ٹانسلز کی وجہ سے تیمم کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
گلے میں ٹانسلزکی وجہ سے غسل میں دشواری ہو تو تیمم کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر محض کلی کا ہی مسئلہ ہوتو ہلکا سا گرم پانی کر کے اس سے کلی کرلی جائے، اور ا گر اس انداز سے پانی پی لیا کہ منہ کے تمام حصوں تک پہنچ گیا، تو کلی والا فرض اس سے بھی ادا ہو جائے گا۔
اور اگر محض گلے پر پانی ڈالنا نقصان دہ ہو، باقی جسم پر پانی بہانا نقصان دہ نہ ہو تو یہ دیکھاجائے کہ کیاصرف ٹھنڈاپانی پہنچانا نقصان دہ ہے یا ٹھنڈا اور گرم دونوں قسم کے پانی پہنچانا نقصان دہ ہیں، اگر صرف ٹھنڈا پانی پہنچانا نقصان دہ ہو، تو گلے کو گرم پانی سے دھو لے، اور باقی جسم چاہے گرم سے دھوئے یا ٹھندے سے، اور اگر ٹھنڈا اور گرم دونوں پانی گلے کے لیے نقصان دہ ہیں، تو گلے کے علاوہ تمام بدن پر پانی بہائے اور گلے کا مسح کرے، اور مسح کرنے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ پانی سے بھیگا ہاتھ گلے کے ہر ہر حصے پر پہنچ جائے، اگر کوئی بھی حصہ خشک رہ گیا تو اس صورت میں غسل نہیں ہوگا، پھر جب یہ عذر ختم ہوجائے تو جس جگہ ہاتھ پھیر کر مسح کیا تھا، اب فورا اسے دھولے۔
اور اگر سارے جسم پرہی پانی بہانا نقصان دہ ہو، تو اگر ٹھنڈا پانی نقصان کرتا ہے، اور گرم پانی نقصان نہیں کرتا، تو گرم پانی سے غسل کرنا ضروری ہے، تیمم کرنا جائز نہیں، ہاں! اگر ایسی جگہ ہو جہاں گرم پانی میسر نہ ہو، یا گرم پانی تو ہو مگر اس سے بھی نہانے کی صورت میں اس مرض کے بڑھنے یا دیر سے ٹھیک ہو نے کاظن غالب ہو یعنی مریضہ کا خود اپنا تجربہ ہو، یا کوئی ایسی واضح علا مت موجود ہو، جس سے مرض کے بڑھنے ،یا دیر سے ٹھیک ہونے کا غالب گمان ہو یا کسی مسلمان ماہر ڈاکٹر نے خبر دی ہو جس کا فاسق ہونا، معلوم نہ ہو، اور اگر ایسا طبیب نہ ہو تو کم از کم یہ ہو کہ وہ ڈاکٹر اپنی فنی مہارت میں معروف ہو، محض ڈگریوں کی لائنوں کو دیکھ کر ماہر نہ سمجھا جائے، اور اس میں بھی احتیاط یہ ہے کہ ایک سے زائد ڈاکٹروں سے رائے لےجب ان کی بات پردل جمے، تو تیمم کرسکتی ہیں، اور پھر جب جتنے پر قدرت ہوتی جائے، اتناحکم بجالاتی جائیں، یعنی جب ایسی صورت ہوجائے کہ ٹھنڈے سے تو نہانا نقصان دہ ہو، لیکن گرم سے نہانے میں ضررنہ ہو، تو گرم سے نہائیں، اگر پورے جسم پرپانی بہانا نقصان دہ نہ ہو، تو پورے پر بہائیں، اور اگر گلے پر بہانا نقصان دہ ہو، بقیہ جسم پر نہیں، تو بقیہ جسم پر بہائیں اور گلے پرمسح کرلیں، پھر جب اتنی صحت یابی ہوجائے، گلے پر بہانابھی نقصان دہ نہ رہے، تو فورا گلے پر بہا لیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے "مريض يخاف إن استعمل الماء اشتد مرضه أو أبطأ برؤه يتيمم ۔ ۔ ۔ و يعرف ذلك الخوف إما بغلبة الظن عن أمارة أو تجربة أو إخبار طبيب حاذق مسلم غير ظاهر الفسق. ترجمہ: مریض کو خوف ہو کہ اگر پانی استعمال کرے گا تو مرض بڑھ جائے گا یا دیر سے ٹھیک ہو تو تیمم کرے اور اس خوف کی پہچان کسی نشانی یا تجربہ کے سبب ظنِ غالب کی وجہ سے ہو گی یا کسی مسلمان طبیب حاذق کے خبر دینے سے کہ جس کا فسق ظاہرنہ ہو۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 1، صفحہ 28، مطبوعہ: کوئٹہ)
غسل کی جگہ تیمم کرنے کے بارے میں تنویر الابصار مع در مختار میں ہے "من عجز ۔ ۔ عن استعمال الماء۔ ۔ لبعدہ ۔ ۔ میلا۔ ۔ او لمرض ۔ ۔ ۔ او برد یھلک الجنب او یمرضہ ولو فی المصر اذا لم تکن لہ اجرۃ حمام ولا ما یدفئہ۔۔تیمم" ترجمہ: جو شخص پانی کے ایک میل دورہونے یااپنے مرض یا ایسی سردی کی وجہ سے اس کے استعمال سے عاجز ہو، جو جنبی کو ہلاک یا بیمار کر دے گی، اگرچہ وہ شہر میں ہو، جبکہ اس کے پاس حمام کی اجرت نہ ہو اور نہ ایسی کوئی چیز ہو جس سے سردی کو دور کر سکے،توایسا شخص تیمم کر لے۔ (تنویر الابصار مع در مختارو ردالمحتار، ج 1، ص 440 تا 447، مطبوعہ: کوئٹہ)
البحر الرائق میں ہے ”المريض إذا تيمم للمرض ثم زال مرضه انتقض تيممه كما صرح به قاضي خان في فتاويه“ ترجمہ: مریض جب مرض کی بنا پر تیمم کرے پھر اس کا وہ مرض جاتا رہے تو اس کا تیمم ختم ہوجائے گا، جیسا کہ علامہ قاضی خان علیہ الرحمہ نے اپنے فتاوٰی میں اس کی صراحت فرمائی ہے۔ (البحر الرائق، کتاب الطھارۃ، ج 02، ص 267، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے بیماری میں اگر ٹھنڈا پانی نقصان کرتا ہے اور گرم پانی نقصان نہ کرے تو گرم پانی سے وُضو اور غُسل ضروری ہے تیمم جائز نہیں، ہاں! اگر ایسی جگہ ہو کہ گرم پانی نہ مل سکے تو تیمم کرے۔ (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 02، صفحہ 347، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے اگر سر پر پانی ڈالنا نقصان کرتا ہے تو گلے سے نہائے اور پورے سر کا مسح کرے۔ (بہار شریعت، جلد 01، حصہ 02، صفحہ 347، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: غسل کی حاجت ہوتو اگر مضرت (نقصان) صرف ٹھنڈا پانی کرتا ہے گرم نہ کرے گا اور اسے گرم پانی پر قدرت ہے توبیشک پورا غسل کرے اتنی جگہ کو گرم پانی سے دھوئے باقی بدن گرم یاسرد جیسے سے چاہے، اور اگرہر طرح کا پانی مضر ہے یا گرم مضر تو نہ ہوگا مگر اسے اس پر قدرت نہیں تو ضرر کی جگہ بچا کر باقی بدن دھوئے اور اس موضع پر مسح کرلے ۔ ۔ ۔ ۔ جب اتناآرام ہو کہ اب خود وہاں پانی بہانا مضر نہ ہوگا فوراً اُس بدن کو پانی سے دھولے غرض رخصت کے درجے بتادئے گئے ہیں جب تک کم درجہ کی رخصت میں کام نکلے اعلی درجہ کی اختیار نہ کرے اور جب کوئی نیچے کا درجہ قدرت میں آئے فوراً اُس تک تنزل کرآئے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 1، حصہ دوم، صفحہ 618، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک اور مقام پہ ارشادفرماتے ہیں: اس صورت میں تیمم کی اجازت نہیں ہوسکتی بلکہ ضرر نہ ہو تو پاؤں دھونا فرض ہوگا ضرر کرے تو مسح کا حکم لازم ہوگا مثلاً ٹھنڈے وقت پاؤں دھونا ضرر کرتا ہے تو گرم وقت میں پاؤں دھوئے اور سرد وقت میں پاؤں پر مسح کرے یا سرد پانی سے دھونا نقصان دیتا ہے تو گرم سے پاؤں دھوئے مسح نہ کرے یا پاؤں کے ایک حصّے پر پانی ضرر پہنچاتا ہے دُوسرے پر نہیں اور وہ دوسرا حصہ یوں دھو سکتا ہے کہ نقصان والے حصّے کو پانی نہ پہنچے تو اس حصّے کا دھونا فرض اور اُس حصے پر مسح کرے غرض مقدار قدرت دیکھی جائے گی پھر جتنے عضو پر مسح کا حکم ہوگا اُس پُورے ٹکڑے پر بھیگا ہاتھ ایک ایک ذرّے پر پہنچنا لازم ہوگا ۔(فتاوی رضویہ، جلد 3، صفحہ 308، 309، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5284
تاریخ اجراء: 24 صفر المظفر 1448ھ / 08 اگست 2026ء