ہمبستری میں انزال نہ ہو تو کیا غسل فرض ہوگا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
دورانِ ہمبستری منی خارج نہ ہو تو غسل کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
ہمبستری کے دوران، جب زندہ مردکاحشفہ (شرمگاہ کا سر) زندہ عورت کے اگلے مقام میں داخل ہوجائے، تو اگردونوں بالغ ہوں، تو دونوں پر غسل لازم ہوجاتا ہے، اگرچہ منی خارج نہ ہو، اور ایک بالغ ہو، اور دوسرا نابالغ لیکن وہ قابل شہوت / قابل جماع ہو، تو ایسی صورت میں صرف بالغ پر غسل فرض ہوتا ہے، اگرچہ منی خارج نہ ہوئی ہو، اور نابالغ پر اگرچہ فرض نہیں لیکن اسے بھی غسل کاحکم دیا جائے گا، اور اگر نابالغ قابل شہوت / قابل جماع نہ ہو، تو ایسی صورت میں بالغ پر غسل اسی صورت میں فرض ہوگا کہ اس کی منی شہوت کے ساتھ جدا کر نکلے۔
نوٹ: مرد کم از کم دس سال کی عمرمیں قابل شہوت / قابل جماع ہوتا ہے، اور عورت کم ازکم نو سال کی عمرمیں یا 7 یا 8 سال کی عمر ہو، اور اتنی صحت مند ہو کہ اس سے صحبت کی جاسکتی ہو۔
ترمذی شریف کی روایت ہے ”اذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل“ ترجمہ: جب مرد کی شرمگاہ عورت کی شرمگاہ میں داخل ہوجائے، تو غسل لازم ہو جاتا ہے۔ (سنن الترمذی، ص 55، رقم الحدیث 108، دار ابن کثیر، دمشق)
اس حدیث پاک کے تحت حاشیہ سندی علی سنن الترمذی میں ہے ”قوله: «اذا جاوز الختان الختان»، اي: ختانه ختانها، و المراد غيبوبة الحشفة“ ترجمہ: اس قول: «اذا جاوز الختان الختان» سے مراد یہ ہے کہ جب مرد کی شرمگاہ عورت کی شرمگاہ میں داخل ہوجائے یعنی جب حشفہ (مرد کے عضو مخصوص کا اگلا حصہ، عورت کی شرمگاہ میں) چھپ جائے (تو غسل فرض ہو جاتا ہے)۔ (حاشیہ سندی علی سنن الترمذی، ج 1، ص 137، دار الکتب العلمیۃ، بیروت(
فتاوی ہندیہ میں ہے "إذا توارت الحشفة يوجب الغسل على الفاعل و المفعول به أنزل أو لم ينزل و هذا هو المذهب لعلمائنا. كذا في المحيط و هو الصحيح" ترجمہ: جب حشفہ چھپ جائے تو یہ فاعل و مفعول پہ غسل واجب کر دیتا ہے، چاہے انزال ہو یا نہ ہو، یہی ہمارے علماکا مذہب ہے، اسی طرح محیط میں ہےاور یہی صحیح ہے۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 1، صفحہ 15، مطبوعہ: کوئٹہ)
مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے "إذا كان التواري في أحد سبيلي آدمي حي يجامع مثله فيلزمهما الغسل لو مكلفين و يؤمر به المراهق تخلقا" ترجمہ: جب کسی زندہ انسان کے اگلے یا پچھلے مقام میں حشفہ چھپ جائے کہ جس کی مثل سےجماع ہوجاتا ہے، تو اگر دونوں مکلف ہوں تو دونوں پر غسل واجب ہو جائے گا اور مراہق (قریب البلوغ) کو بھی عبادت کی عادت ڈالنے کے لیے غسل کا حکم دیا جائے گا۔ (اسی طرح) ایسی کم عمر لڑکی کےساتھ وطی کرنے سے بھی صحیح قول کے مطابق غسل لازم ہو جائے جو ابھی شہوت کی عمر کو نہ پہنچی ہو، لیکن اس کے ساتھ مباشرت سے اسے کوئی جسمانی نقصان نہ پہنچا ہو، کیونکہ وہ اس درجے میں آ چکی ہے کہ اس کے ساتھ جماع کیا جا سکتا ہے۔ (مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، صفحہ 68، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاوی خیریہ میں ہے "المراد بالمراھق الذی یجامع مثلہ و تتحرک آلتہ و یشتھی الجماع و قدرہ شمس الائمۃ بعشر سنین" ترجمہ: مراہق سے مراد وہ ہے جس طرح کا لڑکا جماع کر سکتا ہو اور اس کا آلہ منتشر ہوتاہو اور جماع کی خواہش رکھتا ہو، اور شمس الائمہ نے ا س کی عمر دس سال مقرر کی ہے۔ (فتاوی خیریہ، جلد 1، صفحہ 92، مطبوعہ: کوئٹہ)
غنیۃ المستملی میں ہے "المشتھاۃ الذی یجامع مثلھا ھی بنت التسع فی الصحیح و ما دونھا غیر مشتھاۃ الا اذا کانت بنت سبع او ثمان و ھی عبلۃ قربت الی حد الشھوۃ فالاحتیاط فی وجوب الغسل و ھو الاصح اما فیما دونھا فالاصح عدم الوجوب لانہ بمنزلۃ التطبین والتفخیذ و معالجۃ الید" ترجمہ: مشتہاۃ وہ لڑکی ہے جس کی مثل سے جماع کیا جا سکتا ہو، وہ صحیح قول کے مطابق نو سال عمر ہے اور ا س سے کم مشتہاۃ نہیں، مگر یہ کہ وہ سات یا آٹھ سال کی ہو اور ایسی فربہ ہو کہ حد شہوت کے قریب ہو تو غسل کے وجوب کا حکم دینے میں ہی احتیاط ہے اور یہی صحیح ہے، بہرحال اس سے کم عمر کی لڑکی میں صحیح قول کے مطابق غسل واجب نہیں ہوگا؛ کیونکہ یہ فقط جسم اور ران ملانے اور ہاتھ سے شہوت پوری کرنے کے مترادف ہے۔ (غنیۃ المستملی، صفحہ 37، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے حَشفہ یعنی سرِ ذَکر کا عورت کے آگے یا پیچھے یا مرد کے پیچھے داخل ہونا دونوں پر غُسل واجب کر تا ہے، شَہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت، اِنزال ہو یا نہ ہو بشرطیکہ دونوں مکلّف ہوں اور اگر ایک بالغ ہے تو اس بالغ پر فرض ہے اور نابالغ پر اگرچہ غُسل فرض نہیں مگر غُسل کا حکم دیا جائے گا۔ (بہار شریعت، ج 1 حصہ 2، ص 323، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5271
تاریخ اجراء: 09 صفر المظفر 1448ھ / 24 جولائی 2026ء