logo logo
AI Search

کیا ناپاک کھیت خشک ہونے سے پاک ہو جاتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ناپاک کھیت کے خشک ہونے کے بعد کاشت کاری کرنے سے بدن و کپڑے کی پاکی کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بعض کھیتوں میں گندہ پانی آ جاتا ہے، پھر جب کھیت خشک ہو جاتے ہیں، تو ان کھیتوں میں کاشت کاری کرتے ہیں، تو کیا اس صورت میں کپڑے یا بدن ناپاک ہو جائیں گے یا نہیں؟

جواب

نجاست کا اثر، (یعنی رنگ، بو) ختم ہو جانے کے بعد زمین خشک ہونے سے پاک ہو جاتی ہے، پھر اس کے بعد اگر اس کو پانی پہنچے تو وہ دوبارہ ناپاک نہیں ہوتی، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جب کھیت خشک ہو گئے، اور نجاست کا اثر (یعنی رنگ، بو) ختم ہو گیا، تو وہ زمین پاک ہوگئی، اس کے بعد اگر اس میں کاشت کاری کرنے کے لیے پانی لگایا گیا، اور وہ پانی کپڑوں یا بدن پر لگا، تو اس سے کپڑے یا بدن ناپاک نہیں ہوں گے۔

چنانچہ فقیہ النفس امام قاضی خان اَوْزجندی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 593ھ/1196ء) لکھتے ہیں: ”والأرض إذا أصابتها النجاسة فجفت وذهب أثرها ثم أصابها الماء بعد ذلك الصحيح أنه لا يعود نجسا وكذا لو جفت الأرض وذهب أثر النجاسة ورش عليها الماء وجلس عليها لا بأس به“ ترجمہ: زمین جب ناپاک ہوگئی اور پھر خشک ہوکر نجاست کا اثر ختم ہوگیا، پھر اس زمین پر پانی پڑا، تو صحیح یہ ہے کہ دوبارہ ناپاک نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر زمین خشک ہوگئی اور اس نجاست کا اثر ختم ہوگیا اور اس زمین پر پانی چِھڑکا گیا اور کوئی شخص اس زمین پر بیٹھ گیا، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ (فتاویٰ قاضی خان، جلد 1، صفحہ 31، مطبوعہ: کراچی)

علامہ ابن نجیم مصری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 970ھ/1562ء) مذکورہ بالا زمین کے پانی کے ساتھ ملنے کی وجہ سے اس کے پاک رہنے سے متعلق لکھتے ہیں: ”وأما مسألة الأرض۔۔۔ قال في المجتبى الصحيح عدم عود النجاسة وفي الخلاصة بعدما ذكر أن المختار عدم نجاسة الثوب من المني إذا أصابه الماء بعد الفرك قال وكذا الأرض على الرواية المشهورة۔۔۔ فالحاصل أن التصحيح والاختيار قد اختلف في كل مسألة منها كما ترى فالأولى اعتبار الطهارة في الكل كما يفيده أصحاب المتون حيث صرحوا بالطهارة في كل و ملاقاة الماء الطاهر للطاهر لا توجب التنجس، وقد اختاره في فتح القدير“

ترجمہ: بہرحال زمین والے مسئلے میں (کہ خشک ہوکر پاک ہوگئی اور پھر اس پر پانی ڈالا گیا، تو) مجتبیٰ میں کہا: صحیح یہ ہے کہ نجاست واپس نہیں لوٹے گی اور خلاصۃ الفتاویٰ میں یہ ذکر کرنے کے بعد کہ منی سے آلودہ کپڑے کو جب کھرچنے (سے پاک کر لینے) کے بعد پانی لگا، تو مختار قول یہ ہے کہ وہ پھر ناپاک نہیں ہوگا (اس کے بعد خلاصۃ الفتاویٰ میں) کہا: اسی طرح مشہور روایت کے مطابق زمین کا حکم ہے (کہ پانی لگنے سے وہ بھی دوبارہ ناپاک نہیں ہوگی) خلاصہ یہ ہے کہ (جو چیزیں دھونے کے علاوہ کسی اور طریقے سے پاک ہوجاتی ہیں) ان تمام کے پاک ہونے والے مسئلے میں تصحیح اور مختار قول مختلف ہیں، لہٰذا اَولیٰ یہ ہے کہ ان تمام میں طہارت کا ہی اعتبار کیا جائے، جیسا کہ اصحابِ متون کا اسلوب اس چیز کا فائدہ دے رہا ہے کہ اصحابِ متون نے ان تمام چیزوں کے پاک ہونے کی صراحت کی ہے اور پاک پانی جب کسی پاک چیز کو لگے، تو اسے ناپاک کرنے کا سبب نہیں بنتا اسے صاحبِ فتح القدیر نے اختیار کیا ہے۔ (البحر الرائق، جلد 1، صفحہ 393، 394، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارشریعت میں ہے "ناپاک زمین اگر خشک ہو جائے اور نَجاست کا اثر یعنی رنگ و بو جاتا رہے پاک ہو گئی، خواہ وہ ہوا سے سوکھی ہویا دھوپ یا آگ سے۔" (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 401، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بہارِ شریعت میں ہے ”جو چیز سُوکھنے یا رَگَڑْنے وغیرہ سے پاک ہو گئی، اس کے بعد بھیگ گئی، تو ناپاک نہ ہوگی۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 402، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5319

تاریخ اجراء: 07 ربیع الاول 1448ھ/21 اگست 2026ء