبدأ (الساق) و لو عكس جاز و فرض ذلك مقدار ثلاث أصابع من أصغر أصابع اليد“ ترجمہ: مسحِ خف کا محل خف کا اوپر والا حصہ ہے ۔ ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ انگلیوں سےموزہ کے اوپر لکیریں کھینچتے ہوئے مسح کیا جائے۔ اگر کسی نے پوری ہتھیلی سے مسح کر لیا تو بھی مسح ادا ہوجائے گا۔ مسح کرتے وقت پاؤں کی انگلیوں کے سروں سے شروع کرکے پنڈلی کی طرف لے جانا سنت ہے، تاہم اگر الٹی سمت سے مسح کیا تو بھی مسح درست ہوجائے گا۔ مسح کی فرض مقدار یہ ہے کہ ہاتھ کی تین چھوٹی انگلیوں کے برابر خف کے اوپر کے حصے پر مسح کیا جائے۔ (اللباب فی شرح الكتاب، جلد 01، صفحہ 37، مطبوعہ مکتبۃ العلمیہ، بیروت، لبنان(

بہار شریعت میں ہے: ”مسح کا طریقہ یہ ہے کہ دہنے (سیدھے) ہاتھ کی تین انگلیاں، دہنے پاؤں کی پشت کے سرے پر اور بائیں (الٹے) ہاتھ کی انگلیاں بائیں پاؤں کی پشت کے سرے پر رکھ کر پنڈلی کی طرف کم سے کم بقدر تین انگل کے کھینچ لی جائے اور سنت یہ ہے کہ پنڈلی تک پہنچائے ۔ ۔ ۔ انگلیوں کی پُشت سے مسح کیا یاپنڈلی کی طرف سے انگلیوں کی طرف کھینچا، یا موزے کی چوڑائی کا مسح کیا یا انگلیاں ملی ہوئی رکھیں یا ہتھیلی سے مسح کیا تو ان سب صورتوں میں مسح ہوگیا مگر سنّت کے خلاف ہوا۔ (بہار شریعت، جلد 01، صفحہ 366، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-013
تاریخ اجراء: 09 ربیع الاول 1448ھ/ 22اگست 2026ء